آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اجارہ داری ختم کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہے

آج کل کراچی میں میں "کے الیکٹرک" کی "اجارہ داری" کے خلاف کافی رائے زنی کی جا رہی ہے۔ عمومی بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ "کے الیکٹرک" کی طرف سے کی جانے والی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ اس کی اجارہ داری ہے۔ اگر اس کی اجارہ داری کو ختم کردیا جائے تو کراچی میں ہونے والے بجلی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ یہ مطالبہ سوشل میڈیا پہ بالعموم اور الیکٹرانک میڈیا پہ بالخصوص زور پکڑتا جارہا ہے۔ دوسری جانب کے الیکٹرک کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا جآ رہا ہے کہ مسائل دونوں جانب سے ہیں۔ہمارا مسئلہ بھی جانا جائے۔ بہت سے علاقوں میں بجلی کی چوری ہوتی ہے اور بہت سے علاقوں میں بل ادا نہیں کیے جاتے۔ کنڈے ڈال کر بجلی لینا ایک عام عادت بن چکی ہے بالکل اسی طرح بجلی کے بل نہ ادا کرنا بھی۔ ایسے میں کمی ( شارٹج) کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے؟ دوسری طرف بہت سارے نجی ادارے کے الیکٹرک کے قائم کردہ دہ ٹرانسفار اور بجلی کے کھمبوں کو غیر ضروری اور غیر قانونی استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے شارٹ سرکٹ اور دوسرے نقصانات ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور نقصانات ہوتے بھی ہیں خاص طور پر بارش کے دنوں میں۔ لیکن سارا الزام کے الیکٹرک کے سر آتا ہے جو کہ یقینا ایک زیادتی ہے۔یہ تو ہو گئیں دو طرفہ رائے۔ اب ذرا اس مسئلے کے حل کی طرف بھی جایا جائے۔ آیا اس مسئلہ کا مستقل حل ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کیا کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں راقم نے شعبہ معاشیات، جامعہ کراچی میں "مالیات" کے مضمون(Public Sector Economics) کی ماہر پروفیسر سے بات کی. کیا کے الیکٹرک کی اجارہ داری مسئلہ کا قطعی حل ہے۔ان کا جواب یہ تھا کہ اجارہ اداری ختم کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بلکہ انتظامیہ بدل دینا زیادہ بہتر رہے گا۔ کیونکہ کسی بھی یوٹیلیٹی کی سروس کو مہیا کرنے کا ذمہ ایک ادارہ ہی کو دیا جاتا ہے ۔جس کو معاشیات کی زبان میں نیچرل مناپلی یعنی قدر تی اجارہ داری کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یوں سمجھئیے کہ مثال کے طور پر بجلی ، گیس ، پانی، اور نکاسئ آب یوٹیلٹی سروسز کی فراہمی کے زمرے میں آتی ہے۔ جس کی فراہمی کی عموما ذمہ دار حکومت ہوتی ہے۔ جو یا تو خود یا پھر کسی نجی ادارے کے ذریعے ان سروسز کی فراہمی یقینی بناتی ہے۔ اس کے لیے ابتدائی طور پر ایک بڑی سرمایہ کاری (عام زبان میں جسے فنڈز کہا جاتا ہے)کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی جس جگہ سے بجلی پیدا ہو رہی ہے یا گیس پیدا ہو رہی ہے، یا پانی جمع کرکے صاف کیا جارہا ہے وہاں سے لے کے مختلف شہروں ، گاوں میں لوگوں کے گھروں تک ان کو پہنچانے کے لئے تا روں کی لائن (اگر بجلی ہے) یا پائپ لائنز (اگر گیس، پانی اور سیوریج ہو) بچھائی جاتی ہے۔ جن پہ بہت بڑی لاگت آتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے پہلے لائنیں بچھائی جاتی ہیں۔ پھر اس کے بعد جیسے جیسے گھر بنتے ہیں یا کمرشل صارفین اپنا کاروبار شروع کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ ان سب یوٹیلٹیز کی کنکشنز کے لئے درخواست دیتے ہیں تو کہیں جا کر ان کو کنکشن دیا جاتا ہے۔ اور اداروں کی آمدنی شروع ہوتی ہے۔ یعنی ابتدائی سطح پر بڑے پیمانے پر اخراجات کیے جاتے ھیں اور بہت دیر کے بعد کہیں جاکر آمدنی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اور یوں بھی انفرادی کنکشن دینے میں معمولی رقم وصول ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے صارف اس یوٹیلٹی کو استعمال کرتا اسی حساب سے یہ ادارے بل بھیجتے ہیں جس میں ان اداروں کی فراہم کردہ سروسز کا خرچ بھی شامل ہوتا ہے۔ جو ان کا منافع ہوتا ہے ۔ اب اگر یہ تصور کیا جائے کہ بہت سارے ادارے بجلی کی فراہمی کرئیں۔تو ہر کوئی اپنی لائنیں بچھائے گا ہر کسی کا الگ الگ ٹرانسفارمر ایک ہی علاقے میں موجود ہو گا ۔آپس میں لائینیں کراس ہو رہی ہونگی۔ ایسے میں آپ خود بتائیے جب کوئی مسئلہ ہوگا تو سب کمپنیاں اس کا الزام ایک دوسرے پر ڈالیں گی۔ سارے تار آپس میں ساتھ ساتھ ہوں گے۔ تو ایسے میں ذمہ دار کون ہو گا؟ کیا مسئلہ مزید گھمبیر نہ ہوجائے گا؟ دوسری طرف جو کام ایک خرچے میں ممکن ہے اس کے لئے دو دفعہ یا تین دفعہ اخراجات کئے جانے کی وجہ سے سماجی لاگت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ یعنی وہ خرچہ جو ایک دفعہ ہو سکتا تھا اسے کئی دفعہ دہرایا جائے گا تو کیا اسے cost effective کہیں گے؟ بالکل بھی نہیں ۔اب آئیے انتظامیہ کی ذمہ داری کی طرف۔ واپڈا پورے پاکستان میں سوائے کراچی کے بجلی فراہم کرتی ۔ اسے بھی اجارہ داری حاصل ہے وہاں یہ مسئلہ کیوں نہیں ہوتا اس کی اجارہ داری کے خاتمے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا ؟ جبکہ اس کا دائرہ کار زیادہ وسیع ہے۔ اصل مسئلہ انتظامیہ کا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپکارپوریشن سے جب یہ کے الیکٹرک ہوئی تو اس میں ساری جماعتیں بطور stakeholders شریک ہوئی سب نے اپنے اپنے نمائندے اس ادارے میں اعلی عہدوں پہ لگوائے۔ اور بقول لوگوں اور اخباری خبروں( کیونکہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں) کہ یہ سیاسی رہنما منافع میں بھی شراکت رکھتے ہیں۔ ایسے میں یہ ادارہ افراد کو خوش رکھے گا یا اقتدار کو!اب ایک اور حل کا جائزہ لیتے ہیں کہ حکومت کے الیکٹرک کو پورے کراچی کے بجائے صرف ایک ڈسٹرکٹ کا انتظام دے دے ۔ بقیہ ڈسٹرکٹز کا انتظام اور دوسری کمپنیوں کو دے دے۔ اس طرح ہر ڈسٹرکٹ کا الگ حساب ہو گا اور ان کی پرفارمنس کا مقابلہ بھی ہوگا۔ لیکن سپلائی اور بلنگ تک تو یہ ممکن ہے۔ لیکن جب کبھی کوئی بڑا فالٹ آئے گا فیڈرز بند ہوں گے ۔ ان کو درست کرنے کا ذمہ کون لے گا ؟ یہ سب طے کرنا بہت ضروری ہے۔ جو کہ آسان نہیں ہے۔ ماضی کی غلطی کو درست کرنے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔اب آئیے ایک ہی علاقے میں بہت سارے سپلائرز کیوں نا ہوں ۔ اس کا جواب ہے جب نئے نئے کیبل آپریٹرز آئے تھے اور سب ہر علاقے میں سروس مہیا کر رہے تھے۔تو کیبل کے تاروں کا ایک جال بچھا ہوا ہوتا تھا جو کہ دیکھنے میں بھی برا لگتا تھا۔ اور یہ آپس میں الجھ جاتے تھے جس کی بنیاد پر سروس درست طور پہ مہیا نہیں ہورہی تھی ۔ جس کا حل یہ نکالا گیا کہ ہر علاقے کا صرف ایک ہی کیبل آپریٹر ہو۔ یوں تاروں کا استعمال بھی کم ہوا اور مسائل کا حل بھی ہوا۔ابھی وقتی حل اس مسئلہ کا حل یہ کہ حکومت اس کا انتظام سنبھال لے یا کسی efficient نجی ادارے کے سپرد کر دے۔یوں یہ سارے معاملات ان پروفیسر صاحبہ نے تفصیل سے بیان کردیئے جو راقم آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ اب آپ اپنی آراء سے آگاہ کریں۔

minhajur.rab@janggroup.com.pk