آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اورنج ٹرین کا اجراء: لاہوریوں نے سکھ کا سانس لیا

ملک میں آج کل سیاسی افق پر حکومت اور اپوزیشن میں جاری رسہ کشی پر جب نظر دوڑائی جائے تو اس میں اپوزیشن کی بجائے حکومت کا اپنا زیادہ قصور نظر آتا ہے جس نے اپنے غیر مقبول فیصلوں اور پالیسیوں سے عوام کو شدید ترین مشکلات میں مبتلا کردیا ہے جس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد پر جب نظر دوڑائیں تو دھیان اس مرد قلندر کی طرف جاتا ہے جسے تاریخ نوابزادہ نصر اللہ خان کے نام سے جانتی ہے اور جنہوں نے کتنے ہی اپوزیشن اتحادوں کی سربراہی کی۔ نوابزادہ نصر اللہ خان جیسا دانشور ہو، آج کی دانش گاہ میں جو سیاست کی اخلاقی اقدار کے امین تھے۔ گزر گئے کبھی خواہش نہ کی کثرت کی اور اب آسودہ خاک ہیں۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں یہ شعر دہرایا کرتے تھے۔

اب کو ئی اور کرے پرورش گلشن غم

دوستوں ختم ہوئی دیدہ تر کی شبنم

آج کی بز م سیاست میں غریب کی پکار کون سنے گا کہ ’’یارو مہنگائی مار گئی‘‘

اس نعرہ ’’یارو مہنگائی مار گئی‘‘ کی بنیاد پر بننے والے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم (پاکستان جمہوری تحریک) کی سربراہی جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن کے حصے میں آئی ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ماضی میں انہوں نے اچھی سیاست کی ہے مگر کیا اب وہ مرحوم نواب زادہ نصر اللہ خان کی طرح اپوزیشن کو متحد رکھنے اور چلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گامگر اپوزیشن کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ رابطے اور اپوزیشن کے حالیہ تینوں جلسے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن ہی اپوزیشن کو متحد رکھ سکنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان کی جماعت کی سٹریٹ پاور منظم ہے اور صرف ان کی ایک آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہے مگر ابھی تو اس ’’امتحان عشق‘‘ کی ابتدا ہے۔

مسلم لیگ (ن) چونکہ اپنی بنیادی سیاست لاہور سے کرتی ہے اور اس کی مین قیادت کا تعلق بھی لاہور سے ہی ہے ویسے بھی تمام تحریکوں میں لاہور کا اہم کردار رہا ہے لہٰذا پی ڈی ایم کے لاہور میں ہونے والے آخری جلسے سے اس تحریک کی سمت کا تعین ہو سکے گا۔ لاہور میں میٹرو بس سروس کی کامیابی کے بعد میاں شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دور میں پنجاب حکومت نے 2015میں لاہور اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر کام شروع کیا جو تعمیر کے دوران مختلف رکاوٹوں کا شکار رہا، کافی دیر تک عدالتی احکامات پر کام التوا کا شکار رہا۔ 

جب عدالت کی طر ف سے اس کا م کو مکمل کرنے کی اجازت ملی تو پھر شہباز شریف کے دور میں بڑی تیزی سے کام ہوگیا مگر 2018 میںیہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا اور نئی پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے بعد حکومتی ترجیحات بدل گئیں اور یوں منصوبہ ایک مرتبہ پھر التوا کا شکار ہوگیا۔ مگر موجودہ حکومت کی طرف سے اورنج لائن ٹرین چلانے کی تاریخ افتتاح میں بار بار کی تبدیلی کے بعد آخر کار 25 اکتوبر کو اس کا آپریشنل افتتاح ہوگیا ہے مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کا منصوبہ ہونے کے ناطے اس منصوبے کی افتتاحی تقریب علیحدہ سے منعقد کی۔ 

جس کے بعد سرکاری تقریب کو محدود کردیا گیا تاکہ کسی قسم کی ناپسندیدہ صورت حال پیدا نہ ہو۔ اس منصوبے کی تکمیل سے لاہور کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی ایک اچھی سہولت میسر آئے گی۔ اس منصوبے کے طویل عرصے سے زیر التوا ہونے کے باعث اس کے روٹ پر متاثر ہونے والے کاروبار سے جڑے افراد نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے اور اب وہ بھی ایک مرتبہ پھر اپنا کاروبار پرسکون انداز میں کرسکیں گے۔

حکومت نے مہنگائی کے جن پر قابو پانے کے لئے اب تک جتنے بھی اقدامات کئے ہیں ان کے نتائج خاطر خواہ نہیں آئے اور عام آدمی پس کر رہ گیا ہے لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں اور اب وہ پی ٹی آئی کی طرف سے ’’ہم نے چور پکڑ لئے ہیں‘‘ کے نعرے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور پی ٹی آئی قیادت اور اس کے نمائندوں سے پوچھتے ہیں کہ اس حکومت نے سوا دو سال میں کیا سہولت دی ہے اور مہنگائی کو کیوں کنٹرول نہیں کیا۔ حکومت کی طرف سے سہولت بازاروںکا قیام اگرچہ ایک اہم اور مثبت قدم ہے مگر اس کے اثرات کسی طور پر اتنے نہ تو ہیں اور نہ ہی ہوسکتے ہیں کہ عام آدمی کو اس سے کوئی ریلیف مل سکے۔ 

حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ سہولت بازاروں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب مارکیٹوں اور بازاروں میں بھی اشیائے ضرورت مناسب داموں پر میسر ہوں اور ان کی کوالٹی بھی موزوں ہو۔ اب تک حکومت کی طرف سے اس طرف نہ تو کوئی موثر قدم اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی اس کے کوئی آثار دکھائی دیتے ہیں۔ سردار عثمان بزدار کی حکومت اگر اس اہم مسئلے پر قابو نہ پا سکی تو پھر یہ اس کے لئے فیصلہ کن بھی ہوسکتا ہے۔

حکومت انتظامی بیوروکریسی کو پوری کوشش کے باوجود وہ اعتماد نہیں دے سکی جو دفتری امور اور ترقیاتی کاموں کو نمٹانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔بزدار حکومت کو اس پر سوچنا ہوگاکہ وہ اب زیادہ دیر اپنی ناقص پالیسیوں کی ذمہ داری بیوروکریسی پر نہیں ڈال سکے گی۔ لہٰذا اب حکومت کے لئے ’’گڈ گورننس‘‘ کے لئے موثر کارروائیاں کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید