آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کہاوتیں محاورے اور... اُن سے منسوب دل چسپ کہانیاں

مدثراعجاز، لاہور

دنیا میں بولی جانے والی ہر زبان میں کچھ ایسے جملے یا الفاظ ضروررائج ہوتےہیں ،جن کا استعمال گفتگو یا تحریر میں نہ صرف دل چسپی پیدا کرتا ہے، بلکہ مقصدِ بیان بھی واضح کردیتا ہے۔ اُردو زبان میں ایسے جملوں کو ’’محاورے ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اہلِ زبان کے مطابق محاورے دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے، جو اپنے حقیقی یا لغوی معنی کے برعکس اصلاحی یا تمثیلی معنی میں استعمال ہو۔

محاوروں کا خالق کون ہے اور یہ کیسے وجود میں آئے، اس کا حتمی اندازہ لگانا، تو ممکن نہیں، مگریہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی تجربہ، مشاہدہ یا دل چسپ کہانی ضرور پوشیدہ ہوتی ہےاور ان کہانیوں میں دانائی کا کوئی ایسا پہلو ضرور ملتا ہے، جو رہنمائی و اصلاح کا سبب بنتا ہے۔ محاوروں کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ یہ زبان زدِعام ہوتے ہیں اوراہلِ علم کے علاوہ عام لوگ بھی ان سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ اُردو زبان میں رائج محاورے دل چسپ ہونے کے ساتھ نصیحت آموز بھی ہیں۔ان میں سے کچھ محاوروںکے پیچھے پوشیدہ کہانیاںزیرِ نظر مضمون میں پیش کی جارہی ہیں۔

نودو گیارہ ہوجانا

یہ محاورہ فوراً بھاگ جانے یا غائب ہو جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔کہا جاتاہےکہ برّصغیر میں ریلوے کا آغاز لوگوں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہ تھا، لوگ تفریحِ طبع کے لیے ریل گاڑیوں کو آتا جاتا دیکھنے ریلوے اسٹیشن جاتے اور اگر اندر نہ جانے دیا جاتا، تو باہر کھڑے رہ کر لوہے کے ڈبّوں کو بھاگتا دیکھتے اور انجن کی سُریلی آوازیں سُنتے۔

اُس زمانے میں ریل گاڑی اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے نو بار گھنٹی بجاتی تھی،جس سے مسافروں اور ریل دیکھنے آئے لوگوں کو پتا چل جاتا کہ ریل پہنچنے والی ہے ،پھر ریل کچھ دیر پلیٹ فارم پر کھڑی رہتی اور اگلے اسٹیشن کے لیے روانہ ہونے سے پہلے دو بار گھنٹیاں بجاتی ۔جس سے سب کو پتا چل جاتا کہ ریل ،اگلے اسٹیشن کے لیے روانہ ہورہی ہے ۔ ریل کے آنے اور جانے کی گھنٹیوں کا یہ نظام اتنا عام ہو گیا کہ محاورہ’’ نو دو گیارہ ہوجانا‘‘ آئی، رُکی اور فوراً چلی گئی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

رنگے ہاتھوں پکڑے جانا

یہ محاورہ کسی غلطی یا دورانِ جرم پکڑے جانے والےکے لیے بولاجاتا ہے۔اس کے بارے میںمشہور ہے کہ اس کا استعمال سب سے پہلے انگریزی زبان میں کیا گیا۔سیکڑوں سال قبل اسکاٹ لینڈ میں لوگ ایک دوسرے کے پالتو جانور ما ر کر فرار ہو جاتے، حکومت کو اصل مجرموںتک پہنچنے میں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ۔ جب معاملہ زیادہ بڑھ گیا ،تو لوگوں نے اپنے گھروں کی نگرانی سخت کردی ، انہی دِنوں رات کو ایک شخص کو اپنے باڑے میں کچھ ہلچل محسوس ہوئی، وہ جلدی سے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اُس کا ہم سایہ، اس کی گائے چوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

اس دوران گائے زخمی بھی ہوگئی، جس کے خون سے ہم سائے کے ہاتھ سُرخ ہورہے تھے ۔گائے کے مالک نے شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کر لیا اور وہ سب ملزم کو اُسی حالت میں پکڑ کر کوتوال کے پاس لے گئے۔کوتوال نے جب ملزم کے ہاتھ گائے کے خون سے رنگےدیکھےتو کہا ’’یہ تو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا‘‘۔بس، اُسی دن سے یہ کہاوت مشہور ہوگئی ۔

دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی

یہ کہاوت اُس وقت بولی جاتی ہے ،جب سچ اور جھوٹ کا فرق معلوم ہو جائے اوردونوں واضح ہو کر الگ الگ ہو جائیں۔اس کہاوت کے پیچھے قصّہ کچھ یوں ہے کہ کسی زمانے میں ایک گوالا اپنی اکلوتی بھینس لے کر گائوں سے دولت کمانے شہر چلاگیا اور دودھ میں پانی ملاکر بیچنا شروع کردیا، ملاوٹ والا دودھ بیچ بیچ کر جب اُس کے پاس بہت سی سونے کی اشرفیاںجمع ہو گئیں تو اُسے اپنے گاؤں کی یاد ستانے لگی، اُس نے سوچا گاؤں جا کربچّوں سے ملاقات بھی کرلے گا اور اشرفیاں بھی گھر میں کسی محفوظ جگہ چُھپا دے گا۔اُس دَور میں سفر آسان نہ تھا ، لمبے لمبے فاصلے پیدل ہی طے کرنا پڑتے،گوالے نے ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ اُسے نیند آگئی ،پاس ہی ایک ندی بہہ رہی تھی، اُس نے اشرفیوں کا تھیلا اپنے سر کے نیچے رکھا اور ندی کنارے بے خبر سو گیا۔

ندی کنارے درختوں پر شرارتی بندروںکا بسیرا تھا،اُن میں سے ایک بندر کی نظر اتفاق سے سوئے ہوئے گوالے کے تھیلے پر پڑگئی ۔اُسے شرارت سوجھی، وہ چپکے سے تھیلا اُٹھا کر درخت پر چڑھ گیا۔ گوالے کی آنکھ کُھلی تو اپنی جمع پونجی بندروں کے ہاتھ دیکھ کر گھبرا گیا۔ہزار حیلے بہانوں کے باوجود بندروں نے تھیلا واپس نہ کیا۔ ایک بندر کے دل میں جانے کیا سمائی،اُس نے تھیلا کھول کر اشرفیاں گوالے کی طرف پھینکنا شروع کردیں۔

اب اسے انصاف کہہ لیں یا اتفاق کہ ایک اشرفی گوالے کے پاس گرتی تو دوسری ندی میں ۔گوالا کچھ دیر تو یہ سب دیکھتا رہا، پھر اپنے آگے گری اشرفیاں اُٹھانے لگا۔ پاس ہی کچھ لوگ کھڑے یہ سب ماجرادیکھ رہے تھے، جو گوالے کی ملاوٹ کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔ اُن میں سے ایک بولا، چلو میاںگوالے ! دودھ کا دودھ ہو گیا اور پانی کا پانی، یعنی دودھ کے پیسے تمہیں مل گئے اور پانی کے پیسے پانی کو۔

اُلٹی گنگا بہنا

اگر کوئی عقل و خردیا رسم و رواج کے برعکس کا م کرے ،تو اُس کے بارے میں یہ محاورہ بولا جاتا ہے ۔اس محاورے سے یہ کہانی وابستہ ہے کہ ایک شخص کی بیوی بڑی موٹی عقل کی تھی ، اُسے جب بھی کوئی عقل کی بات بتاتا ،تو وہ ہمیشہ اُس کے اُلٹ کام کرتی۔ایک روز اُس کا اپنے میاں سے جھگڑا ہو گیا،تُوتُو، مَیں مَیں زیادہ بڑھی تو بیوی نے غصّے میں میکے جانے کا اعلان کردیا۔ میاں نے پیار سے روکنا چاہا ،تو عادت کے مطابق بیوی نے اُس کی بات پر اُلٹ عمل کیا اور میکے کی طرف روانہ ہوگئی ۔میاں اُسے روکنے پیچھے پیچھے بھاگا ۔راستے میں دریائےگنگا آگیا۔ 

میاں چیخ کر بولا،’’ بیوی !دریا سے آگے نہ جانا ‘‘، مگر بیوی نے پھر بھی میاں کی بات پر عمل نہیںکیا اور دریا میں چھلانگ لگا دی۔ میاں نے جب دیکھا کہ بیوی حسبِ عادت اُس کی باتوں پر اُلٹا عمل کر رہی ہے ،تو اُسے کنارے سے اُلٹی طرف تیرنے کا مشورہ دیا۔ اِرد گرد کے لوگوں نے جب یہ سُنا تو بولے ’’میاں! اپنی بیوی کو اُلٹا مشورہ کیوں دے رہے ہو؟‘‘ میاں فوراً بولا ’’میری بیوی کی گنگا اُلٹی بہتی ہے ۔‘‘بس اُسی دن سے یہ محاورہ مشہور ہو گیا۔

دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے

یہ محاورہ اُس وقت بولا جاتا ہے، جب کسی کام کے نتیجے کے بارے میںکوئی اندازہ لگنا مشکل ہو۔کہتے ہیں کسی گائوں میں ایک کسان اور کمہار میں بڑی دوستی تھی ،دونوں تھے بھی بڑے محنتی۔ کسان، کٹائی کے بعد فصل اپنے اونٹ پر لاد کرقریبی شہر کی بڑی منڈی میں لے جا کر فروخت کرتا، جب کہ کمہار اپنے بنائے برتن دُکان میں رکھ کر بیچتا۔ یوںگزر بسر اچھی ہو رہی تھی ۔ایک روز کسان نے سوچا، اگر کمہار بھی اُس کی طرح اپنے برتن شہر کی منڈی میں بیچا کرے ،تو وہ کچھ زیادہ پیسے کما سکتا ہے ،بس فیصلہ ہوا کہ اس بار کمہار بھی اپنے مٹی کے برتن لے کر کسان کے ساتھ شہر جائے گا اور وہاں کی بڑی منڈی میں دونوں اپنا اپنا سامان بیچ کر گاؤں واپس آجائیں گے۔

روانگی کے روز کسان نے اپنے کھیت سے کاٹی سبزیاں اونٹ کے ایک طرف باندھیں ۔ دوسری طرف کمہار نے اپنے مٹی کے برتن رکھ لیے اور دونوں شہر کی طرف روانہ ہوگئے ۔ کسان ،جو اونٹ کا مالک تھا ،جانتا تھا کہ اونٹ جب بیٹھتا ہے توجسم کا ایک طرف زمین پر لگا کر بیٹھتا ہے ۔اُسے خیال آیا کہ اگر اونٹ برتنوں والی طرف ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تو کمہار کے سارے برتن ٹوٹ جائیں گے۔

اُدھر کمہار زیادہ نفع کمانے کے لیے اپنے دوست سے بار بار پوچھتا کہ اُسے سارے برتنوں کے کتنے پیسے ملیںگے ،جس پر کسان ایک ہی جواب دیتا ،’’دیکھیں اونٹ کس کل ( کروٹ ) بیٹھتا ہے‘‘ کمہار کو اس جواب کی کچھ سمجھ نہ آتی،ایسے ہی شہر کی منڈی آگئی ۔جب اونٹ بیٹھنے لگاتوکسان کی ساری کوششوں کے برعکس اونٹ برتنوں والی کروٹ بیٹھ گیا، اپنے برتنوں کو ٹوٹتا دیکھ کمہار کی حالت غیر ہو گئی، مگر اُسے کسان کا جواب خوب سمجھ آگیا ۔اُسی دن سے یہ محاورہ بھی مشہور ہوگیا۔

بلّی تھیلے سے باہر آگئی

یہ محاوہ کسی سازش کے بے نقاب ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ کہاجاتاہے کہ پُرانے زمانے میںانگلستان میں بحری فوج کے مجرموں کو سزا دینے کے لیے ایک کوڑا استعمال کیا جاتا تھا، جس کے ایک سِرے پر چمڑے کی نو عددرسیّاں لگی ہوتی تھیں، یعنی مجرم کو ایک کوڑے میں نو کوڑوں کے برابر تکلیف برداشت کرناپڑتی۔

اس کوڑے کو انگریزی زبان میں’’ Nine o cat ‘‘کہاجاتا تھا ۔ اس کوڑے کو حفاظت سے ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا جاتا اور اس کا استعمال صرف سنگین جرم کے مرتکب مجرموں پر کیا جاتا۔جب بھی اس کوڑےکا استعمال کیا جاتا، تو فوج کے افسر بڑے شوق سے اس کا نظارہ اور شدّت سے انتظار کرتے کہ کب’’ Nine O Cat ‘‘تھیلے سےباہر آئےگا۔آہستہ آہستہ یہ بات اتنی مشہور ہوگئی کہ انگریزی زبان میں محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ محاورہ اردو میں بھی رائج ہو گیا۔

بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا

ہمارے بزرگوں کو ’’ چھینکا‘‘ کا استعمال یاد ہو گا، پُرانے وقتوں میں جب فریج اور فریزر ایجاد نہیں ہوئے تھے ،تو خواتین بچا ہواکھانا ،دودھ ،مکھن وغیرہ جالی کے ٹوکرے میں رکھ کر صحن میں اُسے کسی اُنچی جگہ پر لٹکادیتی تھیں ،تاکہ وہ بلّی سمیت دیگر جانوروں اور حشرات سے محفوظ رہے۔ جالی سے بنے دھات کے اس ٹوکرے کو چھینکا کہا جاتا ہے ۔بلّی چھینکے میں رکھے اس کھانے تک پہنچ تونہیں سکتی تھی ،مگر ساری رات اس کے ارد گرد کھانے کی خو ش بُو سونگھنے منڈلاتی رہتی اور انتظار کرتی کہ شاید اس کی قسمت کبھی ساتھ دے اور یہ چھینکا ٹوٹ کر اُس کے سامنے گر پڑے۔

اگر کبھی واقعی کسی رات چھینکا ٹوٹ جاتا اور بلّی کھانا خراب کردیتی ،تو بڑی بوڑھی عورتیں بات بنانے کو کہہ دیتیں کہ ’’یہ کھانا بلّی کے بھاگ (قسمت) میں لکھا تھا ۔‘‘یہ بات اتنی مشہور ہوگئی کہ اردو میں محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگی۔اب یہ محاورہ اُس شخص کے لیے بولا جاتا ہے، جس کوغیر متوقع طور پر کوئی خوشی مل جائے۔