• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ پینل : ارشد عزیز ملک ،گلزار محمد خان

رپورٹ : احتشام طورو …عکّاسی: فرمان اللہ جان

سپریم کورٹ بار کاؤنسل کے نو منتخب صدر اور ممتاز قانون دان، عبداللّطیف آفریدی 11ستمبر 1942ء کو خیبر پختون خوا کے ضلع، خیبر کی وادیٔ تیراہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول سٹی نمبر وَن، پشاور سے میٹرک،1966 ء میں پشاور یونی ورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز، جب کہ1968ء میں اسی یونی ورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ زمانۂ طالبِ علمی میں سیاست میں قدم رکھا۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت پر اُنہیں یونی ورسٹی سے نکالا گیا۔ مزدور کسان پارٹی کے ہم درد رہے، تاہم1979ء میں غوث بخش بزنجو کی جماعت’’ پاکستان نیشنل پارٹی‘‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے صوبائی آرگنائزر مقرّر ہوئے۔

1986ء میں پاکستان نیشنل پارٹی کو نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کیا گیا، تو لطیف لالہ اُس کے بھی صوبائی آرگنائزر قرار پائے۔ 1997ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے46ضلع خیبر سے رُکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2005ء سے2007ء تک عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری رہے۔ تقریباً50سال سے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ پانچ مرتبہ پشاور ہائی کورٹ بار کاؤنسل کے صدر اور سپریم کورٹ بار کے سینئر نائب صدر کے عُہدوں پر خدمات سَرانجام دیتے رہے۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کے خلاف وکلاء کی احتجاجی تحریک میں پیش پیش تھے۔ کئی مرتبہ جیل بھی گئے، لیکن کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ان کی خوش قسمتی ہے کہ پہلی مرتبہ مُلک بھر کی طرح پنجاب کے وکلاء نے بھی بھاری تعداد میں اُنھیں ووٹ دے کر سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کا صدر منتخب کیا۔اُنھیں ایک قوم پرست رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔جنگ ، سنڈے میگزین نے اُن کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

حکومت ناتجربہ کار، عمران خان بے اختیار ہیں
جنگ پینل سے بات چیت کرتے ہوئے

س: مُلک کی موجودہ صُورتِ حال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: بدقسمتی سے پاکستان روزِ اوّل سے بحران کا شکار چلا آرہا ہے۔ قائدِ اعظم، محمّد علی جناح قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد انتقال کرگئے، جس کے باعث مُلکی آئین نہ بن سکا۔ لیاقت علی خان نے بھی آئین کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی، پھر یہ کہ اُنھیں دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ چناں چہ 1958 ء تک عملاً نوکر شاہی مُلک پر حکومت کرتی رہی۔ 

ایّوب خان نے 1962ء میں 1956ء کے آئین کو ختم کرکے مُلک کو جو نیا آئین دیا،وہ اُن کے اقتدار تک ہی نافذ رہا۔ جنرل یحییٰ خان نے جو کچھ کیا، وہ اکیلے اُس کے ذمّے دار نہیں تھے۔ اُنھیں تو نظر بند کیا گیا، لیکن دیگر ذمّے داران کے خلاف انکوائری تک نہیں کی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹّو نے 1973ء کا آئین دیا، جو بلاشبہ اُن کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔1977 ء میں ضیاء الحق نے آئین، جمہوریت اور مُلک کا حلیہ بگاڑ دیا۔ اُن کا جہاز دھماکے سے کیسے اُڑایا گیا؟ 

یہ الگ کہانی ہے۔ اُن کے بعد غلام اسحاق خان صدر بنے، جنہوں نے انتخابات کروائے، جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹّو وزیرِ اعظم بنیں، پھر نواز شریف کی باری آئی۔ دونوں نے فوج کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اُن دونوں کی حکومتیں قبل از وقت ختم ہوئیں۔ 1999ء میں پرویز مشرف نے مارشل لاء لگا کر دس سال گزارے۔یوں پاکستان کی تاریخ انتہائی مایوس کُن اور غیر یقینی رہی ہے۔ اِس دَوران اقتدار زیادہ تر فوجی آمروں ہی کے پاس رہا۔ پھر یہ کہ اس تمام عرصے کے دَوران صرف فوج کا ادارہ مضبوط ہوا، حالاں کہ جمہوریت اور تمام اداروں اور عوام کی مضبوطی کے بغیر مُلک کا دفاع مضبوط نہیں ہوسکتا۔ 

نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی مُلک اور جمہوریت دونوں کم زور ہیں۔سیاسی جماعتوں نے اقتدار کے لیے ہمیشہ فوج کی جانب دیکھا، جو درحقیقت اُن کی ایک بڑی غلطی ہے۔لہٰذا، اُنھیں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگنے کے ساتھ آیندہ ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ فوج ہمارا قومی ادارہ ہے، تو اس کے تمام اختیارات آئین کے مطابق ہی ہونے چاہئیں، کیوں کہ آئین سے تجاوز سے نہ صرف مسائل پیدا ہوتے ہیں، بلکہ فوج اور اداروں کے خلاف منفی تاثر بھی پیدا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، مُلک چلانے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے آئین کے سِوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

س: نیب کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفّظات ہیں، اِس حوالے سے آپ کا کیا مؤقف ہے؟

ج: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب کا قانون سیاسی انجینئرنگ کا قانون ہے، جس کا مقصد سیاسی مخالفین کو دبانا اور بے بس کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد نیب قوانین میں ترامیم حکومت کی ذمّے داری ہے۔ ضابطہ دیوانی میں تبدیلی کے حوالے سے وکلاء نے دو مہینے ہڑتال کی، جس پر صوبائی حکومت نے کمیٹی بنائی، لیکن کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔نیز، یک طرفہ احتساب کا تاثر بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ 

صرف اپوزیشن کو نشانہ بنانا اور حکومتی عُہدے داروں کو رعایت دینا اچھی روایت نہیں۔عدالتوں نے کئی مقدمات میں اس اَمر کی نشان دہی کی ہے۔میر شکیل الرحمان کی گرفتاری بھی بلاجواز اور غیرقانونی تھی۔ اُنھیں آٹھ ماہ تک قید میں رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اسی طرح ضمانت تک کے ملزمان کو کئی کئی سال قید میں رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔

س: کیا سپریم کورٹ بار حکومت اور اپوزیشن کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے؟

ج:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حکومت اور اپوزیشن کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، لیکن اس کے لیے فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو سب سے پہلے گالم گلوچ کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ کل یہی لوگ وزیرِ اعظم بن کر معزّز بن جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار اِس ضمن میں مشاورت کے بعد ثالثی کے حوالے سے اپنا ایجنڈا تیار کرے گی۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہّیے ہیں۔ 

اپوزیشن کے احتجاج سے مُلک میں افراتفری اور انتشار پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے، لہٰذا تمام معاملات مذاکرات ہی کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔سیاست میں حکومت کا کردار بڑے بھائی کا ہوتا ہے، لیکن تحریکِ انصاف کا رویّہ اپوزیشن جیسا ہی ہے، جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

س:عدلیہ کے موجودہ کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں؟ یہ باتیں کہاں تک درست ہیں؟

ج:وکلاء نے پہلے بھی عدلیہ کا دفاع کیا اور اب بھی کریں گے، لیکن عدلیہ کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جانب دار ہے اور نہ ہی کوئی دبائو قبول کرتی ہے۔ فیصلے صرف قانون اور آئین کے مطابق ہوں گے۔ 

حال ہی میں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو بدنیّتی پر مبنی قرار دیا، لیکن اُن کی اہلیہ اور بچّوں کا کیس ایف بی آر کو بھیج دیا، جو حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ اس کا کوئی جواز نہیں بنتا اور اسے عدلیہ کی تاریخ میں ایک متنازع فیصلے کے طور پر دیکھا گیا۔

س:عوام انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، جلد انصاف کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ج: انگریز نے جو عدالتی نظام چھوڑا، ہمارے ہاں ابھی تک وہی نظام چل رہا ہے۔ وہی پرانے قوانین ہیں اور ججز ان قوانین ہی کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔ کسی بھی حکومت نے عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

بار ایسوسی ایشن کی کوشش ہوگی کہ فوج داری مقدمات میں وسیع پیمانے پر اصلاحات لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، جس کے لیے جلد ہی ایک کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ ہمارا نظامِ عدل مریض ہے، جس کی اصلاح کے لیے عوام، عدلیہ اور حکومت کو اپنا اپنا حصّہ ڈالنا ہوگا۔

س:موجودہ حکومت کی کارکردگی سے آپ کس قدر مطمئن ہیں؟

ج:مُلک میں آج کسان، مزدور کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ ایک کروڑ سے زاید افراد بے روزگار ہوگئے، لیکن حکومت نے بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ایک قدم بھی نہیں اُٹھایا۔ دراصل موجودہ حکم ران جن طبقات کی نمایندگی کر رہے ہیں، منہگائی اُن کا مسئلہ ہی نہیں ہے، اِس لیے منہگائی کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہی ہے۔ 

حکومت انتہائی ناتجربہ کار لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ عمران خان بے بس اور بے اختیار ہیں۔ حکومت نے عوام کی ترقّی اور خوش حالی کے لیے کچھ نہیں کیا، اُسے اپنی پالیسیز پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔

س:انتخابات میں دھاندلی اور مداخلت جیسی شکایات کا کس طرح تدارک کیا جاسکتا ہے؟

ج:انتخابات میں دھاندلی اور مداخلت کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں۔ میری تجویز ہے کہ فوج کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو زیادہ اختیارات دینے ہوں گے اور چیف الیکشن کمشنر کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ تاہم بوقتِ ضرورت فوج، ایف سی سمیت سیکوریٹی ادارے مدد کے لیے طلب کیے جا سکتے ہیں۔

اگر الیکشن کے دَوران کہیں گڑبڑ ہوجائے، تو انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہیے۔

س:پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے بارے میں کیا رائے ہے؟ اس کے سیاسی ماحول پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے؟

ج:پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت کا شکوہ کر رہی ہیں۔دیکھیں !کئی آپشنز ہیں۔احتجاج میں شدّت سے معاملات بگڑیں گے اور احتجاجی تحریک تیز ہونے کی صُورت میں استعفے بھی آسکتے ہیں۔

پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات ہوں تاکہ تحفّظات پر بات ہوسکے ، یقیناً اپوزیشن کا مطالبہ نئے انتخابات ہی ہوں گے، اِس صُورت میں حکومت کی چُھٹّی ہوسکتی ہے۔ 

تیسرا راستہ مارشل لاء کا ہے، جس سے فوج متنازع ہوجائے گی اور عوام براہِ راست فوج کا نام لیں گے، جب کہ ابھی صرف چند لوگوں کا نام لیا جا رہا ہے۔ ایک اور آپشن یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس لے اور حکومت کو رخصت کرے، لیکن یہ طریقہ قانونی طور پر جائز نہیں۔

س:اِن دنوں غدّاری کے الزامات لگانے کا سلسلہ بھی عروج پر ہے؟

ج: غدّاری کے الزامات سے نفرتیں جنم لیتی ہیں۔عبدالغفّار خان، ولی خان سمیت کئی سیاست دانوں پر غدّاری کے لیبلز لگتے رہے ہیں۔ اس طرح کی باتوں سے لوگوں میں دُوریاں اور تلخیاں پیدا ہوتی ہیں، لہٰذا سیاست میں اس طرح کی الزام تراشیوں سے گریز ہی کیا جانا چاہیے۔

