آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

علی اکمل

اماں صغریٰ کا بیٹا فوجی وردی میں ملبوس تھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔اس کے ہر اٹھتے قدم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جارہی تھیں۔ وہ چھٹی پر گھر واپس آ یاتھا۔ اس کی ماں گھر سے باہر اس کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی، ماں نے اپنے فوجی بیٹےکی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ننھا انس اپنی امی کے پہلو میں کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔یہ منظر دیکھ کر وہ فرط جذبات سے بولا ،’’امی ،امی‘‘ ۔’’میں بڑا ہوکر فوجی بنوں گا‘‘انس پرعزم لہجے میں بولا۔

اس کی بات سن کر اس کی ماں بے اختیار ہنس دی ۔’’ ضرور بننا میرے بچے‘‘۔ اس واقعے کو ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ایک خبر سب کو سوگوار کرگئی۔اس فوجی کی چھٹی منسوخ ہوگئی تھیں کیونکہ پڑوسی ملک کے ساتھ حالات کشیدہ ہوچکے تھے اور دونوں ملکوں نے اپنی اپنی فوجیں سرحد پر تعینات کردیں تھیں ۔محلے کے تمام لوگوں نے اسے دعائوں کے سائے میں رخصت کیا، اس کی ماں نے اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر کہا ،’’جا بیٹا رب کے حوالے‘‘۔سرحد پر پڑوسی ملک جارحیت سے باز نہیں آرہا تھا ، پاک فوج کے جوان اسے منہ توڑ جواب دے رہے تھے۔ ایک رات دشمن ملک کے فوجی چوہے کی مانند پاک وطن میں گھس آئے۔ زور کی جھڑپ ہوئی۔ 

اماں صغرٰی کا بیٹا بہادری سے لڑ رہا تھا۔ دشمن پسپائی اختیار کرنے پر مجبوہوگیا۔ دشمنوں نے بوکھلا کر ٹینک سے ایک گولہ داغا ۔ اماںصغرٰی کا بیٹا خون میں نہا گیا ۔اس نے زخمی حالت میں بھی مشین گن پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور دشمن پر آگ و آہن برساتا رہا لیکن جلد ہی زخموں کی تاب نہ لا کر شہادت کا رتبہ حاصل کیا ۔اس کا جسد خاکی ایک تابوت میں رکھا تھا۔ چھ فوجی جوانوں نے اسے اٹھایاہوا تھا ۔ اس تابوت پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جارہی تھیں ۔ہر چہرہ سوگوار تھا ۔ ہر آنکھ نم تھی ،مگر شہید ہونے والے فوجی کی ماں کے چہرے پر بلا کی طمانیت تھی۔ اشارے سے اسے بوسہ دیا اور بولی،’’ جا بیٹا تجھے رب کے حوالے کیا‘‘۔

نو سالہ انس نے ان مناظر کا گہرا اثر لیا ۔ رات سونے سے پہلے اس نے اپنی امی سے پوچھا،’’ امی۔۔۔۔ فوجی انکل کو کیا ہوا؟ ‘‘

’’ وہ پاک وطن کا دفاع کرتے ہوئے قربان ہوگیا ‘‘۔ امی کی آواز میں درد تھا ۔

’’میں بھی بڑا ہوکر شہید بنوں گا‘‘ اس کی بات سن کر امی تڑپ کر رہ گئی اور اپنے لخت جگر کو آغوش میں لے لیا۔

انس ماں کے ردعمل پر حیران ہوا ۔اگلے دن وہ خود ہی صغریٰ خالہ کے ہاں چلا گیا۔’’خالہ، خالہ ۔۔۔ میں بڑا ہوکر فوجی بنوں گا اور آپ کے بیٹے کی طرح شہادت حاصل کروں گا‘‘۔

خالہ نے اسے خوب پیار کیا۔’’میں قربان میرے بچے ، اللہ تجھے سلامت رکھے۔‘‘

’’خالہ،ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔‘‘ انس کچھ سوچتے ہوئے بولا

’’ وہ کیا بیٹا‘‘۔ خالہ نے پوچھا۔

’’ آپ اپنے بیٹے کی شہادت پر نہیں روئیں تھیں لیکن جب میں نے اپنی امی سے شہید ہونے کا ذکر کیا تو وہ زاروقطار رونے لگیں ، ایسا کیوں ہے ؟۔۔۔۔

’’وہ اس لیے بیٹا کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ شہیدہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ میرا بیٹا وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوا ہے ۔ وہ زندہ ہے‘‘۔

’’دفاع کا سن کر انس چونک پڑا ’’دفاع کا ذکر تو امی نے بھی کیا تھا ،یہ دفاع کیا ہوتا ہے؟

’’ بیٹا ، جب دشمن ہماری سرحدوں پر یا ہمارے ملک پر حملہ کرے تو اس کو ایسا کرنے سے روکنا اور د او ان سے مقابلہ کرانا ہی دفاع وطن کہلاتا ہے ۔‘‘

’’اچھا اچھا سمجھ گیا،دفاع سرحد پر کیا جاتا ہے اور یہ کام فوجی ہی کرتے ہیں ‘‘۔

’’نہیں بیٹا دفاع ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔‘‘

’’میں سمجھا نہیں خالہ جان‘‘۔انس نے حیران ہوکر کہا۔

’’ اسکول جانا اور تعلیم حاصل کرنا تم پر فرض ہے ۔ جومحرکات تمہیں تعلیم حاصل کرنے سے روکیں وہ تمہارے دشمن ہیں اور ان محرکات سے اجتناب اور گریز بھی دفاع کی ایک قسم ہے ۔‘‘خالہ نے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’سمجھ گیا ‘‘۔وہ خوشی سے بولا ۔ اس نے دفاع کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا ۔

پھر بہت سے دن گزر گئے ۔ گرمی کی وجہ سے گھر کے تمام افراد چھت پر سوتے تھے۔ ایک رات کھٹکے کی آواز سے انس کی آنکھ کھل گئی ۔ وہ چپکے سے اٹھا اور پڑوس کے گھر کے صحن میں دیکھا ۔۔۔ اگلہ لمحہ قیامت خیز تھا۔وہ چپکے سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ بغیر آواز پیدا کیے بیرونی دروازے کی کنڈی کھولی اور گلی میں چلا آیا ۔ گلی سے نکلتے ہی اس نے سر پٹ دوڑ لگا دی ۔اس کے چاروں طرف اندھیرے اور سڑک ویران تھی ۔

اچانک اس نے اپنے عقب میں روشنی محسوس کی ۔ اس نے اپنا رخ بدلا اور گاڑی کی سمت میں دوڑنے لگا ۔ گاڑی بھی اسی طرف آرہی تھی۔ جیسے ہی وہ گاڑی کے قریب پہنچا ۔ چند افراد گاڑی سے کود کر نیچے اترے اور انہوں نےانس کو دبوچ لیا۔انس گھبراگیا۔روشنی کی وجہ سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں تھیں ۔’’سر،یہ کوئی گھر سے بھاگا ہوابچہ معلوم ہوتا ہے‘‘ ۔

انس نے دیکھاوہ ایک پولیس موبائل تھی ۔’’ڈاکو‘‘اس نے جلد ی سے کہا۔‘‘

’’ڈاکو؟ کہاں ہیں ڈاکو‘‘؟ آفیسر ہنس دیا۔

’’ ہمارے پڑوس میں ‘‘ اس نے بتایا ۔’’ تم نے کیا دیکھا ، انسپکٹر نے پوچھا ۔‘‘

’’ وہ تعداد میں تین ہیں وہ گھر کے افراد کو باندھ رہے تھے ۔‘‘’’ٹھیک ہے چلو۔‘‘  انس کی رہنمائی میں پولیس موبائل اس کے گھر کی طرف روانہ ہوئی۔ انسپکٹر نے فون پر ہیڈ کوارٹر اطلاع کردی تھی ۔ اس سارے عمل میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگے تھے۔ چند لمحوں بعد ایک زوردار دھماکا ہوا ۔ سوئے ہوئے لوگ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ایک عجیب سا شور سنائی دے رہا تھا ۔ پولیس آپریشن کامیاب رہا ، ایک ڈاکو مارا گیا،دو ڈاکو گرفتار ہوچکے تھے۔ پولیس دیوار پھاند کر گھر میں داخل ہوئی تھی ۔ 

لوگ حیران تھے کہ پولیس کو اس کی خبر کیسے پہنچی ۔ انسپکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ،’’ آپ لوگ نہیں جانتے کہ اس محلے میں ایک بہادر ننھا سپاہی رہتا ہے‘‘ ۔انسپکٹر نےانس کو اپنے پاس بلایا اور کہا یہ ہے ’بہادر ننھا سپاہی ، جس کی بدولت آج مجرم کیفر کردار تک پہنچے‘‘۔

لوگوں کے ہجوم میں خالہ صغری ٰبھی موجود تھیں، وہ آگے بڑھیں اورانس کو سینے سے لگا کر بولیں یہ پاکستانی مسلمان بچہ ہے ۔ اسے یہ ہمت اور جرت وراثت میں ملی ہے۔