آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

متحدہ عرب امارات کی پاکستانیوں کیلئے وزٹ اور ورک ویزے پر پابندی کی خبر نے مجھ سمیت ہر شخص کو حیرت سے دوچار کردیا ہے۔ پاکستان پر یہ پابندیاں غیر معینہ مدت کیلئے لگائی گئی ہیں جبکہ پاکستان کے علاوہ دیگر 12 ممالک میں ترکی، ایران، افغانستان، عراق، شام اور لیبیا بھی شامل ہیں جن کے شہریوں پر یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا شمار پاکستان کے دیرینہ دوست ممالک میں ہوتا ہے جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد روزگار سے وابستہ ہے جو ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ پاکستان پر عائد یو اے ای کی ویزا پابندی سے ابتدا میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ یو اے ای حکومت نے یہ اقدام ممکنہ طور پر کورونا کے باعث اٹھایا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت جہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد پاکستان سے کئی گنا زائد ہے، اِس پابندی سے کیوں مستثنیٰ ہے؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان سے جتنے لوگ بھی سیاحتی یا ورک ویزے پر یو اے ای جاتے ہیں، اُن کیلئے پاکستان سے روانگی اور یو اے ای پہنچنے پر کورونا ٹیسٹ لازمی ہے۔ یو اے ای حکومت کی نئی پالیسی کے تحت ورک ویزے پر پابندی کے باعث تقریباً 3ہزار سے زائد وہ پاکستانی ورکرز جو اپنے ورک ویزے کا انتظار کررہے تھے، بھی متاثر ہوں گے اور کورونا سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال میں اِن پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی جگہ یقیناً بھارتی شہریوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں نائیجر میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران اپنے اماراتی ہم منصب ریم الہاشمی سے ون ٹو ون ملاقات میں اِس معاملے کو اٹھایا تھا لیکن یو اے ای حکومت کی جانب سے اب تک کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ٹائم فریم دیا گیا کہ یہ پابندیاں کتنی مدت تک عائد رہیں گی؟ ایسے میں سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے اور یہ افواہ بھی گردش کررہی ہے کہ یو اے ای حکومت کی جانب سے پاکستان پر ورک ویزے کی پابندی کی ایک وجہ پاک یو اے ای تعلقات میں سردمہری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی ہے۔ ان دونوں ممالک میں لاکھوں پاکستانی ورکرز روزگار سے وابستہ ہیں اور ہماری نصف سے زائد ترسیلاتِ زر اِن ممالک سے آتی ہیں۔

حالیہ پابندیوں کو یو اے ای اور اسرائیل کے مابین بڑھتے تعلقات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد یو اے ای میں اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے اور دونوں ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی تعلقات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مستقبل میں یو اے ای اسرائیل کے مابین دفاعی معاہدے متوقع ہیں جن سے یو اے ای اور سعودی عرب کا اسرائیل پر انحصار بڑھے گا جبکہ پاکستان پر کم ہوگا اور خطے میں تنازعات جنم لیں گے جس سے ایران سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ اِن حالات میں یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یو اے ای نے حالیہ پابندیاں اُن ممالک پر عائد کی ہیں جہاں اسرائیل اور یہودی مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اور یہ پابندیاں یو اے ای میں مقیم یہودیوں کے تحفظ کیلئے عائد کی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں یو اے ای میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ یہ درسست ہے کہ پاکستانی عوام، اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسرائیل کو غاصب ملک تصور کرتے ہیں جس نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے اور جب تک فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے، وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان کا اسرائیل کے خلاف سخت بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات اس وقت تک بحال نہیں ہوں گے جب تک مسئلہ فلسطین حل نہ ہوجائے۔‘‘ اُن کے اس بیان سے یہ تاثر ابھرا کہ پاکستان، اسرائیل کے بارے میں اپنی الگ پالیسی رکھتا ہے اور اس معاملے پر وزیراعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے اُن پر کافی دبائو ہے۔حال ہی میں یو اے ای حکومت نے مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کیلئے سوشل میڈیا کے بارے میں اپنے سخت قوانین مرتب کئے ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں۔ یو اے ای میں سوشل میڈیا پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف مباحثے یا تبصرے کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای میں پاکستانی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر یو اے ای حکومت کی اندرونی سیاست یا نظریات پر مبنی مباحثے اور تبصرے سے گریز کریںجو ایک مثبت قدم ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو یو اے ای حکومت کے سامنے سنجیدگی سے اٹھائے اور یو اے ای کے تحفظات دور کرتے ہوئے انہیں باور کرایا جائے کہ پاکستانی ورکرز روزگار کی غر ض سے یو اے ای جاتے ہیں اور اُنہیں یو اے ای حکومت کے اسرائیل سے تعلقات سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ وقت دور نہیں جب اِن پابندیوں کا اطلاق یو اے ای میں کئی سالوں سے روزگار سے وابستہ پاکستانیوں پر بھی ہوسکتا ہے اور خدشہ ہے کہ اُن کا ورک ویزا بھی منسوخ نہ کردیا جائے۔ اگر آج ہم نے یو اے ای کی حالیہ پابندی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مستقبل میں امکان ہے کہ بھارتی شہری یو اے ای میں پاکستانیوں کی جگہ لے لیںگے۔

تازہ ترین