س: کہا جاتا ہے کہ آپ پی ٹی ایم کے حامی ہیں، تو اُنھیں کیا مشورہ دیں گے؟

ج: پی ٹی ایم کو سیاسی دھارے میں لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور مَیں اس طرح کے مذاکرات کا حامی ہوں۔ایک حامی کے طور پر اُنھیں کئی بار مشورہ دے چُکا ہوں کہ اُسے سیاسی دھارے میں آکر ایک منظّم سیاسی جماعت کی شکل اختیار کرنی ہوگی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان پر دبائو کم ہوگا، بلکہ کیسز میں بھی کمی آئے گی۔ نیز، ریاست بھی پی ٹی ایم پر غیر مُلکی ایجنٹ کے الزامات لگا کر اُنہیں انتہا پسندی کا راستہ دِکھانے کی بجائے اُس کی اصلاح کرے۔

س: کچھ ذاتی زندگی سے متعلق بتائیں، شادی پسند سے کی؟

ج:قبائلی نظام میں شادی والدین کی مرضی سے کی جاتی ہے۔ ساتویں جماعت میں تھا کہ میری منگنی کر دی گئی اور یکم اگست1965ء میں شادی ہوگئی۔ مَیں کبھی پیار ویار کے چکر میں نہیں پڑا ( ہنستے ہوئے) یونی ورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی چار لڑکیاں میرے پاس آیا کرتی تھیں، تاہم میں اخلاقیات کا پابند ہوں، اِس لیے اُن کی طرف توجّہ ہی نہیں دی، ورنہ چاروں مجھ سے شادی کے لیے تیار تھیں۔

س: کتنے بچّے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟

ج:تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹا وکیل ہے، دوسرا ایک انٹرنیشنل تنظیم میں ملازمت کرتا ہے، جب کہ ایک بیٹا گائوں میں زمینوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

س:ادب سے کتنا لگائو ہے؟

ج:ادبی ذوق رکھنے والا انسان ہوں۔ احمد فراز،مصطفی زیدی، جالب، علّامہ اقبال،جوش ملیح آبادی،غالب، ساحر لدھیانوی، خوش حال خان خٹک،رحما ن بابا، حمید بابا،شیرازی،صنوبر کاکا جی اور بہت سے دیگر شعراء کو پڑھ چُکا ہوں۔ تاہم، غالب سے مشکل شاعر نہیں پایا۔ حبیب جالب کے ساتھ تو اچھے مراسم بھی تھے۔

س:موسیقی سے بھی کوئی شغف ہے؟

ج: کافی لگائو ہے۔ پشتو میں ناشناس ،خیال محمّد،قمر گلہ، نازیہ اقبال، گل پانڑہ کو سُنتا اور پسند کرتا ہوں۔ اُردو میں نورجہاں کا کوئی ثانی نہیں۔

س:فلمز بھی دیکھتے ہیں؟ اور کیسی فلمز پسند ہیں؟

ج: جوانی میں فلموں کا شوق تھا، لیکن اب تو وقت ہی نہیں ملتا۔ دلیپ کمار کی کافی فلمیں دیکھ چُکا ہوں۔

س:کھانے میں کیا پسند ہے اور کیا خود بھی کوکنگ کر لیتے ہیں؟

ج:مقامی کھانوں کو ترجیح دیتا ہوں، جن میں سیخ کباب، کڑاہی کباب وغیرہ زیادہ پسند ہیں، جب کہ چائینز سوپ تو بہت پسند ہے۔خود بھی تکے بنا لیتا ہوں۔

س:لوگ کہتے ہیں کہ ٓاپ مفت کیسز بھی لڑتے ہیں؟

ج:کبھی لالچ نہیں کیا۔ پیسے کمائے اور کھائے، جمع نہیں کیے۔ اللہ تعالیٰ کا شُکر ہے کہ عزّت زیادہ کمائی۔75 فی صد کیسز مفت لڑتا ہوں۔ شہر میں ایک انچ زمین بھی نہیں خریدی، جو جائیداد ہے، آبائی ہے۔طلبہ، مزدوروں یا پھردوست احباب اور سیاسی لوگ جو مقدمات ریفر کریں، اُن کے پیسے نہیں لیتا۔

سنڈے میگزین سے مزید