ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین کی شریانیں مردوں کے مقابلے میں اوسطاً صاف ہیں، تاہم اس سے دل کے امراض کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔
امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے جریدے سرکیولیشن کارڈیو وسکیولر امیجنگ میں شائع ہونے والی تحقیق میں 4200 سے زائد بالغ افراد کا مطالعہ کیا گیا، نتائج کے مطابق شریانوں میں رکاوٹ یا ایتھیروسکلروسس خواتین میں 55 فیصد جبکہ مردوں میں 75 فیصد پائی گئی۔
تحقیق کے دوران یہ حیران کن بات سامنے آئی کہ خواتین میں پلاک کا حجم مردوں کے نصف ہونے کے باوجود دل کے کسی واقعے کا خطرہ تقریباً برابر رہا، دو سال کے فالو اپ کے بعد خواتین میں مردوں کے برابر اموات کا خطرہ اور غیر مہلک دل کا دورہ یا اینجائنا کے امکانات پائے گئے۔
مزید برآں، تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ خواتین میں دل کے امراض کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں کم پلاک لیول پر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، یعنی 20 فیصد کے پلاک لیول پر جبکہ مردوں میں یہ 28 فیصد پر شروع ہوتا ہے اور پلاک کے بڑھنے کے ساتھ خطرہ تیزی سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر مینوپاز کے بعد۔
تحقیق کے سربراہ محققین نے کہا کہ چونکہ خواتین کی کورونری شریانیں چھوٹی ہوتی ہیں، اس لیے تھوڑی سی مقدار میں پلاک بھی زیادہ اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ تحقیق مردوں اور خواتین میں دل کے امراض کے ارتقاء میں حیاتیاتی اختلافات کو اجاگر کرتی ہے اور جنس کے لحاظ سے خطرے کے اندازے اور احتیاطی حکمت عملی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