آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا پابندیاں، کاروباری طبقہ کی مشکلات

بولٹن کی ڈائری/ ابرار حسین
 بولٹن میں کورونا پابندیوں کی روک تھام کے لیے جو نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان پابندیوں سے کاروباری طبقہ کے لیے مزید دشواریاں پیدا ہورہی ہیں، بولٹن کا چھوٹا ایشیائی کاروباری طبقہ تو زیادہ ہی پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، یہ طبقہ اس شش و پنج میں رہا کہ نامعلوم کس طرح کی نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے قبل بولٹن کو دوبار لاک ڈائون کیا گیا اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس لاک ڈائون سے پہلے ہی کونسل سے یہ مطالبہ کررہی تھی کہ یہ پابندیاں ہٹائی جائیں اور اس سلسلے میں بولٹن کونسل کی جانب سے ٹائون کی بڑی بڑی شاہرائوں جہاں سے بولٹن کی حدود شروع ہوتی ہے وہاں پر الیکٹرانک سائن بورڈ لگا رکھے ہیں جن پر اسٹاپ بولٹن لاک ڈائون لکھا ہوا ہے اور گزشتہ چار ہفتوں سے یہ مہم جاری ہے مگر اس کے باوجود بولٹن کو تیسری بار لاک ڈائون کردیا گیا جب کہ گریٹر مانچسٹر کے میئر انڈی برنہم کو نارتھ ویسٹ کے علاقے سے متعلق بعض تحفظات جو مالی پیکیج کے حوالے سے تھے، کہ باوجود بالآخر نئی پابندیاں عائد کردی گئیں جب کہ تازہ ترین جو مشکلات در پیش ہیں کہ بعض کاروبار کھلے ہونے کے باوجود صارفین یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید تیسرے درجے کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد کاروبار بند ہوگئے ہیں، اس لیے حکومت اور کونسل کو

یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ موثر مہم کے ذریعے ٹائون میں بسنے والوں کو یہ زیادہ سے زیادہ باور کرایا جائے کہ کاروبار پر اس تیسرے درجے کے رولز کے لاگو ہونے سے عملی طور پر کیا تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے اس تمام صورت حال کا جائزہ مقامی میڈیا نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ جیسے ہی بولٹن ٹیر3میں داخل ہوتا ہے تو عام کاروبار کرنے والوں کی جانب سے عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ دن کے وقت کاروبار کھلے ہیں، ٹیئر3کے اصولوں کے مطابق تمام دکانیں کھلی رکھی جاسکتی ہیں، یہاں تک کہ جنہیں اس سال کے شروع میں غیر ضروری قرار دیا گیا تھا لیکن ٹیئر3کے قواعد کا مطلب یہ ہے کہ ایسی دکانیں جہاں چائے، کافی یا دیگر عوامی تواضع کے کھانے پیش نہیں کرتے اور ایسے ریستوران جو یہ کام نہیں کرتے، تب تک تمام پب، بار کو بند کرنا ضروری ہے، ان مشکلات کو واضح کرتے ہوئے ایک مقامی کیفے ٹیریا کے مالک کا کہنا ہے کہ ہمیں عوام تک یہ پیغام پہنچانا ہوگا کہ اس شہر کے کیفے کاروبار کے لیے کھلے ہیں کیونکہ ہمارے پاس گاہک آئے تھے اور وہ جزبز ہورہے تھے، انہوں نے سوچا کہ ٹیئر3آنے کے بعد ہم بند ہوجائیں گے لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک کاروبار کی حیثیت سے اپنے بزنس کو متنوع بنا رہے ہیں اور زیادہ تر ترسیل کررہے ہیں لیکن یہ واقعی مشکل تھا وہ معاشرتی فاصلے کے قواعد و ضوابط پر پوری طرح عمل کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سماجی دوری کے لحاظ سے ہر چیز موجود ہے اور ہمارے یہاں این ایچ ٹیسٹ اور ٹریس سسٹم بھی موجود ہے اور کہا گیا ہے کہ انہیں اپنے تمام حوصلہ مند اور وفادار صارفین کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہمیں سہارا دیتے رہیں اور مقامی کاروبار کی حمایت بھی کرتے رہیں، اسی طرح ایک اور کاروباری شخصیت لوگوں کو اس سلسلے میں تاکید کررہی تھیں اور جو لوگ یہاں بیٹھ کر کھانا نہیں چاہتے وہ خریداری کرسکتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عملے نے کاروبار ہو کر ہر ممکن حد تک ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے، 5اسٹار کے اصولوں کے مطابق حفظان صحت سے متعلق کاروبار کی حیثیت سے ان کی صفائی، ستھرائی کے معیار کو ہمیشہ اعلیٰ رکھا ہے اور موجودہ صورت حال میں کاروبار کو زیادہ سے یادہ محفوظ بنانے کے لیے صفائی کے اضافی اقدامات متعارف کرواتے ہیں، اوپر بالا صورت حال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کاروباری طبقے نے اس عرصے میں اپنے آپ کو حکومت کے قواعد و ضوابط سے مطابقت بنانے کے لیے کافی تگ و دو کی ہے، سماجی فیصلے قطار بنانے اور فیس ماسک وغیرہ کے جو قوانین ہیں اور نیا ٹائم فریم ورک ان سب پر سختی سے عمل کیا ہے تاہم بعض امور کی وسیع پیمانے پر وضاحت نہ ہونے سے کاروباری طبقہ کو صارفین کی کافی کمی کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے، آخر میں بولٹن کی عوامی تواضع کرنے والی فرمیں جو بچوں کو اس نصف مدت میں مفت کھانا کھلائیں گی، ان کا ذکر خیر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، بولٹن کی کچھ مسلمان نواز کمپنیاں جو انگلینڈ اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے فٹ بالر مارکس دا شفورڈ (انیت) کے تعاون سے ایک مہم کے بعد اسکولوں میں مفت کھانا پیش کریں گی، نصف مدت کے دوران مفت اسکول کے کھانے میں توسیع کے لیے انگلینڈ کے فٹ بالر مارکس دا شفورڈ کے اس کام سے بہت متاثر ہیں جس سے دوسری کمپنیوں نے بھی ایسا ہی کام شروع کردیا ہے۔ 

یورپ سے سے مزید