آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستانی سرزمین پر جنم لینے والے مشہور ترین بھارتی فنکار

یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں کہ بھارتی فلمی صنعت میں شہرت کی بلندیوں کو چُھونے والے بہت سے فن کار پاکستانی علاقوں میں پیدا ہوئے، جب کہ ان میں سے بعض نے تو عمر کا ابتدائی حصہ اسی سرزمین پر گزارا، مگر فلموں میں نام کمانے کا شوق انہیں ممبئی لے گیا۔ان فن کاروں کی فہرست میں ممتاز اداکار دلیپ کمار سے لے کر جوہی چائولہ تک کئی فن کار شامل ہیں،جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے وہ شہرت حاصل کی کہ طویل عرصے تک ان کا نام جگمگاتا رہےگا۔بھارت میں پشاور کی پہچان، دلیپ کمار۔بھارتی فلموں کے مقبول ترین ہیروز میں سب سے پہلا نام اُن کا لیا جاتا ہے۔ 

دلیپ کمار جیسی شہرت بہت ہی کم فن کاروں کو نصیب ہوئی۔ ’’مغل اعظم‘‘، ’دیوداس‘‘، ’’ٹیکسی ڈرائیور‘‘، ’’آن‘‘، ’’انداز‘‘، ’’عدل جہانگیر‘‘، ’’امر‘‘ اور ’’دیدار‘‘ سمیت بے شمار فلموں میں کام کرنے والے دلیپ کمار اگرچہ آج ممبئی کے انتہائی پوش علاقے پالی بل باندرا میں رہائش پذیر ہیں، لیکن وہ پشاور کے علاقے قصہ خوانی بازار کے محلہ خداداد کے ایک پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان 1930ء اور 1940ء کے درمیان کے عرصے میں ممبئی منتقل ہوا تھا۔ دلیپ کمار جن کا اصلی نام محمد یوسف خان ہے۔ 1943ء میں اداکارہ دیویکا رانی کی مدد سے فلمی دنیا میں آئے۔ دیویکا رانی ممبئی ٹاکیز کے مالک ہما نشورائے کی بیوی تھیں۔

پشاور کا ایک اور ستارہ نامور اداکار اور ہدایت کار راج کپور 14دسمبر 1924ء میں پیدا ہوئے۔ فلموں میں کلیپ بوائے کے طور پر اپنی فنی زندگی کا آغاز کرنے والے راج کپور نے اگرچہ اپنے والد پرتھوی راج کپور کی فنی وراثت کے دبائو میں اپنا تخلیقی سفر طے کیا ،لیکن اس سفر میں انہوں نے اپنا ایک خاص مقام پیدا کیا۔ ’’آوارہ‘‘، ’’میرا نام جوکر‘‘، ’’شری چار سو بیس‘‘، ’’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘‘ اور ’’سنگم‘‘ جیسی سپرہٹ فلموں کے ہیرو راج کپور نے ’’برسات‘‘ اور ’’رام تیری گنگا میلی‘‘ جیسی فلموں کی ہدایات بھی دیں۔ 

وہ چار دہائیوں تک فلم کے افُق پر راج کرتے رہے۔ راج کپور کے حوالے سے یہ بات بھی نہایت دل چسپ ہے کہ بھارت کے علاوہ روس اور مشرق وسطیٰ تک دیکھے جانے والا یہ فن کار اگرچہ میٹرک کے امتحان میں فیل ہوگیا تھا، لیکن آج ان کا نام بھارت کی یونی ورسٹیوں میں سنیما کے موضوع پر ہونے والی تحقیق کا ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

ونود کھنہ: پشاور کا تیسرا فن کار۔ بھارت کی فلمی صنعت کے انتہائی مقبول ہیرو ونود کھنہ، جنہوں نے بھارتی فلم صنعت پر کئی دہائیوں تک راج کیا تھا اور جنہوں نے بہت سی فلمیں پروڈیوس کرنے کے علاوہ بھارتی سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی تھی۔ وہ 6اکتوبر 1946ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ سنیل دت کی فلم ’’من کا میت‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے ونود کھنہ نے ’’جانباز‘‘، ’’چاندنی‘‘،’’انسان‘‘، ’’جنم کنڈلی‘‘، ’’راجپوت‘‘، ’’انصاف‘‘، ’’میں تلسی تیرے آنگن کی‘‘، اور بے بیشمار فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

قادرخان۔ بلوچستان کے پشین کے پیدائشی بالی وڈ کے انتہائی مقبول وِلن اور کامیڈین قادر خان بھی ان بھارتی نامور اداکاروں میں شامل تھے، جو پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش 22اکتوبر 1935ء کو بلوچستان کے علاقے پشین میں ہوئی۔ وہ ابتدا میں ممبئی کے ایک کالج میں پروفیسر بھی رہے۔ کالج ہی کے ایک ڈرامے میں کام کرتا دیکھ کر دلیپ کمار ان کی اداکاری سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے قادر خان کو فلموں میں کام کرنے پر راضی کرلیا۔ اس بڑے فن کار نے بھارت کی لگ بھگ تین سو فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، اور سو کے قریب فلموں کے ڈائیلاگ لکھے۔ ان کی فلم ’’روٹی‘‘پر انہیں بھارتی وزیراعظم کی جانب سے نقد ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ 

جہلم کے رہائشی سنیل دت، ریڈیو شوز میں معروف شخصیات کے انٹرویو کرکے کام یابی کے زینے طے کرنے والے بھارتی فلموں کے انتہائی کام یاب ہیرو، سماجی کارکن اور سیاستدان ثابت ہوئے۔ انہوں نے بے شمار فلموں میں اپنی بیگم نرگس کے مقابل بھی ہیرو کا کردار ادا کیا۔ برصغیر کا یہ نامور اداکار بھی پاکستان میں ہی پیدا ہوا تھا۔ سنیل دت نے 6جون 1930ء کو پاکستان کے شہر جہلم میں آنکھ کھولی اور ان کا انتقال 74برس کی عمر میں 25ممبئی 2005ء کو ممبئی میں ہوا۔ مذکورہ بالا فن کاروں کے علاوہ اور بھی نامور بھارتی فن کار پاکستان میں پیدا ہوئے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید