• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’مَیں دیر کرتا نہیں، دیر ہو جاتی ہے…‘‘، حکومت کی کورونا پالیسی پر شاید اِس سے بہتر تبصرہ ممکن نہ ہو۔ ہم ایک ایسے ماحول میں عید منا رہے ہیں، جب کورونا کی تیسری لہر اپنے عروج پر ہے۔ خود حکومت کا اِس بارے میں کہنا ہے کہ’’ کورونا کی لہر شدید تر ہے اور انتہائی خطرناک بھی۔‘‘پہلی مرتبہ اموات کی ایک روز کی تعداد دوسو سے بھی زیادہ ہوئی، جب کہ متاثرین کی تعداد یومیہ ساڑھے پانچ ہزار سے تجاوز کر چُکی ہے۔ بہت سے خود ساختہ ماہرین سال بھر یہی بتاتے رہے کہ ہمارے خطّے کے لوگوں میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں، جن کی وجہ سے کووِڈ-19 یہاں زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکا، لیکن یہ تمام اندازے غلط نکلے۔

بھارت ایک بدترین مثال بن کر سامنے آیا، جہاں انفیکشن ریٹ یومیہ چار لاکھ سے تجاوز کر چُکا ہے اور روزانہ تین ہزار لوگ موت کی نیند سو رہے ہیں۔ہم ان مناظر کی تصویر کشی کر کے لوگوں کو ہراساں نہیں کرنا چاہتے، جو گزشہ دنوں ٹی وی اسکرینز اور سوشل میڈیا پر سامنے آتے رہے، تاہم اتِنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانیوں میں بھارتی عوام کے لیے ہم دردی کی ایک لہر دوڑ گئی، جس کا اظہار ہر طرف دیکھا جاسکتا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بھارت سے نہ صرف افسوس اور ہم دردی کا اظہار کیا، بلکہ ہر ممکن تعاون کی پیش کش بھی کی۔ فیصل ایدھی نے بھارتی وزیرِ اعظم کو اپنے ادارے کی جانب سے ستّر ایمبولینسز بھیجنے کے لیے خط لکھا۔یقیناً یہ جذبہ قابلِ تحسین ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے بھارت میں ہونے والے درد ناک سانحے سے کیا سیکھا؟ کیا یہاں حکومت نے کورونا کے سدِ باب کے لیے فوری طور پر سخت اقدامات کیے؟ ویکسی نیشن کو بڑھایا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا لوگوں نے اُن احتیاطی تدابیر پر عمل کیا، جو اِس وبا کے خلاف مؤثر ہوسکتی ہیں؟

یہ کہتