آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسپین میں پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ 70کی دہائی میں شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے ۔اسپین میں اس وقت ایک لاکھ 20ہزار کے قریب پاکستانی مقیم ہیں۔پاکستانیوں کی تعداد کا 65فیصد حصہ صوبہ کاتالونیا کے دارالحکومت بارسلونا اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہے ۔اس کے بعد کچھ تعداد میںولنسیا ، طرطوسہ ، علی کانتے ، لگرونیو اور میڈرڈ میں پاکستانی کمیونٹی اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے ۔پاکستانی قوم کو مقامی ادارے اور کمیونٹی جفا کش اور محنتی قوم کے طور پرجانتے اور مانتے ہیں۔نائن الیون کے حادثے کے بعد دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کو جن الزامات کا سامنا کرنا پڑا وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ۔اسپین میں رہنے والے مراکش ، الجزائر ،بنگلہ دیش ، انڈیا ،براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے ممالک کے مسلمان بھی ایسی ہی کیفیت سے دوچار رہے ہیں ۔2008میں بارسلونا کی ایک مسجد سے کچھ پاکستانی گرفتار ہوئے جن پر دہشت گردی کا چارج لگا کر انہیں سزا دی گئی اور وہ اپنی سزا بھگت کر جیلوں سے رہا ہوئے ۔ایسے موقع پر میڈرڈ میں پاکستانی سفارت خانہ قونصلیٹ آفس بارسلونا اور اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے مقامی کمیونٹی سے تعلقات بحال رکھے اور ان کے ساتھ اپنائیت اور بھائی چارے کا ایسا برتائو کیا کہ مقامی باشندے پاکستانیوں کے قریب آنے

لگے۔پاکستانی کمیونٹی اسپین کے قومی اور مذہبی دنوں میں مقامی کمیونٹی کے شانہ بشانہ چلنے لگی اور دوسری طرف مقامی اسپینش کمیونٹی بھی پاکستان کے قومی اور مذہبی دنوں میں شمولیت اختیار کرنا شروع ہوگئی جس سے ذہنوں اور سوچوں میں پیدا شدہ فاصلے مزید کم ہو گئے ۔کسی بھی ملک کی ثقافت وہاں آباد قوم کی آئینہ دار ہوتی ہے دیار غیر میں ثقافتی سرگرمیاں دو اقوام کو ملانے کے لئے ایک پُل کا کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ ایسی سرگرمیوں سے مقامی کمیونٹی کو آپ کے رہن سہن ، ملبوسات ، خوراک اور پسند نا پسند کا پتا چلتا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ثقافتی سرگرمیاںدوسری قوم کو آپ کے پاس لانے ،قربتوں کو بڑھانے اور فاصلوں کو کم کرنے کا باعث بنتی ہیں کیونکہ ایسی سرگرمیوں میں شمولیت دوسری اقوام کی جھجک ختم کرتی ہے ۔دو سال سے اسپین میں پاکستانی ثقافتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بہت فروغ ملا ہے ۔موجودہ سفیر پاکستان رفعت مہدی کی خصوصی ہدایت پران کی ٹیم میں شامل بزنس قونصلر فیض احمد ، قونصلرشہزاد حسین اورقونصلر امتیاز فیروز گوندل نے ان تجارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔سفیرپاکستان کا اسپین کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں کا دورہ ، ایجو کیشن پر پاکستان اور اسپین کے تعلقات میں بہتری اسپین کے بڑے اخبارات کے دفاتر کا دورہ ان کے سربراہان سے ملاقات ،یہ وہ عوامل ہیں جن سے اسپین میں پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں مثبت رائے قائم ہوئی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اسپینش کمیونٹی سے کئے جانے والے میل ملاپ سے دو سال قبل پاکستان اور اسپین کی باہمی تجارت جو ساڑھے پانچ سو ملین ڈالرتھی اب بڑھ کر ایک بلین ڈالر سالانہ پر پہنچ گئی ہے ساتھ ساتھ اسپین کے بہت سے شعبے ایسے بھی ہیں جن میں پاکستان نے اپنے اقتصادی روابط بڑی تیزی سے بڑھائے ہیں ۔اسپین میںپاکستانی ثقافتی سرگرمیوں کی بہترین مثال سالانہ ڈپلو میٹک بازار ہے جسے میڈرڈ میں موجود دنیا بھر کے سفارت خانوں میں تعینات سفیروں کی بیگمات کی ایسوسی ایشن ’’ اے ڈی ای ‘‘ کے تحت منعقد کیا جاتا ہے اس ثقافتی بازار میں تمام ممالک اپنی ثقافت اجاگر کرنے کے لئے اسٹال لگاتے ہیں ۔یہ بازار اپریل میں لگایا جاتا ہے رواں سال ڈپلومیٹک بازار کی مہمان خصوصی ہسپانوی ملکہ ’’رائنہ صوفیہ ‘‘ تھیں ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہوں نے مختلف ممالک کے اسٹالز کا وزٹ بھی کیا ۔پاکستانی اسٹال پر ان کو سفیر پاکستان رفعت مہدی اور بیگم انیس مہدی نے خوش آمدید کہا ۔بیگم انیس مہدی نے ہسپانوی ملکہ کو پاکستان کے ملبوسات ،خوراک ، اور پاکستان کے خوبصورت مقامات کی تصاویر دکھائیںجن میں بادشاہی مسجد ، شاہراہ قراقرم ، فیصل مسجد اسلام آباد ، سوات اور گلگت کی تصاویر شامل تھیں ، جنہیں ہسپانوی ملکہ نے بے حد پسند کیا ۔ہسپانوی ملکہ پاکستانی اسٹال پر اسپینش اور دوسرے ممالک کی خواتین کی کثیر تعداد دیکھ کر حیران ہوئیں اور پوچھا کہ ایسا کیوں ہے ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ سب خواتین اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا رہی ہیں ۔پاکستانی اسٹال پرہسپانوی ملکہ کو شال کا تحفہ پیش کیا گیا جو انہوں نے بڑی محبت سے قبول کیا ۔اس موقع پر ہسپانوی ملکہ نے کہا کہ پاکستانی اسٹال پر آنے اور پاکستانی خواتین و حضرات سے ملنے سے پتا چلا ہے کہ پاکستان ایک اعتدال پسند اور ماڈرن ملک ہے جہاں کی ثقافت اور لوگ بہت خوبصورت ہیں ۔آج مجھے یہاں آکر پاکستان کا ایک نیا چہرہ نظر آیا ہے کیونکہ یہاں مجھے ملٹی کلچرل لوگ نظر آ رہے ہیں جو اسپین کے لئے بڑی خوش آئند بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ ثقافت کا کردار بھی یہی ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو جان سکیں پہچان سکیںایک دوسرے کے رہن سہن کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں ۔پاکستانی اسٹال پر سندھی اجرک ، شالیں ، بلوچی ٹوپیاں ، پنجابی دستار اور روایتی ہینڈی کرافٹس اور دوسرا سامان رکھا گیا تھا ۔پاکستانی اسٹال پر رکھے گئے کھانوں کو دوسرے ممالک کے سفیروں نے خوش دلی سے کھایا اور جلیبی کو بہت پسند کیا ۔سفیروںکی بیگمات اپنے ہاتھوں پر مہندی لگواتی رہیں ۔ پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ والی لائن اور سامنے سعودی عرب ، اردن ، ایران ، انڈیا فلپائن ، رومانیہ ،چائنا اور جاپان کے اسٹال تھے لیکن پاکستانی اسٹال پر رش کا یہ عالم تھا کہ وقت ختم ہونے کی وجہ سے اسٹال کو بند کرکے رش والی لائن کو ختم کیا گیا یہ سب لوگ مہندی لگوانے کے لئے کھڑے تھے ۔سفیر پاکستان اپنے اہل خانہ کے ساتھ سارا دن اسٹال پر موجود رہے ۔اسی طرح قونصلر شہزاد حسین بمعہ فیملی اور قونصلر امتیاز فیروز گوندل بھی بمعہ اہل وعیال ڈپلو میٹک بازار میں پاکستانی اسٹال پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا میں تعینات عملے سے کہا ہے کہ وہ ایسی ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیں ،کیونکہ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں رہنا ہے ،مقامی کمیونٹی میں ہماری دوسری نسل پروان چڑھ رہی ہے جنہیں یہاں کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں نوکریاں کرنی ہیںمقامی لوگ ہمیں تب ہی قبول کریں گے جب وہ ہمیں بلا جھجھک اور بغیر کسی ڈر کے ملیں گے، ہماری ثقافت کو جانیں گے انہیں علم ہوگا کہ ہم کون ہیں ہم کیسے ہیں؟ ایسا ممکن بنانے کے لئے ہمیں مقامی ثقافت کی سوجھ بوجھ اور مقامی لوگوں کو ہماری ثقافت کے بارے میں معلوم ہونا بہت ضروری ہے جس کے لئے سفارت خانہ پاکستان اور قونصلیٹ آفس بارسلونا بہتر انتظامات کر سکتے ہیں ۔ اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی معززین کا کہنا ہے کہ سفارت خانہ پاکستان اور قونصلیٹ جنرل بارسلونا آفس کو اپنے پلیٹ فارم سے ایسے پروگرام منعقد کرانے چاہئیں جو ہماری ثقافت کی اصل تصویر مقامی کمیونٹی کے سامنے پیش کر یں اور ایسے پروگراموں میں ہمارے ثقافتی کھیل جن میں کبڈی ، کشتی ، رسہ کشی ، والی بال شامل ہیں ان کے ٹورنامنٹس منعقد کرائے جائیں نیز حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ دنیا بھر کے سفارت خانوں کو ثقافتی پروگراموںکے انعقاد کا حکم نامہ جاری کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں