• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حامد میر (29مارچ 2021) با کمال شاعر لاجواب اپوزیشن لیڈر

محترم میر صاحب آپ نے درست لکھا‘ اللہ نے چاہا ہے تو ابھی تک ہم قائم ہیں۔ جو بھی نقصان ہوا ہے وہ ہمارا ہی قصور ہے۔ یہ جو ’’میں میں‘‘ کرتے ہیں یہ نہ ہوتے تو اللّہ ان سے اچھے بھیج دیتا۔ ( محمد عرفان، سعودیہ عرب)

سلیم صافی (31مارچ 2021) کمال کے لیڈر

محترم صافی صاحب آپ نے کمال کا تجزیہ کیا ہے۔ کئی دہائیوں سے ہم پر کمال کے لیڈرز ہی مسلط ہیں۔ لیکن آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ مصیبت یا یوں کہہ لیں کہ یہ عذاب کب ٹلے گا۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی کہ باکمال لوگوں کے باکمال لیڈرز۔ (محمد انصار)

حسن نثار (29مارچ 2021) الیکٹرانک میڈیا، ٹاک شوز اور ناظرین

آپ کا کالم انتہائی حقیقت پر مبنی ہے۔ بہت اچھا موضوع‘ لوگ واقعی ٹاک شوز سے متنفر ہو چکے ہیں۔ اگر کھل کر بات کروں تو میرے جیسا کم علم شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کون بات کو گھما کر کہاں سے کس طرف لے کہ جائے گا۔ اللّہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (ظفر کریم)

انصار عباسی (01اپریل 2021) ساڈے تے نہ رہنا!

جناب عباسی صاحب آپ نے بجا فرمایا۔ حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں ہمیں پہلے زیادہ خطرے والے لوگوں کو ویکسین فراہم کرنی چاہئے۔ اور جو لوگ قیمت ادا کر سکتے ہیں ان سے قیمت لی جائے اور باقی ویکسین غربا کو لگائیں۔ (ظفر مرزا)

واصف ناگی(28مارچ 2021) وہ لاہور کہیں کھوگیا

ناگی صاحب کیا خوب لاہور کی آپ بیتی بیان کی، بہت عمدہ اور معلوماتی۔ یوں معلوم ہوا کہ ایک لمحے کو پرانے لاہور میں چلے گئے۔ اب بھلا لاہور میں وہ بات کہاں؟ عوام و حکمرانوں نے لاہور کے حسن کا ستیاناس کر دیا ہے۔ (سید علی عباس کاظمی، ہڑپہ)

وجاہت علی خان (28 مارچ 2021) ’اسٹیٹس کو‘ کو توڑنے کی ضرورت

جناب وجاہت علی خان صاحب زبردست کالم لکھا۔ پاکستان کی سیاست میں سازشیں ہمیشہ سے جاری ہیں جو بےنقاب کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ بعد میں گمنام یا حقائق بتانے پر غدار کہلاتا ہے۔ اپنی مرضی مسلط کرنا پاکستان کی بد قسمتی رہی ہے۔ (رضوان صدیق، اسلام آباد)

ڈاکٹر رامیش کمار (01 اپریل 2021) دشمن کا دشمن دوست!

جناب کمار صاحب آپ کا کالم پاکستانی حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سب ممالک کی طرح پاکستان کو بھی وہ فیصلے کرنے چاہئیں جو معاشی و اقتصادی لحاظ سے ملک کے حق میں ہوں اور ایک عام پاکستانی کی زندگی آسان ہو سکے۔ (فہیم عادل خواجہ، آزاد کشمیر)

بچوں میں کورونا تشویشناک صورتحال

محترم روزنامہ جنگ کا اداریہ اور شذرات ہمیشہ سے بہت معلومات افزا اور مستند رائے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال پچھلے دنوں شائع ہونے والا ’’بچوں میں کوروناتشویشناک‘‘ کا خاص طور پر ذکر کروں گا ۔ کوئی شک نہیں کہ کورونا ایک جان لیوا مرض ہے لہٰذا اس کے بارے میں ادارے کی رائے بجا ہے کہ بچوں کو اس مرض سے بچانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ خدانخواستہ یہ موذی مرض درسگاہوں میں پھیل گیا تو اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہوگا۔ (محمد ارشد۔ لاہور)

علی معین نوازش (30 مارچ 2021) واحد حل

محترم آپ نے بالکل درست فرمایا۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ کورونا کی یہ لہر زیادہ خطرناک ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن یا چند احتیاطی تدابیر نہیں بلکہ ہر فرد کی ویکسی نیشن ہونا ضروری ہے۔ عوام کو بھی اس معاملے میں سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ (محمد یونس۔ لاہور)