آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا کا سب سے چھوٹا اور خوبصورت محل

دور دراز اور شور شرابے سے دور علاقوں میں بنے چھوٹے گھر ہمیشہ ہی خوبصورت لگتے ہیں اور دل کو بھاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ گھر کے بجائے پورا محل ہوتو کیا ہی کہنے۔

برطانیہ میں واقع دنیا کا سب سے چھوٹا محل ‘مولیز لاج’ کے نام سے مشہور ہے، جو 0.61 ایکڑ پر بنا ہوا ہے۔ انیسویں صدی میں بننے والے اس محل کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ یورو یعنی تقریباً 6 لاکھ 87 ہزار ڈالرز ہے۔

گرگٹ رنگ کیسے بدلتا ہے

گرگٹ کی طرح کسی شخص کے رنگ بدلنے کا محاورہ تو آپ نے سن رکھاہوگا اور گرگٹ واقعی میں اپنا رنگ بدلتاہے، جس کی کوئی ٹھوس وجہ معلوم نہیں ہوسکی لیکن اب سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے یہ معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔ سوِئس سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرگٹ اپنا رنگ جلد کے اندر مخصوص خلیوں میں رنگوں کے کرسٹلز کی ترتیب کو اوپر نیچے کر کے بدلتا ہے اور گرگٹ کی جلد میں موجود خلیوں کو ’آئینے‘ سے تشبیہ دی ہے۔ سائنسدانوں کاکہنا تھا کہ گرگٹ کی جلد میں خلیوں کی ایک دوسری تہہ بھی دریافت کی، جس کی مدد سے یہ رینگنے والا جانور ’انفرا ریڈ‘ روشنی کو منعکس کرتا ہے جو اسے اپنا جسم ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یونیورسٹی آف جنیوا کے کوانٹم فزکس اور ارتقائی حیاتیات کے شعبوں کے سائنسدانوں کا کہنا ہے، گرگٹ دو طریقوں سے رنگ پیدا کرتا ہے۔ ایک تو اس کے جسم میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جن میں گہرے یا گرم رنگ بھرے ہوئے ہوتے ہیں، جبکہ چمکدار نیلے اور سفید رنگ اس کی جلد کے اس پرت سے نکلتے ہیں، جہاں سے رنگ منعکس ہوتے ہیں۔ 

ان دونوں اقسام کے رنگ آپس میں مل بھی جاتے ہیں، جیسے نیلے رنگ کے خلیے کے اوپر سے جب پیلا رنگ گزرتا ہے تو گرگٹ چمکدار سبز دکھائی دیتا ہے۔تحقیق کے مطابق رنگوں کی اس آمیزش کے علاوہ گرگٹ کے رنگ میں کچھ تبدیلیاں اس وجہ سے بھی آتی ہیں کہ وہ اپنے خلیوں میں موجود رنگین مادے کو ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں منتقل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یعنی جب تمام رنگ گرگٹ ایک جگہ جمع کر دیتا ہے تو اس کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے، جبکہ ان کے بکھرنے سے اس کا رنگ ہلکا ہو جاتا ہے۔

دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ

کینیڈا اور امریکہ کی سرحد پر “St. Lawrence River” نامی دریا بہتا ہے۔ اس دریا میں دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ واقع ہے جسے “Just enough room” نام دیا گیا ہے۔ یہ جزیرہ اتنا چھوٹا ہے کہ اس پر صرف ایک گھر اور اس کے ساتھ درخت ہی کے لیے جگہ ہے۔ اسے دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ مانا جاتا ہے۔

وکی پیڈیا کے مطابق یہ جزیرہ 3,300 مربع فٹ پر مشتمل ہے۔ اسے ’’Seizland‘‘ خاندان نے 1950ء میں خریدا تھا۔ یہ جزیرہ ایک گھر، ایک درخت، چند جڑی بوٹیوں اور ایک چھوٹی سی ساحل پر مشتمل ہے۔