امریکی صدر آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ دینے پر ٹرمپ دنیا سے ناراض ہوگئے، ٹرمپ نے کسی کو طعنہ دیا، کسی کو دھمکی دی۔
اوول آفس میں گفتگو کرنے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ ہم نے نیٹو کے دفاع پراربوں ڈالرخرچ کیے، ہمارے دفاع کے لیے وہ موجود نہیں، بولے برطانوی وزیراعظم نے مجھے مایوس کیا۔ جنگ جیتنے کے بعد اسٹارمر نے جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا۔ برطانوی وزیراعظم کو بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین کا دورہ کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے امریکا میں موجود رہنا پڑے گا، ہم نے درخواست کی ہے کہ چین کا دورہ ایک ماہ کے لیے ملتوی کریں۔
اس سے پہلے پریس کانفرنس میں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم 40 سال سے آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، اور آپ اس جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے؟
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک آبنائے ہرمز میں مدد کے لیے پُرجوش نہیں، ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کی ہم نے کئی کئی برسوں تک مدد کی ہے، ہم نے انھیں خوف ناک بیرونی خطرات سے بچایا ہے اور وہ اتنے پُرجوش نہیں۔
انہوں نے دوبارہ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ملکوں کے نام لے کر مدد مانگ لی، ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہُرمُز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ جن ملکوں کا تیل آبنائے ہُرمُز سے جاتا ہے وہ اب آگے آئیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بھی زندہ نہیں۔ ایران میں مذاکرات کے قابل کوئی قیادت موجود ہی نہیں۔
کیا جنگ اس ہفتے ختم ہوجائےگی؟ اس سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں بتا سکتا، جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