• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عکاسی ……عرفان نجمی

ڈراما نگار، شاعر، ناول نگار، استاد، اصغر ندیم سیّد، جو ’’شاہ جی‘‘ کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں، اِس اعتبار سے منفرد قلم کار ہیں کہ اُنہیں بیک وقت دو نسلوں کی توجّہ حاصل ہے۔ ایک نسل تو وہ ہے، جو آج 60 برس کی ہے اور اُسے یقیناً 80ء کی دہائی کے ڈرامے’’ چاند گرہن‘‘،’’ پیاس‘‘،’’ ہوائیں‘‘ اور ’’نجات‘‘ وغیرہ ضرور یاد ہوں گے۔ 

دوسری آج کی نوجوان نسل ہے، جو شاہ جی کے42سالہ تدریسی کیریئر کے ساتھ اُن سے فلم، ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کے رموز سیکھ رہی ہے۔ یہی نہیں، 70سالہ اصغر ندیم سیّد کی بھرپور زندگی پاکستان کی ادبی اور ثقافتی دنیا کے بعض تاریخی نشیب و فراز کی بھی آئینہ دار ہے۔گزشتہ دنوں اُن سے ڈیفینس، لاہور میں واقع اُن کے گھر ایک تفصیلی نشست ہوئی، جس میں اُنہوں نے اپنے فن اور شخصیت کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی کُھل کر اظہارِ خیال کیا۔

س: بچپن کہاں گزرا؟ خاندانی پس منظر کے بارے میں بھی کچھ بتائیے؟

ج: میرا بچپن مختلف تجربات سے بھرپور رہا۔ 14 جنوری 1950ء کو ملتان کے قدیم محلّے، ٹبی شیر خان میں پیدا ہوا، جس کی بے شمار پتلی گلیاں پورے شہر کی طرف جاتی ہیں۔ یہ نانا کا گھر تھا، جس میں ایک گائے بھی تھی۔ مَیں گائے کے بچھڑے کا دودھ شریک بھائی تھا۔ وہ ایسے کہ پیدائش کے پہلے چالیس دن روزانہ میرے چہرے پر گائے کے دودھ کی دھاریں ڈالی جاتیں۔ شاید یہ رنگ گورا کرنے کا کوئی نسخہ تھا۔اُس زمانے میں مسلمان رہتک، حصار، پانی پت اور ہریانہ وغیرہ سے ہجرت کرکے ملتان میں بس رہے تھے۔ یوں بچپن میں اُن زبانوں کا رَس بھی سرائیکی زبان میں شامل ہوا۔ والد، غلام اکبر سبزداری فلپس ریڈیو لے کر آئے، مگر بجلی پورے محلّے میں صرف سُناروں کے گھر تھی۔لہٰذا، وہاں سے تار لے کر ریڈیو سُنا کرتے اور یوں کانوں میں محمّد رفیع، ہیمنت کمار، لتا، طلعت محمود اور نور جہاں کی آوازیں گونجنے لگیں۔

بابا کے گھر سے جانے کے بعد مَیں ریڈیو لگا لیتا اور جب وہ واپس آتے، تو بند کر دیتا، مگر ریڈیو جلد گرم ہوجاتا۔ بابا اُس پر ہاتھ رکھ کے اندازہ لگا لیتے کہ مَیں نے کتنی دیر ریڈیو سُنا ہے۔ ایسے میں میری ماں ریڈیو پر ٹھنڈی پٹیاں رکھتیں کہ مجھے مار نہ پڑے۔ ابھی مَیں اسکول بھی نہیں گیا تھا کہ گلی میں پھیری والوں کی آوازوں نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ اکثر وہ ہنر مند تھے، جو ہجرت کر کے آئے تھے۔ اُن کے پکوانوں نے ہم ملتانیوں کو چٹخورا بنا دیا۔ وہ گول گپّے، پٹھورے چنے، دال والے سموسے، آلو چھولے اور قیمے کی ٹکیاں کمال کی بناتے تھے۔ ایسا چسکا لگا کہ ایک دن امّاں سے کہہ کر مَیں نے بھی گلی میں چنوں کا ٹھیلا لگایا اور بارہ آنے کمائے۔ یہ میری پہلی کمائی تھی۔ میرے بابا، چاچڑاں شریف کی ایک دُور افتادہ بستی کے رہنے والے تھے۔ 

جہاں سڑک تھی نہ بجلی۔ نہری پانی سے فصلوں کی آب یاری ہوتی اور ہم ایک کنویں سے پانی ڈھوتے ۔ اسکول بستی سے پچیس میل دُور تھا، جہاں جانے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔اِس لیے بابا صرف آٹھ جماعتیں پڑھ سکے۔ یہ بستی کھجوروں اور آم کے باغات سے بَھری ہوئی تھی۔ ہم ہر سال گرمیاں وہاں گزارتے۔ یہ دن فطرت کی گود میں رہنے کے دن تھے۔ سارا سارا دن آموں، کھجوروں کے درختوں پر بیٹھے رہتے۔ وہیں گھڑ سواری سیکھی اور جنگلوں میں گم ہونا بھی سیکھا۔ پھر بابا قسمت آزمانے ملتان آگئے اور یہیں کے ہو رہے۔ امّاں سے شادی کے بعد ملتان میں گھر بنایا کہ بچّوں کی تعلیم اُن کا خواب تھا۔تاہم، اُن دنوں ہر چند ماہ بعد گھر بدلنا پڑتا۔

روپیا، پیسا نہیں، محبت کمائی ہے
اہلیہ کے ساتھ

س: کیا آپ کے والد کہیں ملازمت وغیرہ کیا کرتے تھے؟

ج: جی ہاں! وہ ملتان کے پانچ خاکوانی بھائیوں کے مالیاتی امور کے انچارج تھے۔ عرفِ عام میں اسے’’ مختار عام‘‘ کہا جاتا تھا۔ بس یہی ہماری زندگی کا اہم واقعہ بن گیا کہ ہمیں رہنے کے لیے کئی ایکڑ پر پھیلی حویلی میں ایک گھر مل گیا۔اس حویلی میں ہر موسم کی سبزی اور پھل، پھول ہوتے تھے۔ یہاں ہم پانچ بہن، بھائیوں نے تعلیم حاصل کی، ملازم ہوئے اور بچپن، لڑکپن سے نکل کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے۔ یہاں ہر کھیل کھیلا۔ پتنگ اُڑانے کے لیے وسیع میدان تھا۔ بنٹے کھیلے، گُلی ڈنڈا، پٹھو گرم کھیلا، لٹّو چلائے، غلیل پر ہاتھ صاف کیا۔

