آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

60 ہزار سے زاید افراد کو عربی سِکھا چُکے ہیں

بات چیت: منور راجپوت

ظفر اقبال نے دَورِ جوانی میں عربی زبان کے فروغ کے لیے’’ سوسائٹی فار دی پروموشن آف عربک‘‘ کی بنیاد رکھی، جسے اِس حوالے سے مُلک کے ایک معتبر ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔’’ اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز الائنس‘‘ کے پلیٹ فارم سے چھوٹے تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں، تو بچّوں خاص طور پر جیلوں میں قید اور اسٹریٹ چلڈرن کے لیے ’’بزمِ کرن‘‘ کے نام سے ایک سماجی تنظیم بھی اُن کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے، جب کہ’’ ڈیفینس ریذیڈینسی سوسائٹی‘‘ کے بانی صدر ہیں۔ یوں تقریباً گزشتہ 47 برسوں سے مُلک میں تعلیم اور اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔ گزشتہ دنوں اُن کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

60 ہزار سے زاید افراد کو عربی سِکھا چُکے ہیں
نمایندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے... (عکاسی: سہیل رفیق)

س: خاندان، ابتدائی حالات اور تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟

ج: میرے والدین قیامِ پاکستان کے بعد پہلے ملتان، پھر شجاع آباد اور چند دنوں بعد مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے۔ اُس دَور کا کراچی صاف ستھرا اور کم آبادی کا شہر تھا۔ تین ہٹّی کے بعد جنگل شروع ہوجاتا تھا۔ مَیں نے کراچی یونی ورسٹی سے گریجویشن کی اور پھر مزید تعلیم کے لیے امریکا چلا گیا۔ جب وطن واپس لَوٹا، تو والد صاحب کے دوست، جسٹس وحید الدّین کی وساطت سے آغا حسن عابدی کے پاس گیا، جو اُن دنوں ایک بینک میں اعلیٰ عُہدے پر فائز تھے۔ 

اُنھوں نے مجھے گریڈ تھری میں ملازمت کی پیش کش کی، لیکن میرا خیال تھا کہ برسوں بعد کہیں جاکر گریڈ وَن میں پہنچوں گا اور یوں پوری زندگی ملازمت ہی کے چکر میں گزر جائے گی، لہٰذا، ملازمت سے معذرت کرکے اپنی کمپنی بنا کر کاروبار شروع کردیا۔ میرا ٹیکسائل مینو فیکچرنگ اور ایکسپورٹ وغیرہ کا کاروبار تھا، جب کہ آئل اینڈ گیس سے متعلق بھی ایک کمپنی ہے۔ ٹیکسائل کا کام تو سانحۂ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں ختم ہوگیا۔

س: تو کیا نوجوانوں کو ملازمت نہیں کرنی چاہیے؟

ج: نہیں، نہیں، مَیں ایسا کچھ نہیں کہہ رہا۔ اصل بات رجحان کی ہے۔ جسٹس وحید الدّین نے بھی میرا مزاج دیکھتے ہوئے والد صاحب کو مشورہ دیا کہ’’ اِنھیں کاروبار ہی کرنے دیا جائے‘‘ اور الحمدللہ اس مَیں کام یاب بھی رہا۔

س: تعلیمی اور سماجی خدمات کی طرف کیسے آئے؟

ج: مَیں سمجھتا تھا کہ کاروبار کا تو ذاتی فائدہ ہے، مگر ہمیں معاشرے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔ سو، سب سے پہلے 1962ء میں’’ پاکستان، بیلجیئم فرینڈشپ ایسوسی ایشن‘‘ قائم کی، جس کے صدر چیف جسٹس انعام اللہ خان تھے۔ اِس پلیٹ فارم سے ہم نے بہت سی تقاریب کیں۔ تاہم، جب دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا، تو سفارت خانے بھی وہیں چلے گئے، جس کی وجہ سے ہماری سرگرمیاں بھی محدود ہوتی چلی گئیں۔میری خواہش تھی کہ عربی زبان کو فروغ دیا جائے، کیوں کہ یہ دین سمجھنے کے لیے ازحد ضروری ہے، تو ہم نے 1973ء میں’’ سوسائٹی فار دی پروموشن آف عربک‘‘ کی بنیاد ڈالی۔

اس کے لیے کرائے پر ایک عمارت حاصل کی گئی، جب کہ استاد کا انتظام سعودی قونصل خانے نے کردیا۔ ہم نے پہلی کلاس اِس طرح قائم کی کہ دوستوں نے اپنی بیویوں کو بھی اُس میں داخلہ دلوایا۔ صدر عارف علوی بھی اُس کلاس کا حصّہ تھے۔ صدر ضیاء الحق اقتدار میں آئے، تو اُنھوں نے ہم سے بہت تعاون کیا اور وہ ہماری ایک تقریب میں بھی تشریف لائے۔ اُس زمانے میں عرب ممالک میں ترقّیاتی کاموں کا آغاز ہوا تھا، جس کے لیے یہاں سے بڑی تعداد میں لوگ وہاں جا رہے تھے، ہم نے اُن کے لیے خصوصی عربی کلاسز کا انتظام کیا۔ 

نیز، مختلف اداروں سے رابطہ کرکے اُن کے ملازمین کو عربی سِکھانے کی پیش کش کی۔ اس کے حوصلہ افزا تنائج سامنے آئے اور ہم اب تک65 اداروں میں عربی کورسز کروا چکے ہیں، جب کہ ہماری سوسائٹی سے مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر چُکی ہے۔ عربی سِکھانے کے حوالے سے ہم نے مختلف کورسز ڈیزائن کیے ہیں اور طلبہ سے نہ ہونے کے برابر فیس وصول کی جاتی ہے۔ 

ہم نے 5 اکتوبر 1985ء کو’’ قومی عربی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا، جس میں مُلک بھر کے80 سے زاید اداروں کے 300 کے قریب وفود شریک ہوئے۔ بعدازاں، 1988ء میں ’’ عالمی عربی کانفرنس‘‘ کی، جس کے مہمانِ خصوصی صدر ضیاء الحق تھے، ساتھ کئی ممالک کے سفیر بھی شریک ہوئے۔ اس میں 22 ممالک کے 45 وفود آئے تھے۔اسے عرب میڈیا نے بہت زیادہ کوریج دی۔یہ دونوں کانفرنسز پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنسز تھیں۔ ہم نے مُلک بھر میں عربی کے یک ساں نصاب اور باہمی مشاورت کے فروغ کے لیے’’ عربی کوآرڈینیشن کاؤنسل‘‘ بھی قائم کی، جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت چئیرمین سینیٹ، وسیم سجّاد نے کی۔ 

اِن تمام کاموں کے لیے ہم نے کبھی حکومت سے مالی مدد حاصل نہیں کی۔نیز، ہم گزشتہ دس برسوں سے آئی بی اے میں بھی عربی زبان پڑھا رہے ہیں۔ جب ڈاکٹر عشرت حسین وہاں تھے، تو ہم نے اُن سے عربی کلاسز شروع کرنے کی استدعا کی، جس پر اُنھوں نے مختلف زبانیں سِکھانے کا پورا ایک شعبہ قائم کردیا۔ صرف چند ماہ میں عربی کے لیے 278 طلبہ نے داخلہ لیا، حالاں کہ وہاں عام طور پر ایلیٹ کلاس کے طلبہ آتے ہیں، اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام میں عربی سیکھنے کا کس قدر رجحان ہے۔

س: ڈیفینس ریذیڈنسی سوسائٹی قائم کرنے کا خیال کیسے آیا اور اس فورم سے کیا خدمات انجام دے رہے ہیں؟

ج: مَیں اِس علاقے کا قدیم باشندہ ہوں، تو مسائل کے حل لیے 1990ء میں اِس سوسائٹی کی بنیاد ڈالی، جس میں مقامی رہائشیوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ اس سوسائٹی کا افتتاح، معروف صحافی اور روزنامہ’’ جنگ‘‘ کے بانی، میر خلیل الرحمٰن نے کیا تھا۔ ہم نے انتظامیہ اور رہائشیوں کے درمیان بہترین روابط کے فروغ کے ساتھ، باہمی تعاون سے بہت سے مسائل بھی حل کروائے۔ پہلے کسی ناخوش گوار صُورتِ حال پر آگ بجھانے کا عملہ بھیم پورہ سے بلوایا جاتا تھا، مگر ہماری کوششوں سے ڈی ایچ اے میں فائر بریگیڈ اسٹیشن قائم ہوا۔ 

سڑکیں اور فُٹ پاتھ درست ہوئے، بڑے بڑے چوراہے ختم کروا کر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، جب کہ پانی، بجلی اور گیس سے متعلق بھی بہت سے مسائل حل کروائے۔یہاں پانی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے کراچی واٹر بورڈ کے حکّام سے ملاقات کی، تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ ڈی ایچ اے کو پانچ، چھے ملین گیلن پانی فراہم کر رہے ہیں، جب کہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق صرف تین ملین گیلن پانی مل رہا ہے، حالاں کہ معاہدے اور بڑھتی آبادی کی بنیاد پر علاقے کو کہیں زیادہ پانی ملنا چاہیے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ بااثر افراد کے گھر مفت ٹینکر پہنچ جاتے ہیں اور امیر ترین افراد ماہانہ 20، 30 ہزار کا پانی ڈلوا لیتے ہیں، مگر باقی لوگ کہاں جائیں؟ اس کی کسی کو فکر نہیں۔

س: یہ مسائل حل کیوں نہیں ہوپاتے؟

ج: اس کی بڑی وجہ پالیسز میں تسلسل کا نہ ہونا ہے۔ ہم انتظامیہ کے پاس مسائل کی فہرست لے کر جاتے ہیں، تو اُن میں سے جو دوچار آسان معاملات ہوں، وہ تو حل ہوجاتے ہیں اور باقی’’ پھر کبھی سہی‘‘ کی نذر ہوجاتے ہیں۔دراصل، ٹال مٹول اور نظرانداز کرنے کی پالیسی نے بھی آسان اور چھوٹے مسائل کو پہاڑ جیسے مسائل میں بدل دیا ہے۔

س: یہاں امن و امان کی کیا صُورتِ حال ہے؟

ج: باقی شہر کے اثرات ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔جب شہر میں کرائم بڑھتا ہے، تو یہاں بھی وارداتیں ہونے لگتی ہیں۔ گو کہ یہاں ایک ویجیلینس ڈیپارٹمنٹ قائم ہے، جس کے تحت جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں، لیکن اگر پولیس موجود نہ ہو یا چوکس نہ ہو، تو محض وارداتوں کی فلم بندی سے کیا ہوتا ہے۔

س: چھوٹے تاجروں کے لیے تنظیم بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور ان کے مسائل کیا ہیں؟

ج: اگر ہم زرعی شعبے کو بھی شامل کرلیں، تو چھوٹے تاجروں اور کاروباری افراد کا مُلکی روزگار میں 98 فی صد حصّہ بنتا ہے۔ یہ جی ڈی پی کا 40 اور ویلیو ایڈیشن کا 38 فی صد ہیں، مگر انھیں ہمیشہ نطرانداز کیا گیا اور نئی حکومت میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ مَیں نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کے دَوران ان کی حالتِ زار دیکھی، تو اپنی بساط کے مطابق مسائل کے حل کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ ہم نے ان تاجروں اور دُکان داروں کے مسائل کے حل کے لیے 2000ء میں ’’ اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز الائنس‘‘ کے نام سے ایک فورم تشکیل دیا، جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیرِ خزانہ، شوکت عزیز نے کی۔

چھوٹے تاجر عام طور پر کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھیں مختلف اداروں کے کئی کئی سو صفحات پر مشتمل انتہائی پیچیدہ فارمز تھما دئیے جاتے ہیں، جنھیں اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی باآسانی نہیں سمجھ سکتے۔ایک ایسا تاجر، جس کے پاس آٹھ، دس افراد کام کرتے ہوں، وہ اپنا کاروبار دیکھے یا ان کاغذات کا پیٹ بھرتا پِھرے۔ اِن تاجروں کو 40 سے زاید ادارے ڈیل کرتے ہیں اور ہر ایک کے اہل کار اُن کے پاس آکر ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ اُن کے لیے کوئی ایک ادارہ بنا دیا جائے، جو تمام معاملات ڈیل کرے۔پھر یہ کہ ان کی کوئی سُننے والا بھی نہیں، کیوں کہ چھوٹے تاجروں کی وزیروں، مشیروں یا اعلیٰ سرکاری حکّام سے دوستیاں بھی نہیں ہوتیں۔ بینکس سے آسان شرائط پر قرضے بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ 

اِس ضمن میں ہم نے گورنر اسٹیٹ بینک سے بات کی، تو اُنھوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پیپر ورک مکمل کرکے ایک کاپی ہمیں بھی دی۔ اُس کے مطابق ایک لاکھ روپے قرض پر پانچ لاکھ تک کی ضمانت دینی تھی، اگر اُن کے پاس پانچ لاکھ ہوتے، تو وہ ایک لاکھ کا قرضہ کیوں لیتے۔ ہمارے اعتراض پر جواب دیا گیا ’’ابھی تو ایسے ہی چلنے دیں، بعد میں دیکھ لیں گے۔‘‘ بات یہ ہے کہ بینک چھوٹے تاجروں کو پانچ، پانچ لاکھ قرض دینے کی بجائے کسی بڑے تاجر کو دو، چار کروڑ روپے دینے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں کہ ایک ہی شخص سے ڈیلنگ رہتی ہے۔ ایس ایم ایز کے نام سے بینک قائم کیے گئے، جن کی برانچز پوش علاقوں میں کھول دی گئیں۔ 

وہاں اورنگی، کورنگی سے چپل پہن کر آنے والا شخص جاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا، اس لیے وہ بینک ناکام ہوگئے۔ چھوٹے تاجروں کے لیے انڈسٹریل پارکس بنائے جائیں، جہاں اُنھیں پانی، بجلی، گیس اور بینکنگ سمیت تمام سہولتیں مہیا کی جائیں۔نیز، تربیت کی بھی ضرورت ہے کہ اُنھیں معلوم ہی نہیں کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چُکی ہے۔ ماہی گیری ہی کو دیکھ لیں۔ کوریا 40 بلین ڈالرز کی مچھلیاں پکڑتا ہے اور ہمارے ہاں اب بھی پرانے اور فرسودہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر چھوٹے ماہی گیروں کو تربیت اور سہولتیں دی جائیں، تو وہ مُلک کے لیے قیمتی زرِمبادلہ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

س: بچّوں کے حوالے سے بھی تو آپ کی ایک سماجی تنظیم ہے؟

ج: جی ہاں۔ ہمارے ایک دوست، کرنل(ر) اطہر نے، جو ڈی ایچ اے میں سیکریٹری تھے، مشورہ دیا کہ نوجوانوں میں بے مقصدیت اور بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے، لہٰذا، اُن کی کردار سازی کے لیے کام کرنا چاہیے، تو اس پس منظر میں ہم نے 2007ء میں’’ بزمِ کرن‘‘ کے نام سے ایک سماجی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اس کے تحت مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرز اور تربیتی ورکشاپس کرتے ہیں۔تاہم، ہمارا اصل فوکس جیلوں میں بند بچّے اور اسٹریٹ چلڈرن ہیں۔ 

ہوم سیکریڑی کی باقاعدہ اجازت سے جیلوں میں بند ڈھائی، تین سو بچّوں کی کردار سازی کے لیے پروگرامز کرتے ہیں۔ نیز، اُنھیں ہنرمند بنانے کے لیے مختلف کورسز بھی کرواتے ہیں تاکہ وہ باہر آکر کوئی کام کرسکیں۔ اُنھیں کھانا اور کپڑے وغیرہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہماری کمیٹی کے ایک فعال رکن، ڈاکٹر کیفی اقبال کے تعاون سے ان بچّوں کے دانتوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، ہم نے سائیکل کی دُکانوں یا ہوٹلز پر کام کرنے والے بچّوں کے لیے پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ایک اسکول بھی قائم کیا ہے، جس میں مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ بچّوں کو مفت کتابیں اور یونی فارم کے ساتھ روزانہ جیب خرچ بھی دیا جاتا ہے۔

س: بچّوں کے جرائم میں ملوّث ہونے کی کیا وجہ ہے؟

ج: والدین کی عدم توجّہی جرائم کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جن گھرانوں میں دو، تین بچّے کافی تھے، وہاں درجن بھر بچّے ہیں اور والدین اُن پر توجّہ بھی نہیں دے پاتے۔ پھر یہ بھی کہ بچّے کی پہلی درس گاہ گھر ہی ہے، تو اگر والدین آپس میں لڑتے رہتے ہوں، مار پیٹ، گالم گلوچ ہوتی ہو، تو بچّے پر جو منفی اثرات مرتّب ہوں گے، وہ واضح ہیں۔