آپ آف لائن ہیں
ہفتہ9؍جمادی الثانی 1442ھ 23؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک | 17 نومبر ، 2020

گلگت بلتستان کے تمام حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آگئے

گلگت بلتستان کے تمام حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے جن کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے سلسلے میں آخری حلقے جی بی اے 18 دیا مر 4 تانگیر کا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ بھی سامنے آگیا۔

حلقہ جی بی اے 18 دیا مر 4 تانگیر کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے گلبر خان 4 ہزار 59 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار ملک کفایت الرحمٰن 3 ہزار 544 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔


گلگت بلتستان کی 24 میں سے 23 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آ گئے ہیں۔

کس جماعت نے کتنی نشستیں جیتیں 

9 نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب رہی، 7 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی 3 اور مسلم لیگ نون 2 سیٹیں لینےمیں کامیاب ہو سکیں، جے یو آئی ف اور ایم ڈبلیو ایم کاایک ایک امیدوار فتح اپنے نام کر سکا۔


گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جی بی اے1، گلگت 1 پر پیپلز پارٹی کے امجد حسین 11 ہزار 178 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔


حلقہ جی بی اے ٹو گلگت ٹو سے تحریک ِانصاف کے امیدوار فتح اللّٰہ 6 ہزار 696 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے، یہاں پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کو صرف 2 ووٹ کم یعنی 6 ہزار 694 ملے، جس پر پیپلز پارٹی دھاندلی کا الزام لگا کر احتجاج بھی کر رہی ہے۔

جی بی اے 4 نگر 1 سے بھی پیپلز پارٹی کے امجد حسین 6 ہزار 104 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔

جی بی اے 5 نگر 2 سے آزاد امید وار جاوید علی 2 ہزار 443 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

جی بی اے 6 ہنزہ سے پی ٹی آئی کے عبید اللّٰہ بیگ 5 ہزار 624 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔

جی بی اے 7 اسکردو 1 سے پی ٹی آئی کے راجہ زکریا خان 5 ہزار 288 ووٹ لے کرکامیاب ہوگئے۔

جی بی اے8 اسکردو 2 سے ایم ڈبلیو ایم کے محمد کاظم7 ہزار 534 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

جی بی اے 9 اسکردو 3 سے آزاد امیدوار وزیر سلیم 6 ہزار 286 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

جی بی اے 10 اسکردو 4 سے آزاد امیدوار ناصر علی خان 4 ہزار 667 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

جی بی اے 11 کھرمنگ سے پی ٹی آئی کے سید امجد علی نے 5 ہزار 733 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

جی بی اے 12 شگر سے پی ٹی آئی کے راجہ اعظم خان نے 10 ہزار 349 ووٹ لے کر کامیابی اپنے نام کی۔

جی بی 13 استور 1 سے پی ٹی آئی کے محمد خالد خورشید 5 ہزار 325 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔

جی بی اے 14 استور 2 سے پی ٹی آئی کے شمس الحق نے 5 ہزار 418 ووٹ لے کرکامیابی حاصل کی۔

جی بی اے 15 دیامر 1 سے آزاد امیدوار شاہ بیگ 2 ہزار 685 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

جی بی اے 16 دیامر 2 سے مسلم لیگ نون کے انور انجینئر 5 ہزار 605 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔


جی بی اے 17 دیامر 3 سے جے یو آئی ف کے رحمت خلیق 5 ہزار 74 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔

جی بی اے 18 دیامر 4 سے پی ٹی آئی کے گلبر خان 4 ہزار 59 ووٹ لے کر کامیاب رہے ہیں۔

جی بی اے 19 غذر 1 سے آزاد امیدوار نواز خان ناجی 6 ہزار 448 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔

جی بی اے 20 غذر 2 سے پی ٹی آئی کے نذیر احمد 5 ہزار 387 ووٹ لے کرکامیاب رہے۔

جی بی اے 21 غذر 3 مسلم لیگ نون کے غلام محمد 4 ہزار 609 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

جی بی اے 22 گانچھے 1 سے آزاد امیدوار مشتاق حسین 6 ہزار 51 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

جی بی اے 23 گانچھے 2 سے آزاد امیدوار عبدالحمید نے 3 ہزار 696 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

جی بی اے 24 گانچھے 3 سے پیپلز پارٹی کے انجینئر اسماعیل 6 ہزار 206 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں۔

حقوق کا حصول ووٹوں سے ممکن، عوام

واضح رہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں عوام نے شدید سردی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا گیا تھا۔

گلگت ڈویژن کے ضلع نگر میں 98 سالہ بزرگ ووٹر شعبان علی نے شدید سرد موسم میں ووٹ ڈالا جبکہ ایک 80 سال سے زائد عمر کے ایک ٹانگ سے معذور بزرگ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

یہاں کے عوام کا ماننا ہے کہ اپنے حقوق کا حصول ووٹوں سے ہی ممکن ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد

گلگت بلتستان اسمبلی کے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار 361 ہے۔ مرد ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 5 ہزار 63 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 39 ہزار 998 ہے، جبکہ 1 لاکھ 26 ہزار 997 ووٹرز کو پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا۔

گلگت بلتستان کی 23 نشستوں پر ووٹنگ کے لیے 1 ہزار 260 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ مردوں کے پولنگ اسٹیشن کی تعداد 503، خواتین کے پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 395 جبکہ مرد و خواتین ووٹرز کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 362 تھی۔

گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 297 جبکہ 280 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن کی سیکورٹی کے لیے 13 ہزار 481 اہلکار تعینات ہیں، جن میں پولیس، رینجرز اور جی بی اسکاؤٹس شامل تھے۔

دیگر صوبوں سے 5 ہزار 700 اضافی پولیس نفری بھی الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کی گئی ہے جبکہ سینٹرل پولیس آفس گلگت میں کنٹرول روم قائم کیا گیا۔

انتخابات کے دوران جی بی اے 13 ون پولنگ اسٹیشن نمبر 44 میں برف باری اور راستوں کی بندش کے باعث پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔

برف باری اور شدید سرم موسم کے باوجود قانون ساز اسمبلی کیلئے ووٹنگ میں عوام کا جوش و خروش رہا، ووٹنگ ٹرن اوور 50 فیصد سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔

نتائج کے لیے بھی فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں، چیف الیکشن کمشنر

ادھر چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کا کہنا تھا کہ کہیں سے کسی بھی بدنظمی کی شکایت نہیں ملی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیلٹ بکسز کی آر او آفس تک ترسیل اور نتائج کے لیے بھی فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں۔