سینیٹ و قومی اسمبلی کے اختیارات مساوی کرنے کا بل
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ و قومی اسمبلی کے اختیارات مساوی کرنے کا بل

ایک ایسے وقت میںجب صوبوں کے حقوق میں کٹوتی کرنے کے لئے 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیئے گئے اختیارات کافی حد تک واپس لینے کی کوششیں ہورہی ہیں،چند دن قبل سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک اہم سینیٹر کی طرف سے سینیٹ میں تاریخی نوعیت کا ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اختیارات کو مساوی بنانا ہے۔یہ بل کسی اور شخص نے نہیں بلکہ پاکستان کے اہم پارلیمنٹرین سینیٹر میاں رضا ربانی نے پیش کیا ہے ۔ میاں رضا ربانی کا 18 ویں آئینی ترمیم کی ڈرافٹنگ میں انتہائی اہم کردار تھا بلکہ جب تک یہ ترمیم سینیٹ سے اتفاق رائے سے منظور نہیں ہوئی، میاں رضا ربانی ایک دن بھی خاموش نہیں رہے۔ میاں رضا ربانی نے چند دن پہلے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا ہے، اس بل میں جو چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ ’’این ایف سی ایوارڈ کی مدت بڑھانے کا اختیار سینیٹ کو دیا جائے‘‘۔ ’’سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اختیارات مساوی کئے جائیں‘‘۔ ’’سینیٹ کے اجلاسوں میں خطاب کرنے کے لئے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا جائے‘‘۔ اس بل میں ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ سینیٹ کا ممبر بننے کے لئے امیدوار وہ ہوگا جو 5 سال سے اس صوبے میں رہائش پذیر ہو،اس بل میں یہ ایک ترمیم بھی تجویز کی گئی ہے کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کی صورت میں مالی اختیارات سینیٹ کو دیئے جائیں گے۔ اس ترمیم کے اہم نکات سامنے آنے کے بعد سندھ کے اکثر دانشوروں،سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کے ممبران نے اس ترمیم کی زبردست حمایت کی ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اب تک حکومتیں این ایف سی پر مکمل طور پر عمل کرنے سے احتراز کرتی آرہی ہیں، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آئین کے مطابق کسی بھی صوبے کورواں سال کے بجٹ میں گزشتہ سال سے زائد رقم دی جائے گی ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آئین کی اس شق پر اس شرط کے ساتھ کچھ دیگر شرائط پر بھی عمل کرنے سے مرکزی حکومتیں احتراز کرتی آئی ہیں،اس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ اس سال بجٹ میں سندھ اور دیگر صوبوں کو جو رقوم دی گئی ہیں وہ ایک سال پہلے ملنے والی رقوم سے کم ہیں، اس طرح علی الاعلان اس شق کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔ یہ بل جو میاں رضا ربانی نے سینیٹ میں پیش کیا ہے اسے ’’آئینی ترمیمی بل 2021‘‘ کہا جارہا ہے۔اس ترمیمی بل میں جو دیگر اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں، ان کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے، سینیٹ کو این ایف سی ایوارڈ کی مدت میں توسیع کرنے کا اختیار ہوگا۔اس آئینی بل کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ 13 فروری 2017 کو سینیٹ میں منظور کی گئی قرارداد کا مقصد صوبوں کے اختیارات کو بڑھانا، صوبوں کے حقوق کا تحفظ اور وفاق کے معاملات میں صوبوں کی مشاورت بڑھانے کو یقینی بنانا تھا ۔لہٰذا یہ بل پیش کرتے وقت سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ ان باتوں کے حوالے سے یہ بل پیش کیا جارہا ہے لہٰذا قانون سازی پر نظرثانی کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ میاں رضا ربانی نے زور دیکر کہا کہ خاص طور پر صوبوں کے ساتھ سینیٹ کے تعلقات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اس قانون کے آرٹیکل 57 میں ترمیم تجویز کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو یہ اجازت ہونی چاہئے کہ وہ دعوت پر پارلیمنٹ کے ایو ان بالا میں آئیں اور ان کو اس ایوان میں خطاب کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہئے۔ علاوہ ازیں اس ترمیم کے تحت آرٹیکل 62 میں مزید ترمیم کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہےکہ سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اس امیدوار کا ووٹ اس صوبے میں درج ہونا لازمی ہے اور ساتھ ہی اس کے لئے یہ بھی لازمی ہوگا کہ وہ پانچ سال سے اس صوبے میں رہائش پذیر ہو۔ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے میاں رضا ربانی نے تجویز دی کہ اس کےلئے شق 72 میں ترمیم کی جائے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ آئندہ اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان کی صدارت سینیٹ کا چیئرمین کرے گا۔ مشترکہ ایوان کے فیصلوں کے حوالے سے متعلقہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی کے ممبران کی تعداد کو سینیٹ کے ممبران کی تعداد سے تقسیم کرکے اس توازن سے سینیٹ کے ووٹوں کی گنتی ہونی چاہئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ اسمبلی کے ممبران کے تناسب سے سینیٹ کے 3.61 ووٹوں کو ایک ووٹ کرکے گنا جائے گا، آئین کی شق 86 میں ترمیم تجویز کرکے کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی توڑنے کی صورتحال پیدا ہو تو مالی معاملات کے بارے میں وفاقی حکومت کو جو اختیارات حاصل ہیں وہ سب اختیار ات سینیٹ کے ہوں گے تاکہ وہ وفاق کے اخراجات کو کاٹنے اور تقسیم کرنے کے اختیار ات استعمال کرسکے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین