آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے فنانسنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارہ ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘‘ (ایف اے ٹی ایف)کے کہنے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بالآخر وہ تین بل منظور کرا لئے گئے ہیں، جو پہلے سینیٹ میں مسترد ہو گئے تھے اور قومی اسمبلی میں منظور ہو گئے تھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مجلس شوریٰ میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے، جس کے حامی حکومتی حلقے اس پر فخر نہیں کررہے اور اس کی مخالفت کرنے والے صرف اپنی خفت مٹا رہے ہیں کیونکہ اُنہوں نے ان بلز کی پہلے قومی اسمبلی میں حمایت کی تھی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیا ہوا۔ جی ہاں! کیا ہوا؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ اس سوال کو بہت گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سوال معروضی حالات پیدا کرتے ہیں اور ان کا بروقت جواب نہ دینے والی قومیں مزید سوالوں میں اُلجھ جاتی ہیں، جن کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ یہ سوالات عذابِ مسلسل ہوتے ہیں۔ دراصل پاکستان کے سپریم ادارے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو بلز (مسودہ ہائے قانون) منظور کیے ہیں، وہ بنیادی طور پر خصوصی قوانین ہیں، جو دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ہیں اور نہ ہی ایف اے ٹی ایف نے دیگر ملکوں سے ایسے خصوصی قوانین منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خصوصی قوانین خصوصی حالات میں منظور کیے جاتے ہیں اور خصوصی حالات کسی بھی ریاست کے آئین اور سماج کے معمولات کے تانے بانے بکھیر دیتے ہیں۔ بنیادی، جمہوری اور انسانی حقوق معطل ہو جاتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں اور تسلیم شدہ آزادیوں پر قدغن لگا دی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو تین بلز منظور کیے گئے ہیں، وہ اسی نوعیت کے ہیں۔ پہلے اسی طرح کے بلز آمرانہ اور فوجی حکومتوں میں جبراً نافذ کیے جاتے تھے اور اب بین الاقوامی دباؤ سے منتخب ایوانوں سے منظور کرائے جاتے ہیں۔ ہم نے جمہوریت کا معکوس سفر کیا ہے کیا؟

ایف اے ٹی ایف کے ’’حکم‘‘ پر جو تین بلز منظور کیے گئے ہیں، ان میں ایک بل ’’اینٹی منی لانڈرنگ (دوسرا ترمیمی) بل 2020ہے، جس کے تحت اب اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے بیرون ملک رقم بھیجنے والا بھی عتاب میں آسکتا ہے۔ دوسرا اینٹی ٹیررازم (تیسرا ترمیمی ) بل 2020 ہے، جس کے تحت تقریباً ہر لین دین دہشت گردی کے لئے فنڈنگ یا فنانسنگ کے زمرے میں آسکتا ہے اور تیسرا ’’اسلام آباد میں وقف املاک بل 2020ہے، جس کے تحت اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ وقف املاک صحیح مقاصد کے لئے استعمال ہو رہی ہیں یا نہیں۔

ظاہر ہے کہ ان تینوں خصوصی قوانین کا اطلاق حکومتی ادارے ہی کریں گے۔ اِس سے پہلے’’ایبڈو‘‘ ’’پروڈا‘‘ سے لے کر موجودہ نیب آرڈی ننس تک پاس ہو چکے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے خصوصی قوانین، احتساب کے خصوصی قوانین، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی وغیرہ کے تدارک کیلئے خصوصی قوانین اور ان قوانین کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام سب آئین اور سماجی معیارات کے خلاف تھے اور ان کی وجہ سے نہ آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو سکی اور نہ ہی پاکستانی سماج اپنے حقیقی جوہر کے مطابق آگے بڑھ سکا۔ تمام خصوصی قوانین جمہوری، عوامی اور سویلین بالادستی کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ جو قوانین اب منظور ہوئے ہیں، اگرچہ ان کا اطلاق بظاہر حکومت وقت کرے گی لیکن اس کا نقصان، جمہوری، عوامی اور سویلین قوتوں کو ہوگا اور سب سے زیادہ پاکستان کے اس قومی سرمایہ دار کو ہوگا، جو سامراجی بالادستی کے لا شعوری طور پر اس لیے خطرہ ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں اضافہ چاہتا ہے لیکن تیسری دنیا کا سرمایہ دار عالمی سامراج اور اس کی مقامی اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کے لیے خطرہ ہے۔ خصوصی قوانین کسی بھی ریاست اور سماج کیلئے دھبہ ہوتے ہیں اور اس کی خود مختاری اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ۔ یہ صرف مقامی مقتدر حلقوں اور اس کی پشت پناہی کرنے والی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے کئی خصوصی قوانین ہیں اور ان کے تحت کئی ادارے قائم ہیں، جو پاکستان کے مہذب معاشرے پر سوالیہ نشان ہیں۔ ان خصوصی قوانین، عدالتوں اور اداروں سے دنیا میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے۔

جنہوں نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق تین بلز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرائے ہیں۔ اُنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ وہ نہیں ہے، جو 1970کے عشرے میں قائم ہوئی اور وہ ریاست بھی نہیں ہے، جس کا امریکی کیمپ کا اتحادی فوجی آمر ’’فرینڈز ناٹ ماسٹر‘‘ جیسی کتاب لکھتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1949میں احتساب کے خصوصی قوانین بنا کر جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا، وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تین خصوصی بلز منظور کرکے اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ خصوصی قوانین کے ذریعہ پہلے ریاست طفیلی ہوئی تو معیشت میں مزاحمت تھی۔ قومی معیشت کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے پھر خصوصی قوانین بنائے گئے تو پھر سیاست میں مزاحمت شروع ہوئی۔ سیاست کو کچلنے کے لئے پھر خصوصی قوانین بنائے گئے۔ اب سیاست کی آخری مزاحمت کو کچلنے کے لئے خود عالمی طاقتیں کود پڑی ہیں کیونکہ نئی عالمی صف بندی اور چین کی اُبھرتی طاقت کے تناظر میں پاکستان کو پرانی سامراجی طاقتوں کے تابع رکھنے کے لئے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ اب پاکستان کی مینجمنٹ پارلیمنٹ سے یہ خصوصی قوانین منظور کرائے جائیں۔ حکومت ان کا جواز یہ بتا رہی ہے کہ اپوزیشن والے اپنے احتساب سے بچنے کے لئے ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ شرمناک جواز ہے۔