آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

والدین کیسے بچوں کی علم سے دوستی کروائیں

دنیا کے مختلف خطوں میں وہاں کی ثقافت، ذاتی اقدار اور نظریات کی بنیاد پر خواندگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر خواندگی سے مراد تحریر کردہ، بولے گئے، گنگنائے گئے الفاظ یا کھینچے گئے خاکوں سے لی جاتی ہے، جن کے ذریعے انسان اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ بچے اپنے گھروں، کمیونٹیز اور باقاعدہ تعلیم دینے والے اداروں میں مختلف طریقوں سے سیکھتے ہیں۔

تحقیق کیا بتاتی ہے؟

فِجی (Fiji)میں 3سے5سال تک کے بچوں پر ان کے گھروں اور کمیونٹیز میں تحقیق کی گئی۔ تحقیق کے نتائج میں کہا گیا کہ بچے مختلف میڈیا کے ذریعے اپنے گھروں اور کمیونٹیز میں جو کچھ سیکھتے ہیں، اس کے ان کی خواندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق کے طریقہ کار کے مطابق، فِجی میں نمونہ کے طور پرلیے گئے بچوں میں خواندگی کے لیے سازگار ماحول قائم کرنے کی10سرگرمیوں کا بندوبست کیا گیا۔ ان میں اشاعت اور معلومات، مواصلات اور تفریح کی ٹیکنالوجیز، ہنر اور کاریگری، کاغذ پر نشان لگانا، سطح زمین جیسے ریت اور کنکریٹ، روانی سے پڑھنا اور شکلیں تخلیق کرنا، بات چیت کرنا، کہانی سُنانا اور سُنائی گئی حقیقی یا تصوراتی کہانیوں پر اداکاری کرنا، جیسی سرگرمیاں شامل تھیں۔

بچوں کو روانی کے ساتھ پڑھنے، ریکارڈ نگ کرنے، ماحولیات کے موضوع پر بحث مباحثہ کرنے، ماحولیات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے آنے والے موسم کا اندازہ لگانے، موسیقی، گانےاور مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھا گیا۔

بچے اور ان کے خاندان ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف خوب محظوظ ہوئے بلکہ انھیں خاصی اہمیت بھی دی۔ تحقیق کے دوران، کچھ بچوں نے ان سرگرمیوں میں اس حد تک دلچسپی لی کہ محققین نے ان بچوں کے ساتھ ان کی مادری زبان اور انگریزی زبان میں نئی کتابیں بھی مرتب کیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ یہ تحقیق ان تمام والدین کے لیے ایک رہنما مواد ثابت ہوسکتی ہے، جو اپنے بچوں میں ابتدائی عمر میں خواندگی کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔

میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف اَپلائیڈ اکنامکس اینڈ سوشل ریسرچ کے نتائج بھی اسی سے ملتے جُلتے ہیں، جن کے مطابق چھوٹے بچوں کو باقاعدگی سے گھر میں کتاب پڑھ کر سُنانے کی عادت انھیں اسکول جانے اور زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بین الاقوامی طلباء کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے او ای سی ڈی کے پروگرام PISA کے نتائج میں بھی، والدین کی جانب سے اپنے بچوں کو کتاب سے روزانہ پڑھ کر سُنانے اور 15سال کی عمر تک ان بچوں میں روانی کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہونے میں گہرا تعلق جوڑا گیا ہے۔ ایسے بچے اپنے ہم عصر دیگر بچوں کے مقابلے میں ایک سے دو سال آگے رہتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ صرف بچوں کو کتاب سے پڑھ کر سُنانا ہی اہم نہیں ہے۔ اہم یہ بھی ہے کہ والدین اور بچے آپس میں کس طرح کا تعلق پروان چڑھاتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے تعلق کو ایسا ہونا چاہیے، جس کے لیے ’حقیقت پسندانہ‘،’ مثبت‘ اور ’پُرامید‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاسکیں کیونکہ والدین کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پُرامید مستقبل سے متعارف کرواتے رہیں۔

حروف تہجی (Alphabets)کے کھلونے اور الفاظ کو صوتی ترجمانی کے ذریعے پڑھنے (Phonics) کے پروگرام بچوں میں خواندگی بڑھانے کے لیے ایک محدود کردار ہی ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ سیاق و سباق کو علیحدہ رکھ کر صرف ایک لفظ اور اس کے ہجے تک ہی رہتے ہیں۔ الفاظ، ان کے جملوں اور ان کی آوازوں کو اسی وقت ہی سب سے بہتر انداز میں سمجھا جاسکتا ہے، جب انھیں حقیقی زندگی میں دیکھا اور روز مرہ معمولات میں استعمال کیا جائے، اس طرح بچوںمیں شوق اور جذبہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔

والدین کیا کریں؟

ایسی کئی عملی چیزیں ہیں، جن کے ذریعے والدین اپنے بچوں میں ابتدائی عمر سے ہی سیکھنے اور سمجھنے کی بہتر صلاحیتیں پیدا کرسکتے ہیں۔

1- انتظار مت کریں۔ آپ جو پڑھ رہے ہیں، وہ اپنے چھوٹے سے ناسمجھ بچے کو بآوازِ بلند پڑھ کر سُنائیں۔ بچے آپ کی آواز اور بولنے کے اندازسے سیکھتے ہیں۔

2- کھانے کے وقت کہانیاں سُنائیں۔ بچوں سے بھی سوال کریں، جیسے ’آج آپ کے ٹیڈی نے کیا کیا‘؟ ’اس متجسس چوہے کا کیا ہوا جو ہماری لائبریری میں گم ہوگیا تھا‘؟ وغیرہ۔ زبانی سنائی گئی کہانیاں بچوں کو کتابوں میں تحریر شدہ کہانیاں پڑھنے کی جانب راغب کرتی ہیں۔

3- اپنے بچوں کی کہانیوں کو اپنے فون میں ریکارڈ کریں یا ان کی کہانیوں کو تحریر کریں۔ انھیں کتاب، اینی میشن یا سلائیڈ شو (ایپ کی مدد سے) میں تبدیل کریں۔ بچے اپنے بولے ہوئے الفاظ کو تحریری شکل میں دیکھیں گے تو ان میں الفاظ، کہانی کی ساخت اور گرامر کے بارے میں بہتر سوجھ بوجھ پیدا ہوگی۔

4- ان کے تجربات پر بات کریں۔ مثلاً، ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے، دیکھا ہے، پڑھا ہے یا پھر سنا ہے، اسے بیان کریں۔

5- کتابیں، کتابیں، کتابیں۔ بچوں کو انسانی اعضاء کے ناموں، جانوروں کے ناموں، پھلوں اور سبزیوں کے ناموں کی سخت گتے والی کتابیں پیش کریں۔ پھر بتدریج انھیں تھوڑی زیاہ پیچیدہ تصویری کہانیوں اور نغموں والی کتابوں پر لے جائیں۔ ان کہانیوں سے ان کے ذاتی تعلق کے بارے میں پوچھیں اور کچھ مخصوص سوالات کریں، مثلاً میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ یا پھر پتہ نہیں اس کے بعد وہ کہاں چلا گیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح بچوں میں فہم و سمجھ (Comprehension)کی صلاحیتیں پروان چڑھیں گی۔