کورونا کنٹرول: نیا لائحہ عمل
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس کی تیسری اور سب سے خطرناک لہر کے تیزی سے پھیلائو، مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے اور شہریوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) پر عمل نہ کرنے کے رجحان کے پیش نظر حکومت نے اس عالمگیر وبا پر قابو پانے کے لئے عوام کے مفاد میں مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے جو حالات کی سنگینی کا ناگزیر تقاضا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں کورونا یا کوویڈ 19کی موجودہ تشویشناک صورتحال کے جائزے کے بعد ملک بھر میں سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اس نوعیت کی دیگر ان ڈور اور آئوٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے جن میں شادی بیاہ کی تقریبات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے اور ٹرانسپورٹ کا استعمال بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں وبا کا زور نسبتاً کم دیکھا گیا ہے مگر پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں مریضوں کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے اور برطانیہ سے آنے والی کورونا کی تیسری قسم نے ہر طرف سراسیمگی پھیلا دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جو خود بھی سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر احتیاط نہ برتنے پر کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، عوام سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ کورونا سے بچائو کیلئے ماسک پہنیں اور دوسری احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ ریستورانوں اور شادی کی تقریبات میں نہ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں۔ ویکسین کی ان ملکوں میں بھی قلت پیدا ہو گئی ہے جو خود اسے بناتے ہیں۔ ہمارے پاس وسائل نہیں کہ مکمل لاک ڈائون کریں اور لوگوں کو گھروں پر کھانا پہنچائیں۔ عوام نے اگر ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔ پچھلے 24گھنٹے میں کورونا کے پھیلائو کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم کےخدشات سو فیصددرست نظر آتے ہیں۔ اس دوران پورے ملک میں 45656ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 4767مثبت آئے مزید 57افراد انتقال کر گئے جس سے ہلاک شدگان کی تعداد 14ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ سوات اور پشاور میں متاثرین کی تعداد 20فیصد سے بڑھ گئی جبکہ پورے ملک میں یہ شرح 10.4فیصد رہی جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات کے اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ پچھلی دو لہروں میں بچے محفوظ رہے تھے اور 70سال سے زائد عمر کے لوگ بھی محفوظ تصور کئے جانے لگے تھے مگر اب ایک سے دس سال تک کے بچے اور 80سال سے زیادہ عمر کے بزرگ بھی کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔ مکمل لاک ڈائون سے گریز کرتے ہوئے حکومت بعض شہروں کے شدید متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈائون کر رہی ہے تاکہ لوگوں کے معمولات زندگی زیادہ متاثر نہ ہوں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں اور دوسرے ضروری کاروبار کھلے رہیں۔ ماسک نہ پہننے پر سزائیں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ روز 78افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایسے وقت میں جب حکومت کی کوششوں کے باوجود کورونا کے پھیلائو میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے علاج کیلئے ویکسین بھی مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہیں نیز اس مفروضے کے برخلاف کہ سرد موسم ختم ہونے اور گرمی بڑھنے سے کورونا وائرس خودبخود ختم ہو جائے گا آنے والے گرم مہینوں میں بھی کورونا کی تیسری قسم کی تباہ کاری جاری رہنے کا خطرہ ہے، عوام کو چاہئے کہ این سی او سی کی جاری کردہ ہدایات پر مکمل عمل کرتے ہوئے ماسک لازماً پہنیں، سماجی فاصلے برقرار رکھیں اور ہجوم والی جگہوں سے دور رہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ احتیاطی تدابیر کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے اس معاملے میں علماء کرام کی خدمات بھی حاصل کی جائیں جو لوگوں کو ایس او پیز پر کار بند رہنے کی زیادہ موثر ترغیب دے سکتے ہیں۔

تازہ ترین