آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
خیال تازہ…شہزادعلی
برطانیہ نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے کیونکہ یورپی یونین نے بالآخر اپنے تجارتی مطالبات سے پلکیں جھپکالی ہیں یعنی اب ای یو ایک وسیع تر معاہدہ پر تیار ہے اور اپنے پہلے کے بعض مطالبات سے وہ پیچھے ہٹ گیا ہے جس کے بعد ایک قانونی دستاویز کی تیاری پر کام کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ یہ خوش آئند خبر ہے۔ دی ٹائمز لندنن ے منگل 29 ستمبر نے لکھا تھا کہ ڈیل طے پا جانے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ قانونی معاہدے پر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ یورپی مذاکرات کاروں نے پہلی بار اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ وہ تازہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا مشترکہ قانونی متن لکھنا شروع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ خیال کیا جارہا ہے ہےکہ ایک حتمی معاہدہ کا مسودہ تیار کرنے سے پہلے برسلز نے تنازع کے تمام بقایا حل طلب معاملات پر ایک وسیع معاہدے تک پہنچنے کے لئے فریقین کے اپنے مطالبے کو ڈراپ کردیا ہے جب کہ برطانیہ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ خیر سگالی کے طور پر پر بریگزٹ کے بعد ماہی گیری کے کوٹے اور حکومت کی مستقبل کی سبسڈی پالیسی کے بارے میں تفصیلی بات چیت میں انگیج ہوگا بقایا معاملات میں یہ دو سب سے اہم نکات ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس ہفتے کے مذاکرات کے دور میں لارڈ فراسٹ اور

مشیل بارنیئر کے ذریعہ پیشگی اتفاق کیا گیا ہے جس میں توسیع کردی گئی ہے اور اس میں بقایا مشکلات کے کلیدی شعبوں کے بارے میں مزید سیشنز بھی شامل ہوں گے۔فنانشل ٹائمز نے ماہ جون میں پیش گوئی کی تھی کہ یورپی یونین اور برطانیہ کو سمجھوتہ ہوسکتا ہے اور بریگزٹ امیدیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ بورس جانسن کے ورچوئل سربراہی اجلاس ہوئے جس کے بعد مزاج میں تبدیلی آئی ہے اور کمپرومائز کا ماحول بن رہا ہے۔ ٹم شپ مین سنڈے ٹائمز میں پولیٹیکل ایڈیٹر ہیں اور دو دہائیوں سے ویسٹ منسٹر کی سٹاریزز بریک کر رہے ہیں،ٹم نے بریگزٹ پر دو کتابیں - آل آؤٹ وار اور فال آؤٹ - All Out War and Fall Out — on Brexit لکھی ہیں۔ٹم شپ مین نے لکھا ہے کہ برطانیہ اور برسلز دونوں ایک ہفتہ کے اندر دونوں اطراف سے بعض اہم رعایتوں کے بعد انخلاء تجارت مذاکرات کے حتمی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، اگر مذاکرات کا نواں دور، جو آج منگل ( بوقت تحریر) کو شروع ہو رہا ہے اگر یہ اچھی طرح سے آگے بڑھا تو پھر برطانیہ کے مذاکرات کار لارڈ فراسٹ اور ان کے یورپی یونین کے ہم منصب مائیکل بارنئر، ’’سرنگ‘‘ میں داخل ہونے کی امید کریں گے جہاں حتمی تفصیلات اس ہفتے کے اختتام پر مکمل صیغہ راز میں رکھ کر طے کی جائیں گی۔ توقع یہ ہے کہ اس کے بعد یہ دو ہفتوں کی خفیہ بات چیت کے بعد اور ایک آخری اگریمنٹ اکتوبر کے وسط میں برسلز میں منعقدہ اگلے یورپی یونین کے سمٹ کے بعد روبہ عمل میں لایا جائے گا۔ گزشتہ رات فراسٹ نے ڈیل کے حصول کے لیے نہایت پر امید ہونے کا اظہار کیا ہے اور بہت زیادہ ممکن کا تاثر دیا ہے لندن اور برسلز میں سینئر ذرائع کا کہنا ہے کہ بورس جانسن ایک ڈیل چاہتے ہیں۔ اس انتظام جس کے تحت فراسٹ اور برنیر آگے بڑھ رہے ہیں برسلز برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان مصنوعات کی پڑتال کے حوالے اپنےمطالبات میں شدت سے کمی لے آئے گا۔ برطانیہ بدلے میں برطانوی کاروباری اداروں کو فروغ دینے کے لئے ریاستی امداد کے استعمال کے بارے میں کچھ بیس لائن رولز پر عمل کرنے پر اتفاق کرے گا۔ یہ عمل برطانیہ کو مکمل طور پر یورپی یونین کے قوانین سے منسلک نہیں کرے گا جن پر برسلز پہلے اصرار کرتا رہا ہے ۔ وہ دونوں تنازعات کے میکانزم سے اتفاق کریں گے ۔ نمبر 10 حکام اس متعلق محتاط ہیں کہ ایک معاہدہ ہوگیا ہے لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ فراسٹ کی ٹیم کے ارکان نے نجی طور پر کہا ہے کہ ایک معاہدہ ہوگا۔ ایک ٹوری ذریعہ کا کہنا ہے کہ بورس ایک براہ راست چہرہ کے ساتھ یہ کہہ سکیں گے کہ برطانیہ ۔ ناردرن آئرلینڈ تجارت پر بامقصد پابندیاں نہیں ہیں اور وہ ریاستی امداد پر کچھ یقین دہانی حاصل کر لیں گے۔فراسٹ نے کہا ہے کہ جیسا کہ ہم مذاکرات کے آخری مراحل میں داخل ہورہے ہیں ہم سب اس امر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ ایک تجارتی معاہدہ حاصل کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے، ایک معاہدے اب بھی بہت ممکن ہے لیکن یقین سے بہت دور ہے، غیر رسمی بات چیت کے آخری دو ہفتے نسبتاً مثبت تھے لیکن کام بہت زیادہ رہتا ہے اور وقت بہت مختصر ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم اس عمل کے آغاز سے کہہ رہے ہیں کہ ہم صرف ایک معیاری مفت تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں جیسے کینیڈا کے متعلق تھا، بدقسمتی سے یورپی یونین کی پوزیشن اتنی سیدھی نہیں ہے اور ہمیں اس طرح کے احکامات کو قبول کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے جو اس تبدیلی کی حقیقت کو ظاہر نہیں کرتے جو یورپی یونین سے ہمارے اخراج کا پرتو ہو، اگر ان عوامل میں فرق کو کم کرنا ہے تو پھر یورپی یونین کو اب بھی زیادہ حقیقت پسندانہ پالیسی کی پوزیشنوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ آنے والے ہفتے میں ممکن ہے اور وہ اور ان کی ٹیم آگے بڑھنے کے لئے ضروری کام کرنے کے لئے تیار ہیں، بریگزٹ ٹرازیشن عرصہ جس میں برطانیہ یورپی یونین کے تجارتی قوانین پر عمل پیرا رہا ہے 31 دسمبر کو ختم ہوگا تاہم ابھی تک برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان کسی معاہدے یعنی ڈیل پر اتفاق نہیں ہوپایا ہے جو ان کی آئندہ تجارت کے قوائد و ضوابط طے کرے گا، بی سی کے سیاسی نمائندے کرس میسن کے مطابق، حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جبکہ پیشرفت ہو رہی ہے دونوں فریقوں کے مابین ’’بنیادی خلیج‘‘ پائی جاتی ہے، ان کے جائزہ کے مطابق وقت بہت کم ہے اور کوئی بریک تھرو نہیں یہ وہ جملہ ہے جو شاید اپ ان بریگزٹ مزاکرات میں سماعت کریں، دونوں اطراف کے چیف مزاکرات کار، یوکے کے لارڈ فراسٹ اور ای یو سے مائکل برنیر ہفتہ بھر کی بحث و تمحیص کو جمعہ کو باضابطہ میٹنگ سے پہلے دیکھیں گے، جو کچھ بھی ہوا ایک اہم پوائنٹ ابھر رہا ہے ڈیل کے لیے ڈیڈ لائن فقط اڑھائی ہفتے ہی دور ہے اور اگر دونوں جانب کسی ڈیل پر سال کے اختتام تک پہنچ نہیں پاتے تو پھر برطانیہ ای یو کے ساتھ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قواعد کے مطابق تجارت کرے گا جس کے معنی یہ ہیں کہ اکثر مصنوعات