آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کے لئے بھارت نے 5اگست 2019ء کو جو کالے قوانین نافذ کئے تھے، انہیں ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اس عرصے میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ پوری مقبوضہ ریاست میں آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا جائے۔ باہر سے ہندوؤں اور ریٹائرڈ فوجیوں کو لا کر آباد کیا جا رہا ہے، جن کے لئے خصوصی رہائشی کالونیاں تعمیر کی گئی ہیں ، مقصد یہ ہے کہ اگر ریاست میں آزادی کی جدوجہد تیزہو اور کشمیری نوجوانوں کی سرگرمیوں پر قابو نہ پایا جا سکے تو ان ریٹائر فوجیوں کی ’’خدمات‘‘ حاصل کی جائیں جو نہ صرف آبادی کے تناسب کی تبدیلی میں مددگار ثابت ہوں بلکہ آزادی کی جدوجہد کچلنے میں بھی معاونت کریں بیشتر مقامات پر مسلمان افسروں کی جگہ ہندو افسر تعینات کر دیئے گئے ہیں مسلمان خال خال ہی نظر آتے ہیں،غیر کشمیریوں کو ریاست میں جائیدادیں خریدنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے، سرمایہ کاری کے نام پر بھی ہندو ساہوکاروں کو کشمیر میں لایاجا رہا ہے جو املاک خرید رہے ہیں، جس کی 5 اگست سے پہلے کسی کو اجازت نہ تھی اب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے غیر کشمیریوں کے لئے ریاست کے دروازے چوپٹ کھول دیئے گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر مسلمان اکثریت کی ریاست ہے۔نریندر مودی جب پہلی مرتبہ 2014ء کے الیکشن کے بعد وزیراعظم بنے تو ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ریاست میں ہندو وزیراعلیٰ لایا جائے۔ ریاستی انتخابات میں انہوں نے اکثریت حاصل کرنے کا جومنصوبہ بنایا وہ ’’1+44‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اس کا مفہوم یہ تھا کہ اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لئے مطلوبہ تعداد (44ارکان) سے ایک نشست زیادہ حاصل کی جائے اور پھر کسی ہندو کو وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ لیکن یہ منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا جب مفتی محمد سعید مرحوم کی جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھری اور بی جے پی دوسرے نمبر پر آئی ،پی ڈی پی کے پاس بھی حکومت سازی کے لئے اکثریت نہیں تھی اس لئے مودی نے ان کے ساتھ جوڑ توڑ شروع کیا اور ان کی جماعت کے ساتھ اس شرط پر حکومت بنانے کے لئے تیار ہو گئے کہ وزیراعلیٰ کا تعلق بی جے پی سے ہو گا اور وہ ہندو ہوگا، مفتی سعید نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ریاست کی نمبرون پارٹی ہے اس لئے وزیراعلیٰ ان کی جماعت سے ہوگا اس پر مودی بگڑ گئے اور ریاست میں گورنر راج لگا دیا حالانکہ ریاستی گورنر نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ لیکن جب راج کی مدت ختم ہو گئی تو بھی صورتِ حال جوں کی توں تھی کوئی بھی جماعت حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں تھی اگر حکومت نہ بنتی تو دوبارہ انتخابات کرانے پڑتے اس لئے مودی نے مفتی سعید کو وزیراعلیٰ تسلیم کر لیا اور انہوں نے ریاست کا اقتدار سنبھال لیا۔ لیکن وہ ایک ہی برس میں انتقال کر گئے تو دوبارہ پہلے والی پوزیشن لوٹ آئی اب کی بار مودی کا مقابلہ مفتی سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی سے تھا، دوبارہ وہی کھیل کھیلا گیا، اس میں بھی ناکامی ہوئی تو محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ تسلیم کرنا پڑا۔

مقبوضہ ریاست کے انتخابات میں کشمیریوں کی اکثریت حصہ نہیں لیتی اور جدوجہد آزادی کا کارواں اپنی جگہ رواں رہتا ہے اس کے باوجود جب مودی کا منصوبہ دوبار ناکام ہو گیا تو انہوں نے ریاست کو بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا اور دوسری بار منتخب ہونے کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر دی، اسمبلی بھی توڑ دی گئی اور سیاسی قائدین کو جیلوں میں بند یا گھروں میں نظر بند کر دیا گیا، حریت قیادت پہلے ہی سالہا سال سے قید میں ہے۔ اب آبادی کا تناسب بدلنے پر توجہ مرکوز ہے اور آزادی پسندوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے لئے کالے قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے انہی کالے قوانین کے تحت مسلمانوں کو ہٹا کر ان کی جگہ ہندو افسر تعینات کئے جا رہے ہیں اسی قانون کے تحت بھارت میں مظاہرے کرنے والوں کی جائیدادوں پر بھی قبضے کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں 5اگست کے بعد جو احتجاجی اقدامات شروع کئے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہرجمعہ کو یوم احتجاج منایاجائے گا لیکن ایک دو بار کے احتجاج کے بعد ہی یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اب ایک سال مکمل ہونے پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ شاہراہِ کشمیر کا نام شاہراہِ سری نگر رکھا گیا ہے ،اس ڈھیلے ڈھالے احتجاج اور سڑک کے بورڈ کے نام کی تبدیلی کی حد تک نمائشی اقدام سے کشمیر کی آزادی میں کیا مدد مل سکے گی یہ تو وزیرخارجہ ہی بہتر جانتے ہوں گے جنہوں نے یہ راستہ تجویز کیا ہے۔ اہل پاکستان کا اضطراب یہ ہے کہ بھارت تو قدم بہ قدم کشمیر کی حیثیت ختم کرتا چلا جا رہا ہے اور ایک سال میں اس نے ایسے درجنوں اقدامات کر ڈالے ہیں ظلم و ستم کی لہر بھی بلند سے بلند تر ہوتی چلی جا رہی ہے ایسے میں ضرورت تو ایسے احتجاج کی ہے جو بھارتی حکومت کا راستہ روک سکے۔ اس کے لئے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد کشمیر کے رہنماؤں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا، مشاورت کے بعد لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ کشمیر کے نام پر سیاست کی نہیں، کشمیر کو سیاست کا محور بنانے کی ضرورت ہے۔