• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان آرفن کیئر فور م ۔۔اور۔۔ یومِ یتامیٰ

تحریر: محمد عبدالشکور

یتامیٰ۔۔۔معاشرے کا محروم طبقہ:

شریعت کی اصطلاح میں ’’یتیم‘‘ ان بچوں کو کہا جاتا ہے، جن کے والد بہ رضائے الٰہی دُنیا سے رُخصت ہوچکے ہوں۔ عموماً یتیم بچّہ، شفقتِ پدری سے محروم ہوکر رشتے داروں اور معاشرے کے رحم و کرم پرہوتا ہے۔

اللہ نے موت اور زندگی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔موت یہ نہیں دیکھتی کہ کسی کے بچے چھوٹے ہیں یاکوئی خاندان کا واحد کفیل ہے اور یہ کہ اس کی موت کے بعد اس کے خاندان کی کفالت کیسے ہوگی۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت پوشیدہوتی ہے،یعنی اللہ تعالیٰ اتنا رحیم و کریم ہے کہ وہ یتیموں کو بے سہارا نہیں رہنے دیتا، بلکہ اُن کی کفالت کی ذمہ داری معاشرے کو سونپ دیتا ہے۔یہی اللہ کا نظام ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔

یتامیٰ۔۔۔عالمی پسِ منظر

یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں اِ س وقت14کروڑسے زائد بچے یتیم ہیںجبکہ جنوبی ایشیاء میں 6 کروڑ سے زائد بچے بے بسی اور یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

افغانستان،عراق،شام،لیبیا، یمن اور فلسطین میں گولہ بارود کی بارش نے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے اور کئی کروڑ معصوم بچوں کو والد کی شفقت سے محروم کر دیا ہے۔صرف ترکی اورشام کے بارڈر پر 70ہزار سے زائد ایسے خاندان پناہ گزیں ہیں جن کے باپ شہید ہو چکے ہیں۔

روہنگیا آگ میں جھلس کر ایک اور ویرانہ بن چکا ہے،جہاں اَن گنت یتیم بچے اپنے مستقبل سے نا آشنا اندھیر نگری میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔

 پاکستان کو دیکھیں تو اس وقت تقریباً 42لاکھ بچے یتیم ہیں جن کی عمریں 17 سال سے کم ہیں۔یہ خاصی بڑی تعداد ہے۔زلزلے،قدرتی آفات،جنگ اور دہشت گردی کے واقعات نے اس تعداد میں خاصہ اضافہ کیا ہے۔قسمت کی ستم ظریفی کہ روز بروز بگڑتی معاشی صورتحال ،کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتامیٰ کے خاندان کے لئے اُس کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہو گیا ہے ۔

یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوںکا شکار ہو رہے ہیں۔تھوڑی دیر کیلئے اپنی آنکھیں بند کیجیے اور سوچئے، مسلم دنیا کے کروڑوں کی تعداد میں بھوکے، ننگے،افلاس کے مارے اور علم سے ناآشنا یہ بچے،جب آج سے پندرہ بیس سال بعد جوان ہوں گے تو ہماری گلیاں،بازار اور جیلیں کس طرح کے انسانوں سے بھری ہوں گی۔

پندرہ بیس سال تو شاید ہمیں ابھی زیادہ دور لگ رہے ہوں۔ا س وقت بھی دنیا بھر کے لاوارث بچوں کو لاکھوں کی تعداد میں ترغیب دے کر جنسی جرائم کی دنیا میں جس طرح دھکیلا جا رہا ہے اور انسانی منڈیوں میں بیچا جا رہا ہے، ایک بڑ امافیا بچوں کی اسمگلنگ کرتا ہے جس میں بچوں کے اعضاء تک فروخت کئے جاتے ہیں،اس کی خبروں سے نہیں،صرف تصور ہی سے روح کانپ اٹھتی ہے۔

اگر ہم اپنے مستقبل کو خوش گوار اور روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ ہم ان بچوں کے مستقبل کو پرسکون بنائے بغیر خود کو محفوظ اور مطمئن رکھ سکیں۔

پاکستان آرفن کئیر فورم (Pakistan Orphans Care Forum)

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بیسیوں ملکی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے ایسے ہیںجو یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اِن میں سے کچھ ادارے یتیم بچوں کی کفالت کے لئے گھروں کی تعمیر (یتیم خانے)کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور کچھ ادارے ملک بھر میں یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام اُن کے گھروں پرکر رہے ہیں۔

پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے انہی اداروںنے پاکستان میں یتیم بچوں کے مسائل اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور اجاگر کرنے کے لئے ’’ پاکستان آرفن کئیر فورم‘‘تشکیل دیا۔

اس فورم میںالخدمت فائونڈیشن پاکستان، ہیلپنگ ہینڈ، مسلم ایڈ ، اسلامک ریلیف پاکستان،ہیومن اپیل، قطر چیرٹی، ریڈ فائونڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملت فائونڈیشن، ایدھی ہومز،انجمن فیض الاسلام،صراط الجنت ٹرسٹ، خبیب فائونڈیشن،سویٹ ہومز اور فائونڈیشن آف دی فیتھ فل شامل ہیں او ر ہر وہ تنظیم اور ادارہ جو ملک میں یتیم بچوں کی کفا لت یا فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہا ہے ، وہ ’’پاکستان آرفن کئیر فورم‘‘ کا حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان آرفن کئیر فورم کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہیں۔

یومِ یتامی کا پس منظر

اِسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی(آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن) نے پہلی بار ترکی کی معروف سماجی مددگار تنظیم آئی ایچ ایچ کی تجویز پراپنے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 40ویں سیشن منعقدہ 9تا11 دسمبر2013ء بمقام کوناکرے (گنیا) میں قرارداد نمبر1/40-ICHAD آرٹیکل نمبر 21میں یہ فیصلہ کیا کہ تمام اسلامی ممالک میں 15رمضان المبارک کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منایا جائے،اس دن یتیم بچوں کی فلاح و بہبود، کفالت اور عملی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے تمام ممبر ممالک کی حکومتیں، سول سوسائٹی اور رفاہی ادارے بھر پور آواز اٹھائیں۔

 اس تجویز کو دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں نے نہ صرف سراہا بلکہ اس پر عمل بھی کیا۔

پاکستان آرفن کیئر فورم اور یومِ یتامیٰ

پاکستان آرفن کیئر فورم کو جب معلوم ہوا تو انہیں حوصلہ ملا کہ وہ اس کھٹن مگر اہم کام کا آغاز پاکستان میں بھی کر سکتے ہیں۔

پاکستان آرفن کیئر فورم نے ایک طرف تو قومی اداروں (قومی اسمبلی اور سینٹ) سے درخواست کی کہ وہ اوآئی سی کی پیروی کرتے ہوئے 15رمضان کو یتیموں کا عالمی دن قرار دے اوردوسری طرف پبلک فورمز پر اس دن کو منانے کی مہم کاآغاز کیا۔

الحمد اللہ پاکستان آرفن کیئر فورم کی انہی کاوشوں کے نتیجے میں سینٹ آف پاکستان نے 20 مئی2016 ء کوپاکستان میں بھی ہر سال 15 رمضان المبارک کو لاوارث و یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کے لئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی۔جس کو بعدازاں29مئی2018کو قومی اسمبلی میں بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

 جس کے بعد سے ہر سال یومِ یتامیٰ کی سرکاری طور پر مرکزی تقریب ایوانِ صدر میں منعقد کی جاتی ہے ۔جس میں صدر مملکت کی جانب سے پاکستان آرفن کیئر فورم کے اراکین سمیت یتیم بچوں اور ان کی ماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔

یتامیٰ۔۔۔اسلام کی روشنی میں

اسلام ایک مکمّل نظامِ حیات ہے، جس میں یتیموں کی بہتر طریقے سے پرورش اور تربیت پر خاص زوردیا گیا ہے۔اپنی ہی اولاد کی طرح یتیم بچّوں کا خیال رکھنا افضل اور اپنی استطاعت کے مطابق اُن کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یتیم کی کفالت اور پرورش کرنا، انہیں تحفّظ دینا اور اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا صدقہ جاریہ ہے،اس کے بر عکس یتیموں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں، اُن کا مال کھانے والوں اور اُن پر ظلم کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

قران پاک میں ارشاد ہے کہ،

’’اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی۔‘‘(النساء ۔۱۲۷)

نبی مہربان ﷺخود بھی ایک یتیم تھے اور اسی لئے جہاں آپﷺ اوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، عدل، پاک دامنی، صداقت و درگزر کا پیکر تھے۔ وہاں مسکینوں ، بیوائوں اور خصوصاََ یتیموں کے لیے سب سے بڑھ کر پیکر ِ ضود سخا تھے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :

’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح(قریب) ساتھ ہوں گے۔ ‘‘(اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کیا)بخاری شریف

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بہترین گھر وہ ہے، جہاں یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیکی کی جاتی ہو اور بدترین گھر وہ ہے، جہاں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بُرا سلوک کیا جاتا ہو۔‘‘

یوم یتامیٰ اور ہماری ذمہ داریاں

یتیم بچے کسی اور کی نہیں میری اور آپ کی ذمہ داری ہیں۔یہ ہمارا خوش گوار ’’آج‘‘بھی ہیں اورروشن ’’کل‘‘ بھی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں اور احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اُس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا اور یہ محرومیاں اُس بچے کے مستقبل پردوررس اور انمٹ اثرات چھوڑتی ہیں۔ اس لئے من حیث القوم ہماری ذمہ داری ہے کہ یتیم بچہ ،جو ملک و قوم کا وارث بننے جا رہا ہے، اِسے زیادہ سے زیادہ شفقت اور محبت سے نوازیں۔ 

اگرہم نے بچپن میں اسے وہ توجہ اور حقوق جو اسکے لئے ہمارے دین اور آئین نے مقرر کئے ہیں، فراہم کرنے کی بجائے کوتاہی برتی اور اس معصوم کو معاشرے کے بے رحم تھپیڑوں کی نظر ہونے کے لئے بے آسرا چھوڑ دیا تو ہماری یہ مجرمانہ غفلت اسے ایک مفید شہری بنانے کی بجائے معاشرے کے لئے ناسور بنادے گی، جس کاخمیازہ ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اِس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا جائے اور معاشرے اور حکومت کو توجہ دلائی جائے کہ اِن بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے وطن میں یتیم بچوں کی اتنی بڑی تعداد کو اس معاشرے کا کار آمد شہری اور فرد بنایا جا سکے۔معاشرے میں موجود یتیم اور مستحق بچوں کی کفالت بحیثیت مسلمان ہمارے اوپر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔یہ ہماری ’’مجبوری‘‘ نہیں یہ ہمارے لئے خوشی اور راحت ہیں۔

 دونوں جہاں میں اللہ اور رسولؐ کی خوشنودی و قربت حاصل کرنے کاسیدھا اور آسان راستہ ہیں۔ اس لیے آگے بڑھیں، اس مشن کو اپنا مشن سمجھیںاور پاکستان آرفن کیئر فورم کے ہاتھ مضبوط کریں۔کیونکہ کفالتِ یتیم سے۔۔۔جنت کا حصول بھی ۔۔۔رفاقتِ رسولﷺ بھی۔


Sponsor سے مزید