آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مولانا مودودی مرحوم کے ساتھ درویش کی جتنی قربت تھی، ہرگزرتے لمحے کے ساتھ اُس میں اُتنا ہی فاصلہ پیدا ہو چکا ہے اور موقع ملنے پردرویش یہ پوری داستانِ وصل و ہجر رقم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ برادر محترم شعیب بن عزیز نے ایک مدت قبل یہ تقاضا کیا تھاکہ سید حسین فاروق مودودی کی کتاب آفتابِ علم و عرفان پر ایک بھرپور کالم لکھوں۔ حسین فاروق صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اِس مقصد کے تحت اُنہوں نے اپنی کتاب بھی قدرناشناس کو بروقت پہنچا دی۔

مولانا صاحب کے صاحبزادے حسین فاروق نے اپنے والد محترم پر جو کتاب لکھی ہے اُس پر اگر سچائی کے ساتھ جائزہ پیش کیا جائے تو وہ کئی حلقوں کی ناراضی کا باعث بن سکتا ہے۔ کاش وطن عزیز میں کبھی اِس گھٹن میں کچھ کمی آئے تو ہم اپنے سماج کو 80فیصد جھوٹ کے بجائے 80فیصد سچ بتانے کے قابل ہو سکیں۔ درویش کے خیال میں حسین فاروق مودودی نے بڑی جرأت اور حوصلے کے ساتھ کم از کم ففٹی پرسنٹ سچ لکھ ڈالا ہے، خداوند سید حسین فاروق مودودی کو سلامت رکھے وہ کبھی بقیہ ففٹی پرسنٹ سچ بھی اِسی حوصلے کے ساتھ تحریر فرما دیں تاکہ سند رہے اور آنے والی نسلوں کے کام آئے۔ سید حسین فاروق مودودی کی 230صفحات پر محیط کتاب کا مواد جیسا بھی ہے، جلد بندی اور اعلیٰ کوالٹی کا کاغذ خوبصورت تصاویر کے ساتھ بلاشبہ جاذبِ نظر ہے، جس کی قیمت ہزار روپے ہے لیکن جو خواتین و حضرات مولانا صاحب کی فیملی اور فرینڈز کے تنازعات کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لئے شاید یہ مہنگائی کچھ معنی نہ رکھتی ہو۔

مولانا مودودی ایک زمانے میں احباب کے نکاح بھی پڑھایا کرتے تھے، پروفیسر ڈاکٹر ریاض قدیر بھی اُن میں سے ایک تھے۔ بعد ازاں وہ ازراہِ تفنن فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ڈاکٹر ریاض قدیر کا جو نکاح پڑھایا تھا اُس کی فیس میں نے بعد میں اُن کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی حاصل کرتے ہوئے وصول کر لی ہے۔ سید حسین فاروق اِنہی ڈاکٹر ریاض قدیر کے داماد ہیں اور 1986سے اپنی اہلیہ ڈاکٹر فرزانہ فاطمہ قدیر اور بچوں کے ہمراہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں آباد ہیں۔ اُن کے بڑے بھائی ڈاکٹر احمد فاروق مودودی تو اُن سے بھی بہت پہلے مولانا مودودی کی زندگی میں ہی امریکا آباد ہو گئے تھے اور مولانا اُنہی کے کہنے پر 1979میں اپنے علاج کیلئے امریکا تشریف لے گئے اور وہیں اُن کی وفات ہوئی۔ واضح رہے کہ مولانا کے 6بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جو ماشاءاللہ سبھی بقیہ حیات ہیں لیکن شہرت سب سے زیادہ سید حیدر فاروق مودودی نے کمائی ہے جو اپنی صاف گوئی کی بدولت ہمیشہ دو طرفہ تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں وہ کورونا کی گرفت میں آ کر خاصے بیمار ہو گئے تھے یوں قدرت نے اُنہیں نئی زندگی بخشی ہے۔ درویش اُن کی تیمار داری کیلئے گیا تو بڑی محبت و اپنائیت سے پیش آئے اور مشکل ترین موضوعات پر ایسی بےنقط و مدلل گفتگو فرمائی کہ گویا وہ بیمار تھے ہی نہیں۔

سید حسین فاروق نے اپنی کتاب میں مولانا کی حیات و افکار کے علاوہ جماعت کی قیادت سے اُن کے اختلافات اور تنازعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال فرمایا ہے اور یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جماعت کے ایک لیڈر نے اُن سے کہا کہ آپ فتنۂ اولاد میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اولاد اور احباب کے مالی تنازعات اور اِس سلسلے میں ہونے والی خط کتابت کی دستاویزات بھی کتاب ہذا میں شامل ہیں اور دلچسپی رکھنے والوں کیلئے چشم کشا ہیں، اپنی کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے سید حسین فاروق خود رقمطراز ہیں کہ جو ”لوگ موجودہ جماعت اسلامی کی اخلاقی و سیاسی حیثیت میں انحطاط و زوال دیکھ کر کڑھتے ہیں، اُن کی سوالیہ نگاہیں حقیقت جاننا چاہتی ہیں لیکن جماعت کی جانب سے اُن کو کوئی رہنمائی نہیں ملتی جو اُن کی تمام گتھیاں سلجھا کر اُن کی تشفی کر سکے۔ جماعت اسلامی کے غیرواضح، مبہم، الجھے ہوئے اور غیرمتوازن لائحہ عمل کے باعث ہمارے والد کی فکر پر تنقید بلکہ طعن و تشنیع ہوتی ہے جو قطعی مناسب نہیں، ذمہ دار موجودہ جماعت اور موردِ الزام مولانا مرحوم کیوں؟۔ اگرچہ راقم الحروف نہ ادیب ہے، نہ مورخ اور نہ وقائع نویس مگر مولانا مودودی کے خاندان کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے بیشتر واقعات کا عینی شاہد ضرور ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سے احباب کا مسلسل اصرار اور شدید دباؤ آخر کار مجھے یہ تاریخی ”داستانِ الم“ لکھنے پر آمادہ کر سکا ہے“۔

علامہ شبلی نعمانی نے ساری زندگی جس جانفشانی کے ساتھ مقدسات کے متعلق بہت کچھ لکھا اور جس عظمت رفتہ کے گیت گائے آخر عمر میں فرمایا کہ میں نے جھک ماری تعلی بازوں کی تعلی مزید بڑھا کر میں نے کونسی اچھائی کی۔ اسی طرح ایک شخصیت جس نے اتنے ہنگامے اٹھا کر خطے کا جغرافیہ بدلا آخر عمر میں فرمایا مجھے ماقبل معلوم ہوتا کہ اس ساری توڑ پھوڑ کا نتیجہ یہی کچھ نکلنا ہے تو میں کبھی یہ سب نہ کرتا۔ کچھ اسی نوع کی سوچ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مولانا صاحب کے حوالے سے اُبھرتی ہے، صفحہ 182پر یہ الفاظ درج ہیں کہ ”میری زندگی بھر کی تربیت، سارے کام اور محنت پر پانی پھیر دیا گیا ہے“۔