میرے بابا بڑی پُرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ ملتان شہر کے امراء، اشرافیہ اُن کی صحبت اور دوستی کا دَم بَھرتے۔ کبھی اپنے ساتھ شکار پر لے جاتے،تو کبھی اپنی محفلوں میں شریک رکھتے۔ ہر وقت شیورلیٹ، رولز رائس اور فورڈ جیسی گاڑیاں دروازے پہ کھڑی رہتیں۔تاہم، خود ساری زندگی سائیکل پر رہے۔ سفید کاٹن کا کلف لگا، استری شدہ شلوار قمیص پہنتے تھے، جومَیں محلّے کی دُکان سے استری کروا کے لاتا۔ شہر کے نام وَر معالج، ڈاکٹر ولی محمّد بابا کے خاص دوست تھے۔ اُنہوں نے ہی میری بچپن کی شدید بیماریوں کو سنبھالا کہ ایک بار تو گھر والے مجھے مُردہ سمجھ کر رو پیٹ چُکے تھے۔ یہ شدید ٹائیفائڈ یا تپِ محرقہ تھا، جو دو مہینے مجھے چمٹا رہا۔بابا کی شخصیت کا ایک روحانی پہلو بھی تھا۔ 

آخری عُمر تک بینکوں کے پریذیڈنٹس اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران بابا کی خدمت میں صبح و شام حاضر رہتے۔ اُن کا فجر کی نماز کے بعد تخت پوش پر قرآنِ پاک کی تلاوت کے بعد دو گھنٹے اُن خواتین سے ملاقات کا معمول تھا، جو اچھے گھرانوں سے آتیں اور برقعہ پوش ہوتیں۔ میری والدہ اُن کے چائے پانی کا انتظام کرتیں۔ وہ خواتین، بابا سے ہر طرح کا مسئلہ بیان کیا کرتیں۔ بابا تعویز گنڈوں کے سخت خلاف تھے، وہ صرف دَم کیا کرتے اور قرآنِ پاک سے مسائل کا کوئی نہ کوئی حل بتاتے۔

روپیا، پیسا نہیں، محبت کمائی ہے
بیٹا، بیٹیاں خوش گوار موڈ میں

 س:آپ کتنے بہن، بھائی ہیں؟ اور کیا مصروفیات ہیں؟

ج: ہم پانچ بہن، بھائی ہیں۔ سب سے بڑا میں ہوں، اِس لیے فائدہ بھی خُوب اُٹھایا۔ گھر کا سودا سلف لانا میری ذمّے داری تھی۔ ہر سودے سے پیسے کاٹ لیتا اور اپنے مہاجر بھائیوں کے کھابوں پر ہاتھ صاف کرتا۔ اِس لیے اکثر دوپہر کے کھانے پر بھوک نہیں رہتی تھی۔ یوں پکڑا گیا اور پھر میری یہ چوری قانونی تحفّظ میں آگئی۔ مجھ سے چھوٹا بھائی، ڈاکٹر صفدر علی سیّد ہے، جس نے میٹرک میں صوبے بَھر میں اوّل پوزیشن لی، تو پہلی بار مسعود اشعر کے اخبار’’امروز‘‘ کا اسٹاف رپورٹر، ولی واجد بابا کے انٹرویو کے لیے ہمارے گھر آیا۔ بعد میں ’’امروز‘‘ اخبار میری زندگی کا اہم حوالہ بن گیا۔ 

بابا نے واجد (مرحوم) سے کہا’’ میرا نہیں، جعفر خان خاکوانی کا انٹرویو کریں، جو میرے بچّوں کو پڑھا رہے ہیں۔‘‘ تیسرے نمبر پر بہن زہرہ سجاد زیدی ہیں، جو انسانی حقوق کی وکیل ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب میں عورتوں کے حقوق کے لیے اپنے مرحوم خاوند، سجّاد حیدر زیدی اور راشد رحمان کے ساتھ مل کر جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی منتخب عُہدے دار بھی رہیں۔ 

راشد رحمان( مرحوم) کو، جو آئی اے رحمان کے بھتیجے تھے، انسانی حقوق کے ایک کیس کی پیروی کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ مختاراں مائی کا کیس یہ دونوں ہی سامنے لائے تھے۔چوتھے نمبر پر بھائی ناصر علی سیّد( مرحوم) انگریزی کے پروفیسر تھے۔ پچھلے سال اُن کا انتقال ہوا۔ وہ ریڈیو سیلون، سری لنکا کے لسنرز کلب (Listerner's Club) کے لائف ٹائم چیئرمین تھے کہ پوری دنیا کے کلب ممبرز نے اُنہیں منتخب کیا تھا۔ وہ ایک’’ UNSUNG HERO ‘‘ہے، جس کا کام اب مَیں سامنے لائوں گا۔ وہ برّ ِصغیر کی موسیقی کے مؤرخ تھے۔ ساری زندگی موسیقی کو دستاویزی شکل دینے میں گزار دی۔ 

ریڈیو سیلون نے اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کئی پروگرامز کیے۔ برّصغیر کی موسیقی میں جو بھی نغمات ریکارڈ ہوئے، اُن سب کی معلومات اُن کے پاس محفوظ تھیں۔ ہندوستان کے بڑے بڑے موسیقار اور گلوکار اُن کے مداح تھے۔ لتا، آشا، مبارک بیگم اور کچھ دیگر موسیقار اُن سے ذاتی تعلق رکھتے تھے اور اُن سے فون پر بات کیا کرتے۔پانچویں نمبر پر میری بہن سائرہ سیّد ہیں، جو اُردو کی پروفیسر ہیں اور اُنہوں نے کوئین میری کالج میں کئی نسلوں کو پڑھایا۔ اب وہ ریٹائر ہو چُکی ہیں۔ بابا بہت خوش تھے کہ جو تعلیم وہ نہ حاصل کرسکے، وہ اُن کے بچّوں کے حصّے میں آئی۔

س: لکھنے کا شوق کیسے ہوا؟

ج: ملتان عظیم تہذیب و تمدّن کا امین رہا ہے۔ جب مَیں ہائی اسکول میں آیا، تو مرزا مسرت بیگ، جنہیں’’ ملتان کا سَر سیّد‘‘ بھی کہا جاتا ہے، میرے والد کے دوستوں میں شامل ہوگئے۔ اُنہوں نے ملّت ہائی اسکول کی بنیاد رکھی اور ہم تینوں بھائیوں کو مفت پڑھایا، بلکہ کبھی کبھی تانگے کے پیسے بھی اپنی جیب سے دیتے تھے۔ مرزا صاحب پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس اسکول میں مجھ سے پہلے اداکار، محمّد علی بھی تعلیم حاصل کرچُکے تھے۔ اُن کا خاندان غالباً رہتک سے ملتان آیا تھا۔ اُن کے والد مسجد کے پیش امام تھے۔ محمّد علی، جنہیں مَیں بعد میں بھیّا کہتا اور وہ مجھے اپنا کلاس فیلو کہتے، یہاں سے پڑھ کر حیدرآباد چلے گئے، جہاں زیڈ اے بخاری نے اُن کی ریڈیو پر تربیت کی اور وہ فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ میں دیبا بیگم اور زیبا بھابھی کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ 

اسی اسکول میں آج کے اپوزیشن رہنما، مولانا فضل الرحمٰن بھی مجھ سے دو سال چھوٹے ہونے کی وجہ سے جونیئر کلاس میں تھے۔ اُن کا اُس وقت بھی اِسی طرح کا لباس اور ڈیل ڈول تھا۔ مدرسے کے دو طلبہ اُن کے محافظ تھے کہ اُن کے والد، مفتی محمود صاحب کا مدرسہ’’قاسم العلوم‘‘ اسکول کے ساتھ ہی تھا۔اسکول میں’’اردو ڈائجسٹ‘‘ آتا تھا، جو مَیں پڑھنے لگا۔ میں نے یہ بات الطاف حسن قریشی کو بتائی، تو وہ اُس دن سے ہر ماہ میرے لیے ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ ارسال کرتے ہیں، جو اُن کی بڑائی ہے۔ 

بہرحال، اُردو ڈائجسٹ نے مجھ میں لکھنے پڑھنے کا ذوق و شوق پیدا کیا، حالاں کہ میرا اُن سے نظریاتی ٹکرائو تھا اور آج بھی ہے۔ ہمارے گھر’’اِمروز‘‘ اخبار آتا تھا، جس میں احمد ندیم قاسمی، ابنِ انشاء، ظہیر بابر اور مُنّو بھائی کے کالم چَھپتے تھے۔ وہ ترقّی پسند اخبار تھا اور مسعود اشعر ملتان میں ایڈیٹر تھے، اس طرح میری تربیت کا آغاز ہوا۔

س: ترقّی پسندانہ خیالات کا یہ سفر کیسے آگے بڑھا؟

ج: اِس میں’’اِمروز‘‘ اخبار اور مسعود اشعر کے علاوہ میرے اساتذہ کا بھی اہم کردار ہے۔ مَیں ایمرسن کالج، ملتان پہنچا، تو یہ 1964ء کا وقت تھا اور کالج کے اساتذہ گورنمنٹ کالج، لاہور اور گورڈن کالج، راول پنڈی کے اساتذہ کی طرح ترقّی پسند خیالات کے حامل تھے۔ اس کے علاوہ ملتان میں بے شمار چائے خانے تھے۔ حسین آگاہی سے نکلتے، تو کیفے عرفات آتا، جہاں اب کرکٹ اسٹیڈیم ہے، پھر گھنٹہ گھر کے چائے خانے، بوہڑ گیٹ سے گزر کر نواں شہر کا بابا ہوٹل، پھر ڈیرہ اڈّا پر ماورا ہوٹل، شب روز ہوٹل، گلڈ ہوٹل، کیفے عافیہ، گل گشت کا گول باغ ہوٹل اور پھر کمپنی باغ کا چائے خانہ۔ 

دراصل یہ سب تربیت گاہیں تھیں اور ترقّی پسندی کی ایک ایسی ہی تربیت گاہ میرے ننھیال کے قریبی بزرگ، سیّد قسور گردیزی تھے، جنہوں نے ہم طلبہ کو روسی اور چینی ادب پڑھایا، جو اُس وقت اُردو میں منتقل ہو چُکا تھا۔ قسور گردیزی نے ملتان کی تہذیب کو اپنا خون دیا، کئی نسلیں پروان چڑھائیں۔ اُن کی لائبریری میرے تصرّف میں آئی، تو مَیں نے ٹالسٹائی، دوستوفسکی، ترگینف، شولوخوف، پشکن، مایا کوفسکی سب کو پڑھ لیا۔ پھر چینی ادب میں مائوزے تنگ اور لوہلسون کو پڑھا، بعد میں اُن کا ترجمہ بھی کیا۔ جب مَیں پاکستانی ادیبوں کے سرکاری وفد میں پندرہ دنوں کے لیے چین گیا، تو شنگھائی میں ایک روز ہمیں لوہلسون کے گھر لے جایا گیا۔ ایک چھوٹی سی گلی میں وہ معمولی سا گھر تھا، جس کا ایک چھوٹا سا کمرا اُن کی مطالعہ گاہ تھا۔ معمولی فرنیچر اور بس کاغذ، قلم۔ عظیم ادیب ایسے پیدا ہوتا ہے، سونے کے قلم سے نہیں۔

روپیا، پیسا نہیں، محبت کمائی ہے
نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے

س: ایمرسن کالج میں ادبی ذوق کی آب یاری میں کن اساتذہ اور دوستوں کا حصّہ رہا؟

ج: ایمرسن کالج، ملتان کے جن اساتذہ نے رہنمائی کی، اُن میں عرش صدیقی، اے بی اشرف، فرّخ درانی، سجّاد حیدر جیلانی، نذیر احمد، اسلم انصاری اور ڈاکٹر سلیم اختر شامل تھے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، تصدّق حسین جیلانی اور سابق گورنر پنجاب، رفیق رجوانہ میرے کلاس فیلوز ہیں۔ ایم اے کے ساتھیوں میں ڈاکٹر انوار احمد، خالد شیرازی، محسن نقوی شامل تھے۔ اِسی کالج میں شاعری کی تربیت لی اور کالجز کے سالانہ مشاعروں کے مقابلوں میں ایک سال میں سترہ ٹرافیاں اور رول آف آنر حاصل کیا۔ 

کالج ہی میں ’’امروز‘‘ ملتان میں کالم لکھنا شروع کردیا تھا، جہاں مسعود اشعر نے نثر کی تربیت کی۔ کالج میں جاوید ہاشمی مجھ سے ایک سال پیچھے تھے۔ ہمارا نظریاتی اختلاف تھا، اِس لیے وہ میرے کالم کے نشانے پر ہوتے۔ ایک کالم پر اُن کے حامی مشتعل ہوگئے اور اُن میں سے ایک مجھے قتل کرنے نکل کھڑا ہوا۔ جاوید ہاشمی کو خبر ہوئی، تو وہ بیچ میں آئے اور صلح کروا دی، مگر ایک ہفتے بعد اُسی پستول سے اُس طالب علم نے دو قتل کیے اور مُلک سے باہر چلا گیا۔

س: ادب کی دنیا میں کیسے داخل ہوئے؟

ج: ایم اے کے بعد لیکچرار بن کر مظفّر گڑھ آگیا، جہاں میرے شاگردوں میں اداکار، توقیر ناصر بھی شامل تھا۔اس سے ذرا پہلے تین مہینے بینک میں ملازمت کی اور جو تن خواہ ملتی ادبی تقریبات پر خرچ کردیتا۔ ایسے میں دو تین کانفرنسز میں سیّد سبطِ حسن، انتظار حسین، جیلانی کامران اور معروف شاعر ظفر اقبال کو ملتان آنے کی دعوت دی، یہاں سے ادبی سفر شروع ہوا۔ پہلی غزل ’’فنون‘‘ میں احمد ندیم قاسمی نے شایع کی اور بعد میں ڈاکٹر وزیر آغا نے رسالے ’’اوراق‘‘ میں میری نظموں پر خصوصی مطالعے کا گوشہ شایع کیا۔ 

سیّد سبطِ حسن نے، جو ترقّی پسند مؤرخ اور ادیب ہیں، ’’پاکستانی ادب‘‘ جاری کیا اور ہر مہینے میری نظمیں شایع کرنے لگے۔ اُس وقت میرے ساتھ سرمد صہبائی، ثروت حسین، افضال احمد سیّد اور جمال احسانی شاعری میں نام کما چُکے تھے۔ اُن سے میری دوستی ہوئی اور جب لاہور پہنچا، تو کشور ناہید، یوسف کامران، انیس ناگی، سعادت سعید، افتخار جالب، عطاء الحق قاسمی، امجد اسلام امجد اور پاک ٹی ہائوس کے سب ادیبوں بشمول انتظار حسین اور انور سجّاد سے دوستیاں بڑھنے لگیں۔

روپیا، پیسا نہیں، محبت کمائی ہے
زبیررضوی، احمد فراز، اصغرندیم سیّد، ڈاکٹر انور سجاد، جاوید شاہین اور ڈاکٹر انوار احمد کی ایک یادگار تصویر

س: ایمرسن کالج چھوڑنے کا سبب کیا بنا؟

ج: مَیں کالج میں پڑھا رہا تھا اور ساتھ ہی ’’امروز‘‘ میں کالم بھی لکھ رہا تھا کہ ضیاء الحق نے ’’امروز‘‘ کے ترقّی پسند صحافیوں کو نکال دیا، تو وہ مسعود اشعر کی قیادت میں سڑک پر آگئے۔ ایک اور ترقّی پسند ادیب، حمید اختر نے چارج سنبھالا، جنہوں نے اپنی ضبط کی ہوئی تن خواہیں جاری کروانی تھیں۔ مَیں نے ادبی تنظیم کی طرف سے ضیاء الحق کو ٹیلی گرام کیا کہ ان صحافیوں کو بحال کیا جائے، نیز، مَیں نے ان صحافیوں کی بھوک ہڑتال بھی ختم کروائی۔

یوں بطور سزا میرا اور پنجاب کے دیگر ترقّی پسند اساتذہ کا دُور دراز علاقوں میں تبادلہ کر دیا گیا۔ مَیں شکرگڑھ پہنچ گیا۔ شعیب ہاشمی، عابد عمیق، خالد سعید، صلاح الدّین حیدر، انور سجّاد ادیب اور چھیاسی کے قریب اساتذہ میرے ساتھ نکالے گئے۔

س: مزاحمتی ادب کی تحریک کیسے شروع ہوئی؟

ج: پاکستان کے اسّی فی صد ادیبوں اور شعراء نے اُس مارشل لاء کی مخالفت میں ادب تخلیق کیا، جو کئی جلدوں میں شایع ہو چُکا ہے۔ افسانوں اور شاعری کے ذریعے بھرپور مزاحمت کی گئی۔ اسی دَوران سیّد سبطِ حسن نے کراچی میں ترقّی پسند کانفرنس کی، جس میں پورے پاکستان سے ہزاروں ادیب شامل ہوئے۔ 

لاہور سے ریلوے کی ایک بوگی میں پچاس ادیب گئے اور مَیں بھی اُن میں شامل تھا۔ بھٹّو صاحب کی پھانسی پر سلیم شاہد نے نظموں کا مجموعہ ’’خوش بُو کی شہادت‘‘ مرتّب کرکے شایع کیا، جو ہاتھوں ہاتھ تقسیم ہوگیا اور سرکار کو اُسے ضبط کرنے کا موقع نہ مل سکا۔

س: ڈرامے کی طرف کیسے آئے؟

ج: ابھی مَیں ملتان ہی میں تھا کہ میری دوستی سرمد صہبائی اور مشتاق صوفی سے ہوگئی۔ سرمد صہبائی لاہور ٹی وی پر اسکرپٹ ایڈیٹر تھے اور صوفی صاحب پروڈیوسر۔ دونوں مجھے ملتان سے پروگرامز کے لیے بلاتے رہتے تھے۔ صوفی صاحب نے بعد ازاں مجھے اپنے پروگرام’’پنجند‘‘ کا میزبان بنا دیا اور سرمد مجھے مشاعروں کی میزبانی دیتے رہتے۔ جب مَیں شیخوپورہ کالج میں پڑھا رہا تھا، تو لاہور روزانہ جاتا تھا۔ میری فرزانہ کے ساتھ لاہور میں شادی ہو چُکی تھی۔

ایک دن ٹی وی اسٹوڈیو میں ایک مشاعرے کی میزبانی کر رہا تھا اور جنرل مینجر، کنور آفتاب احمد مجھے اپنے دفتر کی ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے تھے۔ جب مَیں گھر جانے کے لیے موٹر سائیکل پر بیٹھا، تو پیچھے سے اسکرپٹ ایڈیٹر یونس منصور نے پکارا اور کنور آفتاب صاحب کے بلاوے کی اطلاع دی۔ وہاں گیا، تو اُنہوں نے کہا’’ ڈراما لکھو گے؟‘‘ مَیں نے کہا’’ ایک دفعہ سرمد صہبائی نے لکھوایا تھا،مگر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا۔‘‘ کہنے لگے’’ اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ اُنہوں نے بتایا کہ’’14 اگست 1980ء کا خصوصی کھیل اشفاق احمد سے ضیاء الحق کے کہنے پر لکھوایا گیا، لیکن خاں صاحب نے کچھ ایسے جملے لکھ دیے کہ ہم اپنی نوکری خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ 

روپیا، پیسا نہیں، محبت کمائی ہے
کالج کے زمانے میں بہترین شاعر کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

صرف چار دن رہ گئے ہیں، یہ کام اب تم کرو گے۔‘‘ پھر کنور صاحب نے مجھے بہت کچھ سکھایا، مگر اِتنی جلدی کوئی کیا سیکھ سکتا تھا۔ وہ کھیل مَیں نے لکھا اور کام یاب ہوا۔ دو ہفتے بعد کنور آفتاب نے دوسرا خصوصی کھیل’’ عید اسپیشل‘‘ لکھوایا۔بس، اِس طرح مَیں ڈراما لکھنے لگا۔ ہمارے تقریباً تمام ہی افسانہ نگاروں نے ڈرامے میں طبع آزمائی کی۔تاہم، صرف اشفاق احمد اور انور سجّاد کو کام یابی ملی۔ پھر جب مجھے سیریل لکھنے کا موقع ملا، تو مَیں اپنے بہاول پور کے چُولستان کی زندگی دِکھانا چاہتا تھا، لیکن پورے سیریل کو آئوٹ ڈور ریکارڈ کرنے کا بجٹ نہیں تھا۔ مَیں سیریل ’’دریا‘‘ کی بات کر رہا ہوں، جس میں عثمان پیرزادہ اور ثمینہ کی طلاق کا ایشو بھی بن گیا تھا۔ 

’’دریا‘‘ پہلا ٹی وی سیریل ہے، جو مکمل لوکیشن پر شُوٹ ہوا اور تمام اخراجات چولستان اتھارٹی کے چیئرمین، آفتاب شاہ نے اُٹھائے، جو میرے دوست تھے۔ پھر ’’پیاس‘‘ جو ملتان کی شناختی زندگی پر تھا، بے حد کام یاب ہوا۔ اس میں ایک طرح سے میرے والد کا کردار افضال احمد نے ادا کیا۔ پھر فلم اسٹار، رانی کو پہلی بار سیریل’’خواہش‘‘ میں لے کر آیا۔وہ تجربہ بھی بہت کام یاب رہا۔

س: سُنا ہے، جاوید اختر’’پیاس‘‘ پر کوئی فلم بنانا چاہتے ہیں؟

ج:’’پیاس‘‘ کی کیسٹیں پروین شاکر، جاوید اختر کی فرمائش پر بھارت لے گئی تھیں، جسے اُنہوں نے دیکھا۔ جب وہ اور شبانہ اعظمی کراچی اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے آئے، تو انور مقصود کے ذریعے میرے ہوٹل پہنچے۔ مَیں اُس وقت ’’چاندگرہن‘‘ لکھنے کی تیاری کے لیے کراچی میں تھا۔ جاوید اختر سے اُسی وقت سے دوستی کا رشتہ قائم ہے۔ وہ ’’پیاس‘‘ پر فلم بنانے کا ارادہ ظاہر کر چُکے ہیں۔

س: ’’چاند گرہن‘‘کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: مجھے حیدر امام رضوی، تاج دار عالم اور طاہر اے خان نے نئے چینل، این ٹی ایم کے لیے پہلا سیریل لکھنے کی دعوت دی، جو صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں دکھایا جانا تھا۔مَیں نے صرف ایک سوال پوچھا کہ’’ لکھنے کی کتنی آزادی ہوگی؟‘‘ اُنہوں نے کہا’’ مکمل آزادی۔‘‘ بس تو پھر جو پی ٹی وی پر نہ لکھ سکا، وہ وہاں لکھ دیا، جس میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے تین بڑے ستون ہیں، میڈیا، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دان۔ یوں اس سیریل میں بہت کچھ کہہ دیا۔ شفیع محمّد، فریال گوہر، سہیل اصغر، ہما نواب، شکیل اور قاضی واجد نے اہم کردار کیے۔

تینوں شہروں میں اُس شام سڑکیں خالی ہو جاتی تھیں۔ نیز، اسے کیسٹوں کے ذریعے پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ 1990ء میں جب مَیں اپنی بیگم، فرزانہ کے ساتھ پہلی بار لکھنؤ اور دہلی گیا، تو’’چاند گرہن‘‘ پورے بھارت میں کیبل کے ذریعے دِکھایا جارہا تھا۔ اس کی کیسٹیں مارکیٹ میں ایسے بِک رہی تھیں، جیسے کسی ممنوعہ فلم سے پابندی ہٹ گئی ہو اور وہ مارکیٹ میں آجائے۔ اس حوالے سے افسانہ نگار رام لعل نے سرکاری ٹی وی پر میرا انٹرویو بھی کیا۔ افسانہ نگار، جو گندر پال نے دعوت کی، تو اس شام چاند گرہن کی آخری قسط اُن کے کیبل پر آرہی تھی۔

س:بھارت سے کوئی آفر بھی تو آئی تھی؟

ج: جی ہاں،’’ زی ٹی وی‘‘ کوئی بڑا کام چاہتا تھا۔ جب مَیں لندن گیا، تو’’ زی ٹی وی‘‘ نے میرا خاصا لمبا چوڑا انٹرویو لائیو دِکھایا۔ اِسی طرح دیپا مہتہ مجھ سے ملنے لاہور آئیں، وہ عامر خان کی فلم’’ارتھ‘‘ کے مکالمے لکھوانا چاہتی تھیں۔ یہ فلم بھارتی رائٹر بیپسی سدھوا کے ناول پر مبنی تھی۔ مَیں نے کچھ لکھا، لیکن پھر حالات اوپر نیچے ہوگئے، لہٰذا یہ کام درمیان ہی میں رہ گیا۔

س: کن اہم پراجیکٹس پر کام کر چُکے ہیں؟

ج: اب تک پچاس سیریل لکھ چُکا ہوں۔ خود اپنی زندگی پر بھی لکھا۔ سیکڑوں کھیل ہیں، البتہ جو اہم تھے، اُن میں جان ہاپکنز یونی ورسٹی کا سیریل ’’نجات‘‘ تھا، جسے یونی ورسٹی کے پروفیسر رونالڈ ہیس نے پروڈیوس کیا اور ساحرہ کاظمی ڈائریکٹر تھیں۔ وہ تُرکی، مِصر اور بنگلا دیش میں دِکھایا گیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان نیوی کا سیریل ’’سمندر جاگ رہا ہے‘‘،’’ نشانِ حیدر‘‘ اور نیب کے کیسز کی سیریز ’’سزا اور جزا‘‘، جس میں کرپشن کے سچّے کیسز دِکھائے گئے تھے، دہشت گردی کے خلاف آئی ایس پی آر کا سیریل ’’خدا زمین سے گیا نہیں ہے‘‘ بھی اہم ہیں۔ میرے تین سیریل انگلینڈ میں، ایک دبئی میں، ایک جرمنی میں اور ایک تاشقند میں بنایا گیا۔

س: کوئی ایسا حادثہ، واقعہ جس نے بہت متاثر کیا ہو؟

ج: لندن میں موجودگی کے دَوران بیوی کا انتقال میری زندگی کا سب سے بڑا حادثہ بلکہ المیہ ہے، جو ڈاکٹرز کی غفلت سے ہوا۔ میری دونوں بیٹیاں ابھی بہت چھوٹی تھیں اور بیٹا انجینئرنگ یونی ورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا۔

س:کتنے بچّے ہیں؟ اور وہ کیا کرتے ہیں؟

ج: بڑا بیٹا عدیل حسن گورنمنٹ کالج، لاہور اور انجینئرنگ یونی ورسٹی سے پڑھنے کے بعد مارکیٹنگ میں ایم اے کرکے دبئی چلا گیا تھا۔ دو تین سال امریکی فرم کے ساتھ کام کیا، پھر لندن کیUniversity of Sussex سے ایک اور ماسٹرز کیا۔آج کل ایک امریکی کمپنی کے ساتھ کام کررہا ہے۔ اُس کی بیوی لندن میں ڈاکٹر ہے اور دو بیٹیاں ہونے کی وجہ سے میں دادا بن چُکا ہوں۔ 

اس سے چھوٹی بیٹی، ماہم ندیم کنیئرڈ کالج اور لاہور اسکول آف اکنامکس سے گولڈ میڈل اور لندن کی ایک یونی ورسٹی سے ایگزیکیٹو ایم بی اے کی اعلیٰ ڈگری لے کر اپنے خاوند کا بزنس دیکھ رہی ہیں۔ میرا داماد بھی یو کے کی یونی ورسٹیز سے تعلیم یافتہ ہے۔ چھوٹی بیٹی، فاطمہ ندیم بھی سائیکولوجی میں گولڈ میڈل حاصل کرکے بیکن ہائوس یونی ورسٹی میں پڑھا رہی ہے۔ اُن کی تعلیم میں میری دوسری اہلیہ، ڈاکٹر شیبا عالم کا بہت حصّہ ہے، جو کنیئرڈ کالج میں شعبۂ اُردو کی سربراہ ہیں۔

س: آپ کا ایک تعارف بطور استاد بھی ہے۔ اِس حوالے سے کچھ بتائیے؟

ج: لاہور آیا تو ایف سی کالج کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں پڑھانے لگا، جہاں مَیں نے چوبیس سال تک پڑھایا۔ بہت اچھا زمانہ تھا۔ کالج کو یونی ورسٹی میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ یونی ورسٹی کی ایک ڈاکیومینٹری پروڈیوس کی، ڈرامٹیک کلب اور مجلسِ اقبال کا انچارج رہا، توسیعی لیکچرز کی بنیاد رکھی اور پھر ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن ہو کر چلا گیا۔ ڈائریکٹر لاہور میوزیم رہا، اِس دَوران برلن گیا، جہاں لاہور میوزیم کے قیمتی نوادرات کی نمائش ہوتی ہے، وہاں سے ریٹائر ہوا۔ 

اب اردو ادب پڑھانے کے ساتھ فلم، ٹی وی اور تھیٹر کے مضامین پڑھانے کا آغاز کیا ہے۔ سب سے پہلے انور سجاد مجھے این سی اے لے گئے۔ اُنہوں نے اسکرپٹ رائٹنگ کے مضمون کا آغاز کیا،تو مجھے پڑھانے کی دعوت دی۔ پاکستان میں شاید مَیں اس مضمون کا پہلا اُستاد ہوں۔ بیس سالوں سے کئی مضامین پڑھا رہا ہوں، جن میں ورلڈ سینما کی تاریخ بھی شامل ہے۔ پانچ سال بیکن ہائوس یونی ورسٹی میں اس شعبے کو ہیڈ کیا، مجھ سے پہلے محترمہ نوید شہزاد نے اسے شروع کیا تھا۔

س: نوید شہزاد نے ’’غلام گردش‘‘ سیریل میں بیگم عابدہ حسین کا کردار بھی ادا کیا تھا، وہ قصّہ کیا ہے؟

ج:جی ہاں! وہ کردار مَیں نے بیگم عابدہ حسین کو سامنے رکھ کر ہی لکھا تھا کہ لیڈی فیوڈل پر اس سے پہلے کم ہی لکھا گیا تھا۔ جب ڈراما بن گیا، تو پی ٹی وی نے چلانے سے انکار کردیا۔ ہم اس سیریل کو بیگم عابدہ حسین کے پاس لے گئے اور ڈر ڈر کے اُنہیں دِکھایا۔ اُنہیں سیریل بہت پسند آیا اور پھر اُسے پی ٹی وی سے دِکھایا گیا۔

س: آپ دس سال فلم سینسر بورڈ کے رُکن رہے، پاکستانی فلمز کے زوال کا سبب کیا ہے؟

ج: مَیں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پاکستانی سینما کو ڈوبتے دیکھا ہے۔دراصل، ڈوبنے کا آغاز1971ء کے بعد ہی ہوگیا تھا۔ مشرقی پاکستان نے چند سالوں میں اُردو کی بیالیس فلمز بنائیں، جو مغربی پاکستان کے سینما کو تبدیل کررہی تھیں، لیکن پھر لائن کٹ گئی۔فلم انڈسٹری کے زوال کے کئی اسباب ہیں۔ ایک سال ایسا بھی تھا، جب سال میں 122 فلمز بنائی گئیں۔ اہم سبب حکومت کی بے حسی ہے۔ جب تفریحی ٹیکس کے ذریعے حکومتیں کروڑوں روپے حاصل کر رہی تھیں، تو ایک بھی اکیڈمی نہیں بنائی۔ 

کسی بھی یونی ورسٹی میں فلم کا شعبہ نہ بنایا، بھلا بغیر تعلیم کے کوئی کب تک مقابلہ کرسکتا ہے؟ پاکستان بدقسمتی سے دنیا کا واحد مُلک ہے، جہاں سے فلم ختم ہوگئی ہے، جب کہ ویت نام اور فلپائن کا سینما بھی اِس وقت بہت ترقّی کر رہا ہے۔بس، ہم نے مقامی چینلز کو کُھلا میدان دے دیا کہ وہ شام کو’’ سیاست، سیاست‘‘ کھیلیں اور اب یہی ہماری تفریح ہے کہ اینکرز ڈگڈگی پر تھیٹر کے اداکاروں کا تماشا دِکھائیں۔

