ترین کے پاور شو سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ترین کے پاور شو سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں؟

جہانگیر ترین کے معاملے نے سیاسی سطح پر اگرچہ ایک ہلچل پیدا کر دی ہے، مگر یہ کہنا شاید مناسب نہیں ہوگا کہ اس کی وجہ سے حکومت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، بلکہ ذرائع تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جہانگیر خان ترین کے ایشو کی وجہ سے کپتان کا وہ بیانیہ مضبوط ہو رہا ہے، جو انہوں نےبے لاگ احتساب کے حوالے سے اپنا رکھا ہے، جہانگیر ترین اگرچہ اپنی سیاسی پاور کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انہوں نے قومی اور پنجاب اسمبلی کے تقریباً 29 اراکین اسمبلی کواپنے ساتھ کھڑا کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ سیاسی طور پر اکیلے نہیں ، بلکہ ان کے ساتھ منتخب نمائندوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے ،جو نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ وفاقی حکومت کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ 

مگر بظاہر یہ آسان بات نظر آئی ہے لیکن درحقیقت اسے عملی جامہ پہنانا تقریبا ناممکن ہے،یہی وجہ ہے کہ جہانگیر ترین کے سیاسی پاور شو سے حکومت زیادہ متاثر نظر نہیں آتی اور نہ ہی کسی ذریعے سے جہانگیر ترین کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے، البتہ ملتان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ایسے وقت میں اپنی صفائیاں پیش کیں، جب انہیں یقین ہو چلا ہے کہ جہانگیر ترین کا تحریک انصاف سے تعلق تقریبا ختم ہو چکا ہے انہوں نے’’ بعد از خرابی بسیار ‘‘یہ کہا ہےکہ ان کا جہانگیر ترین سے کوئی اختلاف نہیں اور یہ کچھ لوگوں کی پیدا کردہ افواہوں کا نتیجہ ہے کہ میری جہانگیر ترین سے سے کوئی مخاصمت رہی ہے۔ 

اب یہ ایسی بات ہے کہ جس سے تاریخی واقعات کے تناظر میں ہضم کرنا ممکن نہیں ہے، یہی شاہ محمود قریشی تھے کہ جنہوں نے نااہلی کے بعد جہانگیر ترین کے کابینہ میں بیٹھنے پر سب سے پہلے اعتراض کیا تھا اور میڈیا کے سامنے اپنی اس اعتراض کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ جہانگیر ترین کے کابینہ اجلاس میں بیٹھنے کی وجہ سے مسلم لیگ نون کو تنقید کا موقع مل رہا ہے کیونکہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد تحریک انصاف یہ موقف رہا کہ انہیں پارٹی کی صدارت نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ عدالت کی طرف سے نااہل ہوچکے ہیں، شاہ محمود قریشی کے اس اعتراض کی وجہ سے جہانگیر ترین کو وزیراعظم عمران خان نے زرعی ٹاسک فورس کی مشاورت سے علیحدہ کردیا تھا ،اس کے بعد جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے مسئلہ پر بھی دونوں رہنماؤں میں کھلی جنگ رہی اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کے اندر دو واضح گروپ تھے۔ 

ایک جہانگیرترین، دوسرا شاہ محمود قریشی گروپ ، جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد سب سے زیادہ خوشی شاہ محمود قریشی کو ہوئی تھی، یہ سب باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن آج شاہ محمود قریشی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی جہانگیر ترین سے کبھی کوئی رنجش یا مخاصمت نہیں رہی، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب وہ جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین عمران خان سے بہت دور چلے گئے ہیں اور ان دونوں میں ایک ایسی خلیج پیدا ہوچکی ہے، جسے پاٹنا تقریباً ناممکن ہے ،رہی سہی کسر جہانگیر ترین کی اس حکمت عملی نے پوری کر دی ہے ، جو انہوں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنائی اور اپنے ہم خیال اراکین کو اپنی سیاسی طاقت بنا کر پیش کیا۔ 

اب شاہ محمودقریشی انہیں یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ عمران خان سے خود رابطہ قائم کریں اور انہیں اپنا موقف بتائیں، ساتھ ہی انہوں نے کے حامی اراکین کو بھی یہ مشورہ دیا کہ وہ بجائے اس طرح کی میٹنگوں میں جا کر اپنا وقت ضائع کریں ،انہیں وزیر اعظم سے ملاقات کی درخواست کرنی چاہیے ،جہاں تک جہانگیر ترین کے اس رویہ کا تعلق ہے جو انہوں نے ارکان اسمبلی کو بلا کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اپنایا ہے ،تو اسے ان کی سیاسی غیردانشمندی کہا جاسکتا ہے، کیونکہ وہ عمران خان سے ایک ایسا ریلیف مانگ رہے ہیں، جو وہ دے ہی نہیں سکتے، کیونکہ ان کا بیانیہ ان کے راستے کی سب سے بڑی دیوار ہے، انہوں نے چند روز پہلے بھی یہی کہا ہے کہ احتساب کے معاملہ میں کسی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، سب کے لئے ایک قانون ہے ہے اور سب کو اپنی بے گناہی اداروں اور عدالتوں میں ثابت کرنا ہوگی، ایسے میں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جہانگیر ترین کے دباؤ میں آکر حکومت انہیں کوئی ریلیف دے، ایسا کرنے سے وزیراعظم عمران خان کا وہ سارا بیانیہ دھڑام سے زمین پر آ گرے گا۔

جہانگیر ترین لاہور کے بعد ملتان بھی آئے اور انہوں نےانصاف ہاؤس میں ایم پی اے سلمان نعیم کے گھر جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی اور تحریک انصاف کے مختلف عہدے داروں سے ملاقاتیں کیں ، ان کا مؤقف یہی تھا کہ وہ انصاف چاہتے ہیں، انہیں موجودہ تحقیقاتی ٹیموں پر اعتبار نہیں ،کیونکہ ایک خاص ایجنڈے کی بنیاد پر انہیں میرے خلاف تحقیقات سونپی گئی ہیں ،انہوں نے پھر اس بات کو دہرایا کہ وہ تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور کسی صورت بھی وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں جائیں گے، تاہم وہ اس حوالے سے کوئی جواب نہ دے سکے کہ اگر ان کا مطمع نظریہ نہیں ہے تو پھر وہ وہ ارکان اسمبلی کے ذریعے سیاسی قوت کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں، انہیں یہ معاملہ عدالتوں اور تحقیقاتی اداروں پر چھوڑ دینا چاہیے، ان کا موقف یہ سامنے آرہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ارد گرد کچھ ایسے لوگ موجود ہیں ،جو دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔

ادھر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کےاختیارات سلب کرنے والے نوٹی فیکشن کے منسوخ ہونے کے باوجود سیکرٹریٹ کے معاملہ پر مقامی حلقے ابہام کا شکار ہے، حکومت پنجاب کے دعووںکے باوجود اس سازش کے مرکزی کرداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوسکی اور نہ ہی تاحال کوئی بااختیار ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعینات کیا جاسکا ہے ،جس کی وجہ سے لوگوں کی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے، اگرچہ وزیراعظم عمران خان نےاس ایشو پر جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی و وزراءسے وزیراعلیٰ کی موجودگی میںچند روزقبل لاہور میں ملاقات کی،جس میں انہوں نے اراکین پرواضح کیا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ایک حقیقت ہے ، 29مارچ کواختیارات سلب کرنے والا نوٹیفکیشن واپس کرادیاگیا ہے ،وہ جلد ملتان اوربہاولپور میں سیکریٹریٹ کا بنیاد رکھیں گے۔

اگلے سال پنجاب کے آنے والے بجٹ میں جنوبی پنجاب کا سالانہ ترقیاتی پروگرام علیحدہ ہوگا اور اے ڈی پی میں تمام ترقیاتی منصوبے واضح طور پر شامل ہوں گے ،اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر خزانہ کی سربراہی میں سب کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے ، عمران خان سے ملاقات کے بعد اراکین اسمبلی تو حسب معمول مطمئن ہو کرآگئے ہیں ،مگر جنوبی پنجاب کے سیاسی و سماجی حلقوں اور قوم پرست اسے روایتی دلاسہ قراردے رہے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اب تک کے حکومتی اقدامات سے لگتا ہے کہ خطہ کے اس اہم ترین ایشو کو سنجیدہ لیا ہی نہیں جارہا اور حکومت صرف وقت گزاررہی ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید