آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سعودی عرب کے قرضے اور بیروت کی تباہی

یہ خبر ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے ایک ارب ڈالرز واپس لے لیے۔پھر اِس بات پر بھی یقین کرنا مشکل تھا کہ تیل کی سپلائی، جو مؤخر قیمتوں پر ہو رہی تھی، چھے جولائی کو ختم ہوگئی اور سعودی عرب کی جانب سے تادمِ تحریر معاہدے کی تجدید نہیں کی گئی۔کیا یہ صرف قرضوں اور تیل کا معاملہ ہے؟ یا یہ ہماری خارجہ پالیسی کے لیے کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ جسے حسبِ معمول یہ کہہ کر پی لیا جائے کہ’’ سفارت کاری میں تو اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔‘‘سعودی عرب ہمارا وہ برادر، دوست اور اتحادی ہے، جسے ہم اب تک پورے اعتماد سے’’ آل ویدر فرینڈ‘‘ کہتے رہے۔

دوسرے الفاظ میں کیسے بھی حالات ہوں، سعودی عرب ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔1965 ء کی جنگ،1971 ء میں پاکستان کا دو لخت ہونا، افغانستان کا مسئلہ، مُلک کی اندرونی سیاسی تحریکیں یا کوئی اور شدید ترین بحران، جس کی سُرنگ کے دوسرے سرے پر اندھیرا ہو، سعودی عرب ہمیشہ ہمارے لیے ایک روشن چراغ رہا اور تیل کے کسی بھی بدترین بحران میں سعودی دوستی ہی کی وجہ سے یہاں انرجی کا پہیّہ رواں رہا۔ سعودی دوستوں نے یہ بھی نہ پوچھا کہ قیمت کی ادائی کیسے اور کب ہوگی۔ پاکستانیوں کا سب سے بڑا خواب کہ مسلم ممالک کے سربراہوں کو اس کی سرزمین پر یک جا کیا جائے، سعودی عرب کے شاہ فیصل ہی کی وجہ سے’’ لاہور اسلامی کانفرنس‘‘ میں شرمندۂ تعبیر ہوا۔ عمران خان نے وزیرِ اعظم کا عُہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا۔

بدترین معاشی بحران میں اسی دورے سے پہلے قرضے کی خوش خبری ملی، جو بعد میں آئی ایم ایف تک دراز ہوئی اور آج کہا جا رہا ہے کہ ہم مشکل وقت سے نکل گئے، لیکن اس سے بھی بڑا احسان یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے زیرِ اثر خلیجی ممالک میں کوئی ساٹھ لاکھ پاکستانی ملازمتیں کر رہے ہیں، اُن کو پانچ چھے سے ضرب دے کر دیکھ لیں، تو پتا چل جائے گا کہ کتنے چولھے اُن کی وجہ سے جَل رہے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ایک برادر مُلک کی طرح سعودی سیکیوریٹی کو ہمیشہ اہم سمجھا۔وہاں ہماری فوج کے دستے تعیّنات رہے اور اس پر ہم فخر بھی کرتے ہیں کہ اسلام کے مقدّس ترین مقامات کی حفاظت کے لیے ہم سب سے آگے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ حیران کُن بات ہے کہ اگست کے پہلے ہفتے میں یہ کیسا سفارتی طوفان آیا، جس سے لازوال دوستی لرز رہی ہے۔

بظاہر سعودی عرب اور پاکستان میں موجودہ تنائو اگست کے پہلے ہفتے میں شروع ہوا۔ بظاہر اِس لیے کہ اصل میں تو یہ گزشتہ سال ہی سے ہی جڑیں پکڑ رہا تھا۔وزیرِ خارجہ، شاہ محمود قریشی نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے جو کچھ کہا، اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ’’ سعودی عرب کو اسلامی تنظیم کا فوری اجلاس بلا کر کشمیر پر پاکستان کی سپورٹ کرنی چاہیے۔ یہ اِس لیے بھی کہ پاکستانی، سعودی عرب کے لیے بہت کچھ کر چُکے ہیں، اس لیے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر اپنا قائدانہ کردار ادا کرے گا۔‘‘لیکن جس جملے نے معاملہ خراب کیا، وہ یہ تھا کہ’’ اگر سعودی عرب نے ایسا نہ کیا، تو اسلام آباد خود مسلم ممالک کا اجلاس بلا لے گا۔‘‘اس پر اینکر نے پوچھا’’ وِد یا وِد آئوٹ سعودی عرب۔‘‘تو شاہ صاحب نے کہا کہ’’دونوں صُورتوں میں۔‘‘ کچھ ماہرین کا کہنا تھا کہ شاہ صاحب ماحول کے زیرِ اثر ، جذبات اور جوشِ خطاب میں کچھ زیادہ ہی کہہ گئے، کیوں کہ دوسرے ہی دن اُنہوں نے ایک اور ٹی وی پروگرام میں’’ ٹون ڈائون‘‘ کرنے کی کوشش کی، لیکن فارن آفس نے اسے ڈپلومیسی سے ڈیل کرنے کی بجائے فوراً شاہ صاحب کے بیان کو مُلکی پالیسی قرار دے دیا، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ کس کا مشورہ تھا۔اس کے ساتھ ٹاک شوز اور پروگرامز کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا، جس میں ماہرین کی ایک فوج سعودی عرب پر پاکستان کے احسانات گنوا کر ثابت کرتی رہی کہ یہ سب بالکل درست ہوا اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔ڈپلومیسی ایک انتہائی حسّاس معاملہ ہے، اسے پہلے فارن آفس اور ماہرین کی سطح پر دیکھا جاتا ہے، پھر کُھلے عام بیانات کا نمبر آتا ہے۔اسے ٹی وی ٹاک شوز اور ٹویٹس کے ذریعے نہیں چلایا جاتا۔

یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔پہلے بیان آتا ہے، پھر بحث شروع ہوجاتی ہے۔سعودی عرب نے اسے کس طرح لیا، اس کا اندازہ فوراً ہی ہوگیا۔یہ طے ہے کہ نقصان ہوچُکا ہے اور اب تلافی کی کوشش کی جارہی ہے۔ خبریں ہیں کہ آرمی چیف، جن کا موجودہ پاک، سعودی تعلقات میں کلیدی کردار ہے، سعودی عرب جائیں گے اور اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت کریں گے۔ان ملاقاتوں سے اچھے نتائج کی اُمید کی جانی چاہیے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان موجودہ عالمی تناظر میں دُوری قطعاً مناسب نہیں، لیکن جو دراڑ پڑ چُکی ہے، وہ تو وقت ہی بَھرے گا۔

سب سے پہلے تو دیکھنا ہوگا کہ سعودی عرب کے موجودہ قرضوں اور تیل فراہمی کی کیا صُورتِ حال ہے، کیوں کہ اصل تنازع انہی کی گرد گھومتا ہے۔پی ٹی آئی اقتدار میں آئی، تو جو پہلی بات کہی گئی، وہ یہ تھی کہ مُلک دیوالیہ ہوچُکا، معیشت بیٹھ چُکی ہے، خزانہ خالی ہے اور قرضوں کا بوجھ اِس قدر زیادہ ہے کہ اصل تو کیا، ان کے سود کی ادائی بھی ممکن نہیں۔آئی ایم ایف کی شرائط اس قدر کڑی اور عوام دشمن ہیں کہ اس سے قرضہ لینے سے بہتر ہے کہ خود کُشی کر لی جائے۔

اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں وزیرِ اعظم سعودی عرب کے دورے پر گئے اور تین ہی دن میں خوش خبری آگئی کہ سعودی عرب نے تین ارب ڈالرز ڈیپازٹ کے لیے دیے ہیں اور ایسی ہی رقوم متحدہ عرب امارات اور دوسرے عرب ممالک سے بھی آئیں گی، جس کا سب سے بڑا فائدہ اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسد عُمر نے یہ بتایا کہ آئی ایم ایف ڈکٹیشن نہیں دے سکے گا، ہم اپنی شرائط پر قرضہ لیں گے اور اس کے ساتھ ہی ایک خبر یہ تھی کہ سعودی عرب سات سال کے لیے تیل مؤخر قیمتوں پر دینے کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ تیل ہماری درآمدات کا سب سے بڑا بِل ہے، یعنی بارہ ارب ڈالرز، جو وقتی طور پر ختم ہوگیا۔ 

یہ ایک ناقابلِ یقین ،مگر سچّی خبر تھی۔پھر سعودی عرب کی جانب سے محض پندرہ دن میں ڈالرز اسٹیٹ بینک میں آگئے۔یو اے ای سے بھی توقّعات بَر آئیں اور قطر بھی دو ارب ڈالر دینے پر رضامند ہوگیا۔ چین سے بھی اربوں ڈالرز آنے لگے، یعنی جو شروعات سعودی عرب سے ہوئی، وہ مُلکی معیشت سنبھالنے لگی۔بحران ٹلنے لگا، آئی ایم ایف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں ہونے لگیں۔چھے ماہ تک ہماری طرف سے معاہدے کا’’ اوکے‘‘ سگنل نہیں دیا گیا۔اُدھر جب سعودی ولی عہد اسلام آباد آئے، تو پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری سے ایک آئل ریفائنری کے معاہدے کی بات ہوئی، جس سے یورو معیار کا تیل حاصل ہوسکے گا۔ 

یہ بھی بتایا گیا کہ اس سے ہم آئل ایکسپورٹ کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔ اسلام آباد آمد پر وزیرِ اعظم، عمران خان تمام پروٹوکول ایک طرف رکھتے ہوئے ولی عہد، محمّد بن سلمان کو خود ڈرائیو کر کے وزیرِ اعظم ہاؤس تک لائے۔جب بھارت سے فروری میں کشیدگی بڑھی، تو سعودی عرب نے ثالثی کی کوشش بھی کی کہ جنگ نہ ہو۔ یہ سب بہت خوشی کا باعث تھا اور اسی وجہ سے مُلکی معیشت سنبھلنے کی خوش خبریاں کوئی اور نہیں، خود وزیرِ اعظم دے رہے تھے۔

عمران خان ستمبر 2019 ء میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے گئے، تو ایک نئی پیش رفت سامنے آئی۔تُرکی کے صدر، طیب اردوان، ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمّد اور عمران خان کے درمیان ایک ملاقات ہوئی، جس میں طے پایا کہ ایک انگریزی ٹی وی چینل کھولیں گے، جس سے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کیا جائے گا۔ شان دار جذبہ تھا، لیکن کیا اسلامو فوبیا صرف ان تین مسلم ممالک کے شہریوں کے خلاف تھا؟ اُس وقت بھی ہم نے عرض کیا تھا کہ او آئی سی کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے۔ یقیناً او آئی سی کے کردار پر بہت سے سوالات بھی ہیں۔ شام میں پانچ لاکھ مسلمان قتل کیے گئے،روس اور ایران نے کُھلے عام مداخلت کی،او آئی سی کیا کرسکی یا اُسے کیا کرنے دیا گیا؟ کُردوں کو عراق سے شکایات ہیں، وہ علیحدگی تک پر تیار ہوئے، او آئی سی کیا کر سکی؟یمن کا مسئلہ گرم ہے ،مگر او آئی سی وہاں کتنی مؤثر ہے؟ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے میں اُس نے کیا کیا؟ 

بیروت میں حالیہ تباہی پر کوئی سرگرمی دیکھنے میں آئی؟ تیل کی گرتی قیمتوں سے عرب دنیا پر اقتصادی دبائو نے پاکستان اور دیگر ممالکوں کے تارکینِ کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، اس میں او آئی سی نے کیا کیا؟ اسے کسی نے فعال کرنے کی زحمت کی؟ 57 ممالک کا یہ فورم اقوامِ متحدہ کے بعد سب سے بڑا بین الملکی فورم ہے، لیکن کیا اسے فعال بنانے میں مسلم ممالک کے عوام، اہلِ دانش، مذہبی رہنماؤں نے کبھی سنجیدگی دِکھائی؟پھر اس سے بڑی بڑی توقّعات وابستہ کرلینا اور اس بنیاد پر برادر ممالک سے عشروں پُرانی دوستی کو دائو پر لگانا کیا واقعی سفارت کاری ہے؟ جب مہاتیر محمّد ملائیشیا کو ترقّی کے عروج پر لے جارہے تھے، تو اُنہیں کبھی او آئی سی سے دِل چسپی نہ ہوئی۔مہاتیر محمّد نے ملائیشیا میں مسلم ممالک کے اہلِ دانش کی کانفرنس بلائی، جسے اسلامی کانفرنس کہا گیا۔

ہمارے مُلک میں کچھ ماہرین نے اسے او آئی سی کا نعم البدل کہا، حالاں کہ یہ ایک این جی او کے تحت ہوئی تھی۔پہلے وزیرِ اعظم، عمران خان نے اس میں شرکت کی حامی بَھری، پھر سعودی عرب کے کہنے پر معذرت کر لی۔تُرکی کے صدر نے اس پر خاصا کڑوا بیان دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان نے سعودی عرب کی بات تو مان لی، لیکن اس سے شاید سعودی عرب کو یہ سگنل گیا کہ اسلام آباد کی دوستی ہاں اور ناں کے درمیان آگئی ہے اور یہ پیغام دوسرے ممالک کے لیے بھی اہم تھا، جو پاکستان کا بُرے وقت میں ساتھ دیتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ ڈپلومیسی میں پہلو بدلنے پڑتے ہیں، لیکن اُنھیں طریقے اور آداب سے دوسروں سے منوایا جاتا ہے۔امریکی امداد کے بعد جو کچھ ہمیں بھگتنا پڑا، اُس سے ہم نے ایک جملہ سیکھ لیا ہے کہ’’ ڈکٹیشن نہیں لینی، ایڈ نہیں، ٹریڈ چاہیے۔‘‘مہاتیر محمّد تو اب گم نامی میں جاچُکے اور نئی ملائیشین حکومت نے بھارت مخالفت کا عندیہ نہیں دیا۔اردوان کورونا کی وجہ سے آزمائش میں ہیں۔شام کے مسئلے، کُردوں سے لڑائی، گرتی معیشت اور لیرا کی قدر میں 36 فی صد گراوٹ نے اُنہیں بہت ایسے اقدامات پر مجبور کردیا ہے، جو شاید وہ آج سے دس برس قبل سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔تُرکی ہمارا بہت عزیز برادر مُلک ہے۔ہمیں اُس کا ساتھ دینے پرفخر ہے، لیکن توازن کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ہم تُرکی کے شُکر گزار ہیں کہ وہ کشمیر پر ہمارا ہم آواز ہے اور ہر اچھے بُرے وقت میں ہمارا ساتھی ہے۔

جواباً ہم نے بھی ایسا ہی کیا ہے، بلکہ پاکستان بننے سے قبل تحریکِ خلافت میں بھی ہم نے تُرکوں کی حمایت کی اور اُس وقت کی بڑی طاقتوں برطانیہ، فرانس اور روس سے لڑ بیٹھے، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ تُرکی بھی اپنے مفادات مقدّم رکھتا ہے۔پاک ،سعودی تعلقات کبھی بھی کسی غیر معمولی اونچ نیچ سے نہیں گزرے ۔گزشتہ پورے عشرے میں ایران، سعودی کش مکش چلتی رہی، جس نے شام اور یمن میں خوف ناک خون ریزی کی شکل اختیار کی۔ دونوں ممالک کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ مسلم دنیا کی لیڈرشپ کے خواہاں ہیں۔اسی طرح آج کل تُرکی، سعودی تنائو کی باتیں ہو رہی ہیں۔پاکستان کی پالیسی ہمیشہ مسلم دنیا کی یک جہتی کے فروغ کی رہی ہے، البتہ اُسے اپنے عوامی اور مُلکی مفادات کو بھی دیکھنا ہوگا۔

سانحۂ بیروت سے مسلم دنیا ہل کر رہ گئی ہے۔ 4 اگست کو ہونے والے دھماکوں کے بعد سے بیروت مسلسل کراہ رہا ہے۔آدھا شہر تباہ ہوگیا۔159سے زاید ہلاکتیں ہوئیں اور 5000 سے زاید افراد زخمی ہیں۔عارضی وزیرِ اعظم سمیت پوری کابینہ مستعفی ہوچُکی ہے۔ لبنانی صدر نے کہنا ہے کہ’’ دھماکے کی وجہ امونیم نائیٹریٹ کا وہ ذخیرہ تھا، جو بندرگاہ کے گودام میں برسوں سے رکھا ہوا تھا۔‘‘دھماکے کی شدّت اِس قدر زیادہ تھی کہ 250 کلومیٹر دُور قبرص میں بھی زلزلے کی شکل میں اسے محسوس کیا گیا۔ پندرہ ارب ڈالرز کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔لبنان کی طاقت وَر سیاسی جماعت اور ملیشیا، حزب اللہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ’’ اُس کا اس ذخیرے سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ ساری دنیا نے اس تباہی کی مذمّت کی، جب کہ فرانس کے صدر پہلے غیر مُلکی سیاسی رہنما تھے، جو بیروت پہنچے۔

یاد رہے، لبنان نے فرانس ہی سے آزادی حاصل کی تھی اور اس کے لبنان سے قریبی معاشی تعلقات ہیں۔ماہرین کے مطابق، امونیم نائیٹریٹ ایک دھماکا خیز کیمیکل ہے، جو جنگوں سے لے کر سِول ورکس تک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خشک دانوں کی شکل میں ہوتا ہے اور زرعی کھاد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔اس میں تیل ملا کر تعمیراتی شعبے میں بطور دھماکا خیز مواد کے کام میں لایا جاتا ہے۔ بیروت پورٹ پر موجود اس مواد کی کہانی پُراسرار سی ہے۔یہ وہاں کیسے آیا؟ اطلاعات کے مطابق، یہ ذخیرہ سات سال پہلے بیروت لایا گیا۔ معتبر غیر مُلکی میڈیا رپورٹس میں جہاز روس کی ملکیت بتایا گیا ہے۔روسی جہاز امونیم نائیٹریٹ لے کر جارجیا سے روانہ ہوا، جس کی منزل موزمبیق تھی۔ بیروت کی بندرگاہ پر جہاز میں خرابی ہوئی۔وہ مالی مشکلات سے بھی دوچار تھا،لہٰذا کرایہ نہ دے سکا، تو پورٹ حکّام نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔یوں عملہ جہاز پر محصور ہوگیا۔

یہ باتیں جہاز کے کپتان نے دھماکے کے بعد بتائیں۔ کسٹم حکّام نے بار بار عدالت سے درخواست کی کہ اس کا فیصلہ کر کے جہاز کو روانہ کیا جائے، لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر جہاز اسی طرح پورٹ پر کھڑا رہا۔ دو سال بعد جہاز کے عملے کو آزاد کردیا گیا اور امونیم نائیٹریٹ گوداموں میں منتقل کردی گئی۔اب کوئی بھی جہاز کی ملکیت تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ایسا لگتا ہے، یہ خود بخود سمندر سے نمودار ہو گیا۔ تباہی کی جو وجہ ابھی تک میڈیا میں آئی ہے، وہ ویلڈنگ کے عمل میں بے احتیاطی تھی، جس کے شعلے نے آگ بھڑکا کر سب کچھ بھسم کر ڈالا۔

