فرانس میں پاکستانی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تنازع پر کہا کہ یہ وہ دوسری جنگ ہے جس کا آغاز فروری کے آخر میں ہوا، لیکن اس کے بارے میں بہت کم بات کی جا رہی ہے۔
سفیر پاکستان نے افغانستان کی جانب سے دہشتگردوں کی سرپرستی، خواتین کے حقوق، ایران کے بارے میں موقف اور یورپی یونین سے تعلقات پر فرانسیسی میڈیا کو تفصلی انٹرویو میں کہا کہ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف متعدد دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے 28 فروری 2026 سے افغان شہروں پر جوابی کارروائی شروع کی۔
اس صورتحال کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے صحافی میشل توب نے ممتاز زہرہ بلوچ سے تفصیلی ملاقات کی اور ان سے فرانس میں تعیناتی اور فرانس کے بارے میں تاثرات دریافت کیے۔ جس پر ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ وہ جنوری 2025 سے فرانس میں پاکستان کی سفیر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فرانس ایک اہم بین الاقوامی اور یورپی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنیوالا ملک ہے۔ میں اپنی حکومت کی شکر گزار ہوں کہ مجھے یہ موقع دیا گیا کہ پیرس جیسے اہم ثقافتی مرکز اور خوبصورتی شہر میں اپنے ملک کی نمائندگی کروں۔
افغانستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا دراصل پاکستانی افواج نے افغانستان میں موجود بعض دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔یہ گروہ پاکستان میں شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور غیر ملکی شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کئی سال سے جاری ہے خاص طور پر اس وقت سے جب طالبان 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آئے۔
پاکستان نے طالبان حکام سے کئی بار کہا کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کریں لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ ان دہشت گرد گروہوں کو طالبان کی جانب سے تحفظ بھی حاصل ہے، حالانکہ وہ پاکستانیوں کو قتل کر رہے ہیں۔
چند ہفتے قبل دہشت گردوں کا ایک گروہ افغان فوج کی مدد سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے ہمارے فوجیوں کو شہید کیا اور سرحدی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد پاکستان کو کارروائی کرنا پڑی۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ہمارا افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں، دونوں ممالک کے درمیان خاندانی اور سماجی روابط بھی ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں، لہٰذا یہ جنگ نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی ہے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ سرحدی تنازع نہیں ہے، بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی سرحد واضح طور پر متعین ہے اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ اسے تسلیم کرتا ہے۔ اگر دنیا بھر میں پرانی سرحدوں پر دوبارہ بحث شروع ہو جائے تو دنیا میں کبھی استحکام نہیں آ سکتا۔
افغان مہاجرین کے متعلق سوال پر سفیر پاکستان کہا پاکستان نے وقتاً فوقتاً افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولے ہیں۔ سوویت مداخلت کے بعد بھی بڑی تعداد میں افغان پاکستان آئے اور گیارہ سمبر کے بعد بھی مہاجرین کی نئی لہر آئی۔2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں افغان پاکستان آئے۔ آج بھی لاکھوں افغان پاکستان میں رہتے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ جو بھی یہاں رہنا چاہے اسے قانونی دستاویزات کے ساتھ رہنا چاہیے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہے، ہمارے ملک میں مذہبی اقلیتوں کو حقوق حاصل ہیں۔ جبکہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ لیکن افغانستان میں موجودہ نظریہ بہت محدود ہے جہاں خواتین کو مردوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے وہاں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت بھی نہیں۔
اس سوال پر کہ کیا طالبان کو اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں مدعو کیا جا سکتا ہے؟ سفیر پاکستان نے کہا اس وقت کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن پاکستان نے افغان خواتین کی مدد کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے افغان طالبات کو اسکالرشپس دی ہیں، چونکہ طالبان لڑکیوں کو اکیلے سفر کی اجازت نہیں دیتے اس لیے پاکستان نے تجویز دی کہ وہ اپنے والد یا بھائی کے ساتھ آ سکتی ہیں۔
بحران کے حل کے حوالے سے سفیر پاکستان نے کہااس کا حل یہ ہے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے، عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں دباؤ ڈالنا چاہیے کیونکہ یہ گروہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔
فرانس اور یورپی یونین کے اس معاملے پر کردار پر ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا پاکستان کے یورپی یونین اور خاص طور پر فرانس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ہم دہشت گردی کے خلاف تعاون کرتے رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں بعض دہشت گرد گروہوں کو باضابطہ دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
ایران کے حوالے سے سوال پر سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام ہر حال میں ہونا چاہیے۔ کسی بھی ملک پر ایسا حملہ جو اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ہو، قابلِ تشویش ہے۔ ریاستوں کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا عالمی برادری نے 2021 کے بعد افغانستان کی صورتحال پر توجہ کم کر دی ہے، لیکن مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ افغانستان میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور یہ خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