• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لکھنؤ ڈرم قتل کیس: بیٹے کے ہاتھوں والد کے بہیمانہ قتل کی وجوہات سامنے آ گئیں

فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی شہر لکھنؤ میں پیش آنے والے ڈرم قتل کیس کی ہوش رُبا تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اکشَت پرتاپ سنگھ نے رقم کی چوری اور شراب کے لائسنس کے تنازع پر ہونے والے جھگڑے پر پہلے اپنے والد منویندر سنگھ کو گولی مار کر قتل کیا اور پھر لاش کے ٹکڑے کر کے اسے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی تھی۔

ابتدائی تحقیقات سے متعلق پولیس کا بتانا ہے کہ 19 فروری کی رات منویندر سنگھ گھر پہنچا تو 50 لاکھ روپے کی نقدی تجوری سے غائب تھی، پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ اکشَت نے یہ رقم شراب کے لائسنس کی تجدید کے لیے چرائی تھی جس پر دونوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، غصے میں باپ نے بیٹے کو تھپڑ مارا اور رائفل تان دی۔

پولیس کے مطابق اسی رنجش میں اکشَت نے رات تقریباً 4 بجے اپنے والد کے کمرے میں جا کر اِسی رائفل سے والد کو گولی مار دی۔

بعد ازاں لاش کو گھر کے ایک کمرے میں منتقل کر کے مشین سے ٹکڑے کیے گئے، ہاتھ، پاؤں اور سر الگ کیے گئے اور جسم کے حصے لکھنؤ کے مضافاتی علاقے سدراؤنا کے قریب دو دن میں پھینکے گئے۔

رپورٹس کے مطابق دھڑ کو نیلے ڈرم میں ڈال کر سلیپنگ بیگ میں لپیٹا گیا اور بدبو دبانے کے لیے روم فریشنر استعمال کیا گیا، 22 فروری کو ڈرم ٹھکانے لگانے کی کوشش اس وقت ناکام ہوئی جب شراب کی دکان کا اکاؤنٹنٹ گھر آ گیا۔

اس ہولناک واقعے کی چشم دید گواہ ملزم کی بہن بتائی جا رہی ہے جسے خاموش رہنے کی دھمکی دی گئی تھی، پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے اکشَت نے والد کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروائی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قتل سے چند دن پہلے اکشَت نے زیورات اور نقدی چوری کر کے الزام ملازمہ پر ڈالا تھا۔ ہمسایوں کے مطابق اکشت منشیات کا عادی تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت لے جاتے وقت اکشَت نے اپنے باپ کے قتل پر افسوس کا اظہار اور کسی دوسرے اہلِ خانہ کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید