آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عید قرباں کے بعد ہر گھر میں تقریباً روز ہی گوشت پکایا جارہا ہوتا ہےاور انواع و اقسام کے کھانے تیار کیے جارہے ہوتے ہیں۔ کہیں باربی کیو کا دھواں اٹھ رہا ہوتا ہے تو کہیں بریانی اور چانپ کی خوشبو آرہی ہوتی ہے۔ 

لیکن ان خوشیوں اور مسرتوں سےآپ تب ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب آپ صحت مند رہیں۔ اگر گوشت کھانے میں احتیاط نہیں کریں گے تو طبیعت ناساز ہونے کا امکان پیدا ہوجائے گا، یہی وجہ ہے کہ عید قرباں پر عموماً اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اور یہ سلسلہ کچھ روز تک جاری رہتا ہے۔ لوگوں کے بیمار ہونے کی بنیادی وجوہات میں گوشت کی اضافی مقدار کھانا، بے احتیاطی کرنا، پانی نہ پینا اور ورزش نہ کرنا قابل ذکر ہیں۔ آئیے آج کے مضمون میں جانتے ہیں کہ آپ کس طرح صحت مند اور تندرست نظر آسکتے ہیں ۔

گوشت اچھی طرح دھونا

عید قرباں پر گوشت کو مختلف طریقوں اور مزیدار ریسیپی سے تیار کیا جاتا ہے لیکن اس سےقبل گوشت کا اچھی طرح دُھویا جانا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق قربانی کے گوشت کو خوب اچھی طرح دھوکر پکایا جائے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ باربی کیو کی تیاری کے دوران بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ بوٹیاں کچی نہ ہوں، نہ ہی خون لگا گوشت پکائیں جبکہ کوئلے بھی اچھی طرح جل کر سرخ ہوجائیں ورنہ گوشت میں کاربن شامل ہوسکتا ہے۔

یومیہ گوشت کی مقدار

طبی ماہرین کے مطابق عید الاضحیٰ کے بعد معمول سے زیادہ گوشت کا استعمال آپ کو بیمار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کی اہم وجہ گوشت کا بآسانی ہضم نہ ہو نا ہے، لہٰذا گوشت کی اضافی مقدار ڈائریا اور قبض جیسی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ ماہرین صحت کی رائے کے مطابق ایک صحت مند انسان(150پاؤنڈ وزن) کے لیے دن بھر میں گوشت کی مناسب مقدار کی حد97.5گرام ہے۔ 

طبی ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیےلال گوشت کا استعمال ممنوع قرار دیتے ہیں، لہٰذا انھیں کلیجی اور مغز کا استعمال تو ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس ڈاکٹر کے مشورے سے کم مقدار میں گوشت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب بلڈ پریشر اور قلبی امراض میں مبتلا افراد کے لیے بھی گوشت کا استعمال معالج کے مشورے سے کرنا ضروری ہے۔

کھانے کے بعد سبز چائے

عید کے بعد گوشت پکنے معمول کا حصہ ہوتا ہے، ایسے میں آپ خود کو گوشت کھانے سے نہیں روک پاتے۔ لہٰذا ایسی صورت میں کھانے کے بعد سبز چائے (گرین ٹی) کا استعمال یقینی بنائیں۔ ایک کپ لیمن جوس یا گرین ٹی انسان میں میٹابولزم کی شرح کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب گرین ٹی بغیر چینی کے تیار کی گئی ہو۔

پھلوں اور سبزیوں کا استعمال

اپنی خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کو بھی شامل رکھیں تاکہ آپ کی غذا میں توازن برقرار رہ سکے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ عید قرباں پرزیادہ تر لوگ دوپہر اور رات کے کھانے میں گوشت کا استعمال کرتے ہیں، لہٰذا صبح ناشتے میں پھلوں اور دیگر ضروری غذائی اجزاء استعمال کرنے پر توجہ دیں۔ 

اپنی صبح کا آغاز 2سے3گلاس لیموں ملے گرم پانی سے کریں، ساتھ ہی کم کیلوریز پر مشتمل غذاؤں کا انتخاب کریں۔ ناشتے میں آپ نارنگی، انڈے اور اسموتھی کا استعمال یقینی بنائیں۔

سوفٹ ڈرنک سے گریز

طبی ماہرین کے مطابق چٹ پٹے کھانوں کے بعد سوفٹ ڈرنک کا استعمال کافی نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ کھانوں کے ساتھ ساتھ سوفٹ ڈرنک استعمال کرنے میں احتیاط برتیں۔ اس کے علاوہ ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا پانی پینے اور برف کی اشیاء استعمال کرنے سے پرہیز کریں اور کولا مشروبات سے تو خاص طور پر بچیں۔

کھانے میں 6گھنٹے کا وقفہ

تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ اگر دن بھر میں دو بار گوشت استعمال کیا جارہا ہے تو ان دونوں کھانوں کے درمیان کم ازکم 6گھنٹوں کا وقفہ ہونا ضروری ہے۔

گوشت کو زود ہضم بنائیں

ماہرین کے مطابق بکرے کا گوشت ہر عمر اورہر مرض کے افراد کے لئے بہتر ہے۔ گائے کے گوشت میں کولیسٹرول بکرے کے گوشت کی نسبت زیادہ ہوتا ہے جبکہ اونٹ کے گوشت میں کولیسٹرول بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین گائے کا گوشت استعمال کرنے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ 

بلند فشار خون کے مریض گوشت کے پکوان میں نمک کم سے کم استعمال کریں۔ دوسری جانب خیال رکھیں کہ گوشت بغیرمسالے یا پھر کم مسالے اور شوربے کیساتھ پکایاجائے کیونکہ تیز مسالوں والا اور بھنا گوشت صحت کیلئے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گوشت کھانے کے شوقین افراد کھانے کے بعد چہل قدمی کو یقینی بنائیں ۔

گوشت زیادہ دن فریز نہ کریں

کوشش کریں کہ قربانی کے گوشت کو تین ہفتوں سے زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ فریز کیا گیا گوشت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