• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مہنگائی: اپوزیشن جماعتوں کا عید کے بعد لانگ مارچ کا پروگرام

خیبر پختونخوا کے دو اضلاع پشاور اور نوشہرہ میں صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں وفاقی و صوبائی حکومت کے تمام وسائل کےبے دریغ استعمال، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور لوگوں کو ملازمتوں کی ترغیب دینے کے باوجود تینوں نشستوں پر حکمران جماعت کی شکست اور تینوں نشستوں پر اپوزیشن کی کامیابی کے بعد خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت کی مقبولیت بڑی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ حکمران جماعت کے کئی ناراض رہنما اور کارکن دوسری جماعتوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو فعال بنانے اور اپوزیشن جماعتوں کے توڑ کے لئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ 

حکمران جماعت کو سیاسی طور پر مضبوط بنانے کے لئے خیبر پختونخوا کے چار ارکان اسمبلی عاطف خان، شکیل خان، فضل شکور خان اور فیصل امین گنڈا پور کو صوبائی وزیر بنا دیاگیا جبکہ صوابی کے بیرسٹر محمد علی سیف اور عاقب اللہ خان کو وزیراعلیٰ کا مشیر بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔سابق صوبائی وزیر لیاقت خٹک کی وزارت سے علیحدگی کے بعد وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی طر ف سے اپنے صاحبزادے ممبر صوبائی اسمبلی ابراہیم خٹک کو نوشہرہ سے لیاقت خٹک کی جگہ صوبائی وزیر بنانے کی کوشش کی گئی تاہم پرویز خٹک اپنے صاحبزادے ابراہم خٹک کو صوبائی وزیر بنانے کی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ 

سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک بار پھر ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے لئے جدوجہد تیز کر دی گئی ہے۔تحریک صوبہ ہزارہ کی طرف سے ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے لئے ہزارہ ڈویژن میں مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری ، قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور ہزارہ سے قومی اسمبلی کے ممبر مرتضیٰ جاوید عباسی کی طرف سے ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے لئے قومی اسمبلی میں تحریک جمع کروا دی گئی ہے جبکہ ہزارہ کے ارکان صوبائی اسمبلی کی طرف سے ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے لئے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی تحریک جمع کروا د ی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جب جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جا سکتا ہے تو ہزارہ کو الگ صوبہ کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے۔ 

تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ کی طرف سے ملک میں انتظامی بنیادوں پر 19نئے صوبے بنانے کے لئے مہم کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے ارکان اسمبلی سے بھی رابطے شروع کردیئے گئے ہیں۔ تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر 19صوبے بنانے کی مہم کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی معاملات خراب ہونے سے ملک میں عوام کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامی معاملات بہتر بنانے اور عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لئے ملک میں انتظامی لحاظ سے انیس صوبے بنائے جائیں اور صوبوں کو صوبائی خود مختاری دی جائے۔ 

نئے صوبے بننے سے عوام کی محرومیوں و مشکلات کا خاتمہ ہو گا۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، قومی وطن پارٹی کے قائد آفتاب احمد خان شیرپائو، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم کو منظم کرنا شروع کردیا گیا ہے عوام کو عید کے بعد مہنگائی کے خلاف ہونے والی لانگ مارچ کے لئے متحرک کرنے کے لئے بھی رابطہ عوام مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ پی ڈی ایم کو عوام کی امنگوں کا ترجمان قرار دیا جا رہا ہے۔ 

خیبر پختونخوا کی پانچ قوم پرست وترقی پسند سیاسی جماعتوں کے اتحاد پختونخوا جمہوری اتحاد کی طرف سے صوبوں سے ہونے والی ناانصافی کا راستہ روکنے ، صوبوں کے وسائل پر صوبوں کے اختیار اور صوبوں کو بااختیار بنانے کے لئے نئے عمران معاہدے کے لئے جدوجہد مزید تیز کر دی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں پی ٹی ایم اور سندھ و بلوچستان کے قوم پرست رہنمائوں سے بھی رابطے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ 

درہ آدم خیل سے گیارہ سال قبل شانگلہ کے کوئلہ کی کان میں کھدائی کرنے والے بتیس کان کنوں کو اغوا کیا گیا جن میں سے سولہ مزدوروں کو نہایت ہی سفاکی سے موت کے گھاٹ اتار کر مزدوروں کی لاشیں اجتماعی قبر میں دفنا دی گئیں۔ کوہاٹ کے پہاڑی علاقہ سے اجتماعی قبر سے سولہ مزدوروں کی لاشیں ملنے کے بعد ان لاشوں کو شانگلہ منتقل کیا گیا جہاں سفاکی سے موت کے گھاٹ اتارے جانے والے سولہ مزدوروں کو ہزاروں اشک بار آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ 

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان صوبائی اسمبلی کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ سولہ مزدوروں کے سفاکانہ قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائی جائے اور مقتولین کے لواحقین کو بلوچستان و پنجاب کی طرح شہدا امدادی پیکج دیا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کے بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں اور یتیم بچوں کو سرکاری خرچ پر تعلیم دلوانے کا اعلان کیا جائے۔

 قومی وطن پارٹی کے قائد آفتاب احمد خان شیرپائو، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام کی طرف سے بھی شانگلہ کے سفاکانہ طور پر قتل ہونے والے سولہ غریب مزدوروں کے لواحقین کو پنجاب اور بلوچستان کی طرح شہدا امدادی پیکج دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکہ کے صدر جوبایڈن کی طرف سے افغانستان میں امن کے لئے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کروانے جبکہ یکم مئی سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا آغاز کرنے اور گیارہ ستمبر تک افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے اعلان سے افغانستان میں جنگ و خونریزی کے خاتمے اور امن کے قیام کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ 

اے این پی کے بزرگ سیاستدان و سابق وفاقی وزیر الحاج غلام احمد بلور نے افغانستان میں امن کے سلسلے میں ہونے والے معاہدے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے زائد عرصہ تک دہشت گردی کی لپیٹ میں رہنے سے ہزاروں پختونوں کا خون بہایا گیا۔ لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور پختونوں کا خطہ تباہی و بربادی سے دو چار ہوا۔

تازہ ترین
تازہ ترین