’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘ کے عنوان سے قوم کے ساتھ مکالمے میں کئی اہم قومی مسائل کے حوالے سے فون کالز پر عوام کے تیزوتند سوالات کے پراعتماد لہجے میں جواب دیئے اور انہیں ماضی کی خرابیوں کے ازالے اور روشن مستقبل کی نوید سنائی۔ انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں اور ان کے ثمرات سے سوال کرنے والوں کو آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت کے اقدامات سے ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے۔ روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہورہا ہے۔ غریب طبقوں کی زندگی میں آسانیاں لانے کے لئے ان میں صحت کارڈ تقسیم کئے جارہے ہیں۔ سستی گیس کا انتظام کیا جارہا ہے۔ نئی انقلابی زرعی پالیسی لائی جارہی ہے اور متعدد دوسری سہولتوں کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پالیسیوں کے دفاع میں ماضی کی حکومتوں اور سیاسی مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کئے اور انہیں کرپشن اور دوسری بلا عنوانیوں کے ذریعے معیشت سمیت پورے ملکی نظام کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے عدلیہ، نیب اور بیوروکریسی کے بارے میں بھی سوالات اُٹھائے اور کہا کہ لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ میں برسوں کے بگڑے ہوئے حالات کو ایک ماہ میں ٹھیک کردوں گا لیکن ایسا صرف کہانیوں میں ہوتا ہے ۔ میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، پوری قوم کو میرا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتخابات کے ذریعے تبدیلی لانا بہت مشکل ہے۔ اپوزیشن والے سب مل کر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو فارغ کرو۔پاکستان میں یہی تبدیلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کے پرانے حکمرانوں سے رابطے ہیں۔ ماضی میں نیب چوروں کا تحفظ کرتی رہی۔ ہم نے نوازشریف سے سات ارب کے شوریٹی بانڈ مانگے ۔ عدلیہ نے انہیں بیرون ملک بھیج دیا۔ عدلیہ ساتھ نہیں دے گی تو ہم کرپشن سے نہیں لڑسکتے۔ سرکاری املاک پر قبضے ایم این ایز کی مدد سے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر اور بھارت سے تجارت سمیت کئی دوسرے سوالات کے بھی جواب دیئے جو قومی مفاد کی عکاسی کرتے تھے۔ مہنگائی کے حوالے سے ایک خاتون کا سوال بڑا اہم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ایک گھریلو خاتون ہوں۔ مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ گزارا مشکل ہورہا ہے، سکول کی فیس دیں یا گھر کا خرچہ چلائیں۔ رمضان شریف آرہا ہے قیمتیں کم نہیں ہورہیں۔ آپ مہنگائی کم نہیں کرسکتےتو گھبرانے کی اجازت تو دیں۔ وزیراعظم نے جواب دیا’’آپ کو گھبرانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ہم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھارہے ہیں۔ آپ نے وہ بات کی جس پر ہماری ساری توجہ ہے۔ باقی ساری چیزیں ایک طرف، مہنگائی ایک طرف، صبر کریں۔ انشاء اللہ ہم مہنگائی پر قابو پاکر دکھائیں گے‘‘۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام موجودہ مہنگائی کو زیادہ نہ سمجھیں۔ ڈالر دو ڈھائی سو روپے کا ہوجاتا تو مہنگائی بے تحاشا بڑھ جاتی۔ قیمتوں کو بڑھانے میں مافیاز ملوث ہیں۔ پنجاب میں سٹے بازوں نے چند ہفتے کے اندر چینی پر سٹے بازی کرکے 6 سو ارب روپے کی سرکولیشن کی۔ ہم نے ایک میکانزم متعارف کرایا ہے جس سے ضروری اشیاء کی قیمتیں کنٹرول ہوجائیں گی۔ لاہور میں اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ جلد دوسرے شہروں میں بھی ہوجائے گا۔ اقتصادی حالات بہت حوصلہ افزا ہیں۔ وزیراعظم کا مہنگائی کے حوالے سے بیانیہ بہت خوش آئند ہے مگر زمینی صورتحال یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے میں ابھی چند دن باقی ہیں جبکہ مہنگائی کا طوفان پہلے ہی آچکا ہے۔ سبزیوں، گوشت، آٹے، گھی، چینی، چاول، دالوں، انڈوں، بیسن اور کھجور سمیت کھانے پینے کی ہرچیز کے دام غریب کیا، متوسط طبقے کی قوت خرید کے مقابلے میں بھی بہت بڑھ چکے ہیں۔ حکومت کو اس طرف فوری توجہ دینا ہوگی۔

تازہ ترین