جو برطانیہ کے کاروباری ادارے یورپین یونین کو بھیجیں گے پر ٹیرف کا اطلاق ہوگا جن سے برطانیہ کی مصنوعات زیادہ مہنگی ہو جائیں گی اور انہیں یورپ میں فروخت کرنا دشوار ہو جائے گا، ادھر مائکل گوف کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے کرنے کے لئے دونوں فریق ہر سیکنڈ، ہر منٹ، ہر گھنٹہ استعمال کریں گے، ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی درخواستوں کے باوجود ایک بل کے کچھ حصے جو یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے میں شامل دفعات کو مسترد کرتے ہیں باقی رہیں گے، کابینہ کے دفتر کے وزیر نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات سے متعلق معاہدے تک پہنچنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے پیر کے روز یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے یورپی کمیشن کے ماروس سیفکوچ سے ملاقات کی۔ مسٹر سیفکوچ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی مذاکرات کی پوزیشن ابھی بھی یوروپی یونین جو قبول کر سکتی ہے اس سے بہت دور ہے جب کہ مسٹر گوؤ کا کہنا ہے کہ انخلا کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق بات چیت ایک صحت مند مرحلے پر ہے، تاہم دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ سے متعلق انخلا معاہدے کے کچھ حصوں پر برطانیہ کے پلان پر عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔ مسٹر گوو سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر مسٹر سیفکوچ نے کہا کہ شمالی آئرلینڈ پروٹوکول پر معاہدہ کرنے کے لئے مواقع کی کھڑکی موجود ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیزی سے بند ہو رہی ہے ۔ اختلاف رائے کا مرکز برطانیہ حکومت کے داخلی مارکیٹ بل پر ہے جو برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے مابین سامان کی نقل و حرکت سے متعلق معاہدوں کو کالعدم قرار دے گا۔ اس معاہدے کا مقصد شمالی آئرلینڈ اور ری پبلک کے مابین ایک سخت سرحد کو روکنا ہے جو اب بھی یورپی یونین کا حصہ ہے۔ مسٹر سیفکوچ نے یورپی یونین کی طرف سے برطانیہ سے ستمبر کے آخر تک بل کے ’’متنازع حصوں‘‘ کو ہٹانے کی درخواست کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کسی بھی ’’خلاف ورزی‘‘ سے نمٹنے کے لئے انخلا کے معاہدے میں لکھے گئے ’’قانونی علاج‘‘ کو استعمال کرنے میں ’’شرمندہ نہیں‘‘ ہوگا لیکن مسٹر گوو نے کہا کہ شمالی آئر لینڈ کے بارے میں دفعات داخلی مارکیٹ بل میں رہیں گی، ان کا تبصرہ تھا کہ یورپی یونین میں وہ بھی ہیں جو اندرونی مارکیٹ بل میں شقوں کے بارے میں فکر مند ہیں لیکن وہ آج اس بات پر زور دینے کے قابل تھے کہ یہ شقیں حفاظتی جال ہیں، ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ وہ مشترکہ کمیٹی میں معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں، وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ شمالی آئرلینڈ کی برطانیہ میں پوزیشن محفوظ ہو وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ انخلاء کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہو لیکن یہ شقیں موجود ہیں، وہ قانون سازی میں موجود ہیں جس کی تائید ہاؤس آف کامنز نے کی اور یہ شقیں اس بل میں رہیں گی۔ برطانوی حکومت نے پہلے بھی کہا ہے کہ وہ معاہدہ کی ذمہ داریوں کو نیک نیتی سے نبھائے گی۔

یورپ سے سے مزید