آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ مشروط طلاق سے کیا مراد ہے؟یہ کن صورتوں میں دی جاسکتی ہے؟ یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں، مشروط طلاق دینے کی مثال بھی بیان فرمادیں۔ (یونس علی،کراچی)

جواب:۔ شوہر طلاق کاوقوع کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر منحصر کردے تو اسےمشروط طلاق کہتے ہیں مثلاًیوں کہے کہ : ”اگر تونے فلاں کام کیا تو تجھے طلاق ہے“چناںچہ اگر بیوی نے وہ کام کرلیا تو طلاق ہوجائے گی ۔شرط جائز ہوتو اس پر طلاق کو معلّق کرنا بھی جائز ہے اورشرط ناجائز ہو تو اس پر طلاق کومعلّق کرنا بھی ناجائز ہے۔ نفس طلاق کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جن صورتوں میں طلاق دینا جائز ہو، ان میں مشروط طلاق دینا بھی جائز ہے، مثلاً میاں بیوی میں ناچاقی اور کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ حقوق اللہ اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی ہورہی ہے اور مصالحت کی کوئی صورت نہیں بن رہی توطلاق دینا جائز ہے اور اس جیسی صورت حال میں مشروط طلاق دینا بھی جائز ہے۔(عالمگیری(1/420، الفصل الثانی فی تعلیق الطلاق۔رد المحتار3/ 227)