لبنان میں گزشتہ سال حکومت کی نااہلی کے خلاف ہنگامے ہوتے رہے۔حکومت پر کرپشن اور بیڈ گورنینس کے الزامات تھے۔ آئینی طور پر لبنان کا صدر عیسائی، وزیرِ اعظم سُنّی اور اسپیکر نیشنل اسمبلی کا شیعہ ہونا ضروری ہے۔بظاہر تو یہ سیاسی توازن قائم کرنے کا ایک اچھا فارمولا ہے، لیکن یہی اس کی سب سے بڑی کم زوری ہے اور مشکلات کا سبب بھی ۔لبنان اپنے وجود سے اب تک فسادات،خانہ جنگیوں، جنگوں اور مظاہروں کی آگ میں جل رہا ہے۔فرانس کے دورِ غلامی میں بیروت مِڈل ایسٹ کا پیرس کہلاتا تھا۔ ترقّی، تعلیم اور امن کی مثال۔سیّاحوں کا مرکز تھا۔آزادی کے بعد صرف انتشار کی آماج گاہ بن گیا۔1980 ء کی خانہ جنگی، فلسطینی کیمپس کی الم ناک داستانیں، یاسر عرفات کا امریکی جہاز پر بیروت سے فلسطینی مجاہدین کے ساتھ کسم پُرسی کی حالت میں انخلا کسے یاد نہیں۔ 

لاکھوں افراد اس خانہ جنگی میں ہلاک ہوئے، جب کہ ایران اور عرب دنیا کسی نہ کسی طور اس میں ملوث رہی۔ فرقہ واریت، سیاسی دھڑے بازی اور مسلّح جتّھوں کا راج رہا۔روز کی خون ریزی معمول بن گئی۔شامی صدر حافظ الاسد نے مداخلت کرتے ہوئے یہاں فوجیں اُتاریں، تو اُن کا لبنان سے انخلا بھی ایک مسئلہ بن گیا۔پھر حزب اللہ وجود میں آئی، جو شروع میں تو ایک ملیشیا تھی۔اُسے ایران کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، اس طرح ایران بھی لبنانی کش مکش کا حصّہ بن گیا۔حزب اللہ اُس کی مِڈل ایسٹ میں سب سے بڑی اور طاقت وَر پراکسی سمجھی جاتی ہے۔بعدازاں، حزب اللہ نے سیاسی کردار اپنالیا اور آج اُس کی مرضی کے بغیر کسی حکومت کا لبنان میں کام کرنا ممکن نہیں۔لبنان کے انتہائی مقبول وزیرِ اعظم ،رفیق حریری کا موقف تھا کہ شام، لبنان سے اپنی فوجیں نکالے۔(سابق وزیرِ اعظم سعد حریری اُنہی کے صاحب زادے ہیں )۔شام نے بڑی مشکل سے فوجیں نکالیں۔ رفیق حریری کو 2005ء میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک کردیا گیا۔ 

اُس وقت سے یہ معاملہ لبنان کے لیے حلق کی ہڈی بنا ہوا ہے۔جب تمام کوششیں کرلی گئیں اور کوئی نتیجہ نہ نکلا، تو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کاؤنسل سے رجوع کیا گیا، جس نے ایک عالمی ٹریبونل بنایا، جس کا کام رفیق حریری کے قاتلوں کا تعیّن کر کے اُنہیں انجام تک پہنچانا تھا۔یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ اقوامِ متحدہ کا فیصلہ پندرہ سال کی مسلسل کوشش کے بعد جمعے کو سُنایا جانا تھا، لیکن دو روز قبل ہی دھماکا ہوگیا اور فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