س: آپ کئی اہم بورڈز اور جیوریز کے بھی ممبر ہیں، تو اُن کے ذریعے ادب کی کیا خدمت انجام دی؟

ج: اس کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ مختصراً یہ کہ مجھے فخر ہے، فن کاروں کی خدمت کرنے والی مختلف کمیٹیز میں کئی سالوں سے ہوں۔ دوسرا یہ کہ ادبی ایوارڈز کی دو بڑی جیوریز’’ یو بی ایل لٹریری ایوارڈز‘‘ اور’’ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس ایوارڈ‘‘ کی جیوری میں شامل ہوں۔کئی سالوں تک لکس اسٹائل ایوارڈ کی جیوری میں بھی رہا۔

س:آپ نے جو ایوارڈز لیے، وہ بھی تو اہم ہیں…؟

ج: مگرافسوس 48 سال پڑھانے پر مجھے بہترین استاد کا ایوارڈ نہیں ملا، یہ اُن لوگوں کو ملتا ہے، جو اپنے وائس چانسلرز یا پرنسپلز کے گھروں کے کچن چلاتے ہیں۔ مجھے اس کا افسوس اس وجہ سے بھی ہے کہ مَیں نے اس سسٹم کو برہنہ ہوتے دیکھا ہے۔ بڑے بڑے استاتذہ کو جنسی ہراسانی جیسے فعل میں مبتلا دیکھا، مگر مَیں منہ نہیں کھولنا چاہتا۔ 

مجھے سب سے بڑا ایوارڈ اللہ نے دیا ہے کہ مجھے جو صلاحیت دی، اللہ نے اس کی حفاظت کی۔ پھر حکومتِ پاکستان نے صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی دیا۔ پی ٹی وی نے دس سال کے بہترین ڈراما نگار کا ایوارڈ دیا، این ٹی ایم نے پانچ سال کے بہترین ڈراما نگار کا ایوارڈ دیا اور پہلا لکس اسٹائل ایوارڈ بھی میرے حصّے میں آیا۔ جب کہ گریجویٹ اور نگار ایوارڈ کی تفصیل الگ ہے۔

س: ادب، تعلیم اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں کام کر کے کیا کمایا؟

ج: مَیں نے روپیا پیسا نہیں، محبّت کمائی۔جن عظیم ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں نے مجھے محبّت دی، اُن کی فہرست لمبی ہے۔ صرف سینئرز تک رہوں گا۔ اشفاق احمد، بانو آپا، فیض صاحب، انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، سیّد سبطِ حسن، حمید اختر، شہزاد احمد، حبیب جالب، ڈاکٹر جاوید اقبال، ظہیر کاشمیری، اسلم اظہر، نصرت فتح علی خان، اقبال بانو، ثریا ملتانیکر، شہرت بخاری، کشور ناہید، انور مقصود، زہرہ نگاہ، قتیل شفائی، سیف الدّین سیف، مرزا ادیب، نیّر علی دادا، آئی اے رحمان، مسعود اشعر، عبیداللہ علیم، جون ایلیا، ثروت حسین، سہیل احمد خان، تبسّم کاشمیری، ڈاکٹر انوار احمد، عطاء الحق قاسمی، امجد اسلام امجد ، ساقی فاروقی، نور الہدیٰ شاہ، زاہدہ حنا، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سیّد وقار عظیم، سیّد معین الرحمان، حسینہ معین، فاطمہ حسن، احمد شاہ، عرفان کھوسٹ، گلوکار شوکت علی، سلمان شاہد، حارث خلیق اور ناصر عباس نیر، ان سب کا ہم سفر تھا اور رہوں گا۔ جن دوستوں کے نام رہ گئے، وہ صرف حافظے کی کم زوری کی وجہ سے رہ گئے ہیں۔ 

ہاں! جیلانی کامران، انیس ناگی، سعادت سعید، افتخار جالب کو کیسے بھول سکتا ہوں کہ وہ میری زندگی کا حصّہ ہیں۔ جب کہ سمیع آہوجہ، شاعر عبدالرشید، ابرار احمد اور عباس تابش بھی میرے اپنے ہیں اور عرش صدیقی، اے بی اشرف تو میرے محافظ ہیں۔نیز، جاوید شاہین، مُنّو بھائی، مظفّر علی سیّد، صفدر میر، سرمد صہبائی، مشتاق صوفی، خالد مسعود، قاضی علی ابوالحسن اور سب سے بڑھ کر سنگِ میل کے مرحوم نیاز احمد، مرحوم اعجاز احمد اور افضال احمد کا مجھے یہاں پہنچانے میں بڑا کردار ہے۔

س: کیا آج کل ٹی وی چینلز پر چلنے والے ڈراموں سے مطمئن ہیں؟

ج: مَیں قطعی مطمئن نہیں ہوں۔اِس صُورتِ حال کا شدید مخالف ہوں کہ مارکیٹنگ کی آڑ میں پاکستانی سوسائٹی میں عورت کے امیج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پاکستانی خواتین کی توہین کی جا رہی ہے، جو بے حد ذہین، ادراک رکھنے والی اور اپنے حقوق کی پہچان رکھنے والی ہیں۔ انہیں عقل سے عاری اور بے وقوف دِکھایا جا رہا ہے۔ فیملی اقدار کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ حیرت ہے، ان عورتوں کی تنظیموں کے پاس اسکرین پر تھپڑ کھانے والی عورت کے لیے آواز اُٹھانے کا وقت بھی نہیں۔ 

کیا آج ہماری لڑکیوں کا مسئلہ صرف محبّت، عشق، منگنی، شادی اور طلاق ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہماری لڑکیاں اِس وقت پاکستان کی اعلیٰ یونی ورسٹیز میں لڑکوں کے مقابلے میں ساٹھ، ستّر فی صد ہیں اور وہ ہر شعبے میں پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا مسئلہ اپنی شناخت اور معاشی خود مختاری ہے، جب کہ ان ڈراموں میں لڑکی کو تعلیم کی فکر ہے، نہ ملازمت کی، وہ صرف بے کار قسم کے لفنگوں سے محبّت اور شادی کے گرداب میں پھنسا دی گئی ہے۔ یہ پاکستانی معاشرے کی حقیقی تصویر نہیں ہے۔ 

ان ڈراموں کے مضر اثرات کے نتیجے میں معاشرتی فیبرک تار تار ہو رہا ہے اور کسی کو اس کا ادراک بھی نہیں۔ آج عدالتوں میں کتنی لڑکیوں کے کیس موجود ہیں اور ماں باپ گھر سے بھاگی لڑکیوں کو عدالتوں میں مار پیٹ رہے ہیں۔ خدا کے لیے چند سکّوں کے لالچ میں ہماری لڑکیوں کے مستقبل سے نہ کھیلیں۔ انہیں محبت کے فریب کا سبق نہ پڑھائیں، انہیں تعلیم اور ملازمت کا راستہ دِکھائیں، جہاں وہ اپنی شناخت اور معاشی خود مختاری حاصل کر کے خاندان کی کفالت میں مرد کی شریک بن سکیں۔ خدا کے لیے اس حرکت سے وہ خواتین باز آئیں، جو یہ ڈرامے تخلیق کروا رہی ہیں۔

س:آپ نے ترقّی پسند تحریک کا ذکر کیا ہے،کیا وہ اب ختم ہو چُکی ہے؟

ج:جی نہیں۔ تنظیمیں تو اِس وقت بھی موجود ہیں، لیکن فعال نہیں ہیں۔ البتہ، ترقّی پسند سوچ اور نظریات اُسی طرح کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک فطری لائحہ عمل ہے، جو رُک نہیں سکتا۔ ہمارے ہاتھوں یہ کام نہیں ہوگا، تو زمانے کے تقاضے اسے پورا کریں گے۔

س:کیا زندگی میں رومانس شامل ہونا ضروری ہے؟

ج:جی بالکل۔ انسان رومانٹک نہ ہو، تو زندگی کے رنگوں میں نکھار نہیں آتا۔ یہ رومانس آپ مظاہرِ فطرت، درختوں، وادیوں، پھولوں، اپنے چاہنے والوں، اپنی بیوی بچّوں میں بھی تلاش کر سکتے ہیں۔آپ جتنے رومانٹک ہوں گے، آپ کو زندگی اتنی ہی خُوب صورت نظر آئے گی۔

س: سُنا ہے، آپ کوکنگ بھی کرتے ہیں؟

ج: چوں کہ بہن، بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، اِس لیے اپنی ماں کے ساتھ ہر کام میں شریک رہتا۔ گھر کے کھیت سے سبزی توڑنے سے لے کر ہانڈی بنانے تک ہر کام میں حصّہ لیتا۔ یوں کھانا پکانا اپنی والدہ سے سیکھا۔ میری پہلی بیگم بھی اچھا پکاتی تھیں۔ اب میں سب کچھ بناتا ہوں، گھر میں دعوتوںؓ کا انتظام مَیں ہی کرتا ہوں اور خانساماں کے ہوتے ہوئے بھی فارغ وقت میں خود ہی کوکنگ کرتا ہوں، خاص طور پر پائے، نہاری، پلائو، کریلے گوشت، دال گوشت، مٹن کڑاہی وغیرہ میری خاص ڈشز ہیں۔

س: آپ کی کتنی کتب منظرِعام پر آ چُکی ہیں؟

ج: میری شاعری کے دو مجموعے شایع ہوچُکے ہیں، جس میں’’ادھوری کلیات‘‘ اہم ہے۔ ناول میں’’آدھے چاند کی رات‘‘ جو ناولٹ ہے اور ناول ’’ٹوٹی ہوئی طناب ادھر‘‘ اِس وقت زیرِ بحث ہے۔ دوسرا ناول ’’دشتِ امکان‘‘ آنے والا ہے۔ ڈرامے ’’چاند گرہن‘‘ ’’ہوائیں‘‘ اور ’’دریا‘‘ شائع ہو چُکے ہیں۔ مضامین کے دو مجموعے’’دبستان کھل گیا‘‘ اور ’’طرزِ احساس‘‘ شائع ہوچُکے ہیں۔ افسانوں کا مجموعہ ’’کہانی مجھے ملی‘‘ کا بھارت میں ہندی میں ترجمہ ہوا ہے۔ آج کل اپنی آٹو بائیو گرافی لکھ رہا ہوں، جس کے 600 صفحات مکمل ہو چُکے ہیں۔

س: کچھ برسوں سے ادبی میلوں کا کلچر بہت مقبول ہوا ہے۔اِس ضمن میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: مَیں سمجھتا ہوں، پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ پر اِس سے بہتر مکالمے کا موقع شاید پہلے کبھی نہ تھا۔ اب پاک ٹی ہائوس اور کافی ہائوس کا کلچر تو معدوم ہو چُکا ہے، اِس لیے اِن فیسٹیولز کے ذریعے ہر طرح کے موضوع پر مکالمہ ہوسکتا ہے۔ مَیں لاہور لٹریری فیسٹیول اور فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کی ایڈوائزری میں ہوں اور میری بیگم، ڈاکٹر شیبا عالم فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کی بانی رکن ہیں۔

س: کوئی دُعا جو ہمیشہ لبوں پر رہتی ہو؟

ج: اپنی نانی اماں کی دُعا کہ’’ اللہ حق، ناحق دونوں سے بچائے‘‘ یعنی قصور کیا ہے، تب بھی اور قصور نہیں کیا(غلط الزام کی صُورت) تب بھی۔

ہاتھ تمھارے لمبے ہیں…

سیاہ رات میں روشن سوال

تم کہتے ہو

ہاتھ تمہارے لمبے ہیں

کتنے لمبے؟

سردیوں کے فرغل میں لپٹی رات سے زیادہ لمبے

لاٹھی ٹیکتے اندھے اور بدشکل انصاف کی باگیں تھامے

ہاتھ تمہارے لرز رہے ہیں

تم کہتے ہو ہاتھ تمہارے لمبے ہیں

کیا بارش کی دھاروں سے زیادہ لمبے ہیں

کیا سورج کی کرنوں سے زیادہ لمبے ہیں

کیا میرے وطن کے نقشے سے بھی لمبے ہیں

کیا معصوموں کی چیخ سے زیادہ لمبے ہیں

کیا ہاتھ تمہارے

میرے دل کے حرف سے زیادہ مضبوطی سے جم سکتے ہیں

ہاتھ تمہارے اخباروں کی سرخیوں جتنے لمبے ہیں

یہ فردِ جرم کی تحریروں اور چابک جتنے لمبے ہیں

کیا ہاتھ تمہارے

دھوپ اور خوشبو جیسے لمبے ہو سکتے ہیں

میری عُمر میں شامل جتنی عمریں ہیں

کیا ہاتھ تمہارے

اس سے آگے بڑھ سکتے ہیں

ہاتھ تمہارے...........

(ضیاء الحق کے ایک بیان کے جواب میں اصغر ندیم سیّد کی ایک نظم )

تازہ ترین