حکومت بحرانوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

حکومت بحرانوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی؟

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ایک سے ایک بحران میں مبتلا رہی اور حیرت انگیز طور پر ان بحرانوں سے نکل بھی گئی ان بحرانوں میں مہنگائی کا بحران سب سے زیادہ خطر ناک ہے ابھی تک حکومت اس بحران سے نہیں نکل سکی اگرچہ پٹرول سمیت کچھ ایشیا ئےخرد نوش کی قیمتیں کم بھی ہوئی ہیں مگر ابھی تک عوام مطمئن نہیں حالیہ مہینوں میں دوسرا بڑا بحران پی ڈ ی ایم کی احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کا پروگرام تھا مگر وزیر اعظم عمران خان کی خوش قسمتی کہ پی ڈی ایم باہمی اختلافات کا شکار ہو گئی اور ان کا حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا پروگرام ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ ہو گیا۔ 

پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ( ن) آپس میں دست و گریبان ہو گئیں ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری شروع کر دی ان دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع ہونے سے حکومت ایک خطر ناک بحران سے بچ گئی ۔حالیہ بحران کالعدم مذہبی تنظیم کی تحریک تھی اور انہوں نے پرتشدد مظاہرے کر کے پاکستان کے مختلف شہروں بل خصوص اسلام آباد اور پنجاب کو بلاک کر دیا ان مظاہروں میں تین سے چار پولیس اہلکار وں کو مظاہرین نے تشدد کر کے شہید کر دیا اور درجنوں پولیس افسر اور اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔

اس طرح ایک اچھے اور نیک کام کیلئے شروع کی گئی تحریک تشدد کا شکار ہو کر غلط موڑ میں داخل ہو گئی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں حضور نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا چاہے کوئی پڑھا لکھا ہو یہ ان پڑ اپنے بنی ؐ کی توہین سن کر اس کا خون کھول اٹھتا ہے یہ ہی وجہ سے کہکالعدم تنظیم کی تحریک کے دوران نعروں میں بعض مقامات پر کئی سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی کالعدم تنظیم کے نعروں میں شریک ہو گئے اس سے بڑی کامیابی کیا ہو سکتی ہے۔ 

لیکن ہم نے دیکھا کہ کوئی پرتشد د تحریک کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی ، ایسے موقع پر تحریک لبیک پاکستان کے بانی علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کی کمی بہت شدت سے محسوس کی گئی اگر وہ زندہ ہوتے تو یقیناً یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی اگرچہ ان کی تقریر کا انداز سادہ اور جٹکا تھا مگر انہیں عربی ، فارسی اور علامہ اقبال کے کلام پر حیرت انگیز طور پر دسترس حاصل تھی ، یہ ہی وجہ ہے کہ چند سالوں کے قلیل عرصے میں کالعدم مذہبی تنظیم مذہبی و سیاسی بنیاد پر تیسر ی بڑی قوت بن کر ابھری مگر علامہ خادم حسین رضوی کی اچانک اوربے وقت رحلت کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا سعد رضوی نے اس کی قیادت سنبھال لی انہیں اپنے والد مرحوم کے مقام تک پہنچنے میں ابھی وقت درکار تھا۔ 

مگر انہوں نے قبل از وقت انتہائی قد م اٹھا لیا اور اس تحریک میں تشدد آگیا ،یا ان کی تحریک کسی حکومت مخالف سیاسی جماعت نے ’’ہائی جیگ ‘‘ کر لی اور اسے پر تشدد بنا کر حکومت کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ۔مولانا سعد رضوی صاحب کو ان باتو ں پر گہری نظر رکھنا چاہئے تھی اگر تحریک میں تشدد نہ آتا تو اس پر پابند ی نہ لگتی ان کے فنڈز منجمند نہ کئے جاتے ان کو فنڈ ز دینے والو ں پر بھی پابندی نہ لگتی اور نہ ہی ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے حکومت اقدامات کرتی ، مولانا سعد رضوی سمیت سینکڑوں عہدیدار و کارکن گرفتار نہ ہوتے ان پر قتل اور دہشت گردی کے مقدمہ نہ ہوتے ایماندار ی کی بات یہ ہے فرانس میں حضورنبی کریم ؐ کی شان میں جتنا شدید ردعمل وزیر اعظم عمران خان اور تر کی کے صدر اردگان نے کیا کسی دوسرے اسلامی ممالک نے نہیں کیا اگر عرب اسلامی ممالک بھی فرانس کے خلاف آواز بلند کرتے تو یقینا ً مسلمانوں کی ایک متحد اور موثر آواز ابھرتی پاکستان کے فرانس کے ساتھ تعلقات توہین رسالت ؐ کی وجہ سے ہی کشیدہ ہیں اور فرانس میں پاکستان کا کوئی سفیر بھی نہیں ہے۔ 

ابھی حال ہی میں وزیر اعظم نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس میں مغربی ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مغرب توہین رسالت پر سزائیں دیں ہمارے پیارے بنی حضور اکرام ؐ مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں مگر انتہا پسند مغربی سیاستدان سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں آزاد ی اظہار کی آڑ میں توہین رسالت برداشت نہیں لوکاسٹ سے انکار کی طرح رسول اکرم ؐ کی حرمت سے انکار کرنے والوں کیلئے سزائیں مقرر کی جائیں ، موجود ہ حکومت کا اس حوالے سے موقف بالکل واضح اور کسی ’’لگی لپٹی ‘‘سے بالا تر ہے مگر حکومتوں کو فرانس اور دیگر مغربی ممالک سے تعلقات کیلئے بہت سے دوسرے معاملات کو دیکھنا پڑھتا ہے۔ 

اس وقت فرانس میں تین لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کیلئے مقیم ہیں اور اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو ان پاکستانیوں کو نکالا جاسکتا ہے ایسے حالات میں سفارتی تعلقات منقطع کرنا اتنا آسان زندگی میں ،نواز شریف دور میں جب قومی اسمبلی میں انتہائی راز داری کے ساتھ ختم نبوت کے خلاف قانون منظور ہو رہا تھا تو سب سے پہلے شیخ رشید احمد صاحب نے شور مچایا اور کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو اگر طے شدہ معاملے کو چھیڑا اور ختم نبوت ؐ کے قانون میں کوئی تبدیلی کی تو پوری قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور حکومت کیلئے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، اپوزیشن بینچوں میں بیٹھنے والے شیخ رشید احمد کی نشاندہی پر حکومت ڈر گئی اور معاملہ ٹھپ ہو گیا اور نواز شریف حکومت شیخ رشید سے بھی درخواستیں کرنے لگی۔ 

اس معاملے کو زیادہ نہ اچھالا جائے شیخ رشید احمد بھی حضور کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے مگر تحریک میں تشدد آنے کی وجہ سے مجبوراً حکومت کو پابندی کا فیصلہ کرنا پڑا۔جہانگیر ترین کے ساتھ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے تیس ارکان اکھٹے ہو گئے ہیں جنہوں نے دھمکی دی ہے اگر جہانگیر ترین کے خلاف کیسز واپس نہ لئے تو وہ مستعفیٰ ہو جائیں گے اگر ایسا ہوا تو وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔اب وزیراعظم کی طرف سے کمیٹی بنا دی گئی ہے جوان سے مذاکرات کرے گی۔ 

دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ وہ نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی اوردوسرے لوگوں کو مکانات کی تعمیر پر قرضے دینے اوراپنے غریبوں کیلئے ہائوسنگ پروجیکٹ کو جلد از جلد پایا تکمیل پر پہنچائیں وزیر اعظم عمران خان مہنگائی پر کنٹرول کرنے کیلئے بھر پو ر کوششیں کر رہے ہیں ، مگر سول بیورو کریسی اس کام میں ان سے تعاون نہیں کر رہی وزیر اعظم نے کابینہ میں ردوبدل کیا ہے اور شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ 

مگر یہ بات بالکل واضح ہے کہ بے نظیر بھٹو ، نواز شریف کو بھی کوئی موثر وزیر خزانہ نہیں مل سکا ملک میں معاشی ماہرین کی کمی ہے یا ملک میں موجود ان معاشی ماہرین کو استعمال نہیں کیا جاتا جو آئی ایم ایف یا عالمی بنک کے پینل سے باہر ہو ،وزیر اعظم نے کابینہ میں رد و بدل تو کیا ہے اب انہیں بیور و کریسی میں بھی بڑے پیمانے پر ردو بدل کرنا چاہیے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید