پاکستان ریڈ لسٹ میں کیوں …؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بولٹن کی ڈائری ۔۔۔ابرار حسین
آج برطانیہ بھر کی پاکستانی کشمیری کمیونٹی میں سب سے اہم موضوع جو زیربحث ہے وہ ہے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈلسٹ میں شامل کرنا اس پر نہ صرف اپنی کمیونٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے بلکہ خود ارکان برطانوی پارلیمنٹ کی ایک قابل ذکر تعداد نے بھی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ آبادی اور کورونا کیسز کے اعتبار سے بھی پاکستان کی نسبت بہت کورونا متاثرین کی زیادہ تعداد انڈیا میں ہے مگر اسے تو ریڈلسٹ میں شامل نہیں کیا گیا،پاکستان کو کیسے اور کن شواہد اور وجوہات کی بنا پر اس لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے جس سے ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ رپورٹس کےمطابق 40 ہزار برطانوی پاکستانی پاکستان گئے ہوئے ہیں اتنی بڑی تعداد پر کورونا وبا کے دوران جو معاشی اعتبار سے پہلے ہی کئی طرح کی پریشانیوں کا شکار ہیں ان پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک سال قبل پاکستان جانے کے لئے ٹکٹ بک کروا رکھے تھے ،اب وہ ٹکٹ نہ صرف کینسل کر دیئے گئے ہیں بلکہ ائرلائنز روٹ بھی تبدیل کر رہی ہیں اور اگر اس بحران کے پیدا ہونے سے کوئی برطانوی پاکستانی واپسی کا رخ کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے ایسے ملک میں جاتا ہے جو ریڈلسٹ میں شامل نہیں ہے وہاں وہ چند دن قرنطینہ کرنے کے بعد برطانیہ کا رخ کرتا ہے اور اگر کرایوں کی بات کی جائے تو اس وقت ٹریول ایجنٹ من مانے دام وصول کر رہے ہیں ان کی تو عید سے پہلے عید ہوگئی ہے۔ اس سے متعلق کمیونٹی استفسار کر رہی ہے کہ برطانیہ میں پاکستان کے سفارتی مشنز اور حکومت پاکستان کیا کردار ادا کررہی ہے ، برطانیہ کے اندر ان پاکستانیوں کشمیریوں کے نمائندے یعنی کونسلرز کا کیا کردار ہے اور برطانیہ کے اندر پاکستانی کشمیری سیاسی سماجی اور مذہبی جماعتوں کی کاوشیں کیا ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور اس کا اوورسیز کمیشن ،پنجاب کا اوورسیز کمیشن کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مزید براں پاکستان اور آزاد کشمیر سے لاکھوں کی تعداد میں بیرون ملک آباد باشندے اپنے وطن میں کورونا کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان کے شہر راولپنڈی کے اندر آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے کورونا کے مریضوں کو اسپتال میں داخلہ نہیں مل رہا اور خود آزاد کشمیر کے اندر اسپتالوں کی حالت قابل رحم ہے اور حکومت بے بسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس حوالے سے مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ برطانیہ کے اندر بسنے والے پاکستانیوں، کشمیریوں کوپاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں سے توقع رکھنا بے معنی دکھائی دے رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت پاکستان کو ریڈلسٹ سے بچانے میں ناکام رہی ہے اور پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتیں بھی اس اہم ترین مسئلہ کو اٹھانے میں غفلت کی مرتکب ہیں، یہاں برطانیہ کے اندر زیادہ تر کمیونٹی نمائندے فقط بیان بازی کر رہے ہیں جب کہ آزاد کشمیر کے اندر کورونا مریضوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، یہ صورتحال فکر انگیز ہے۔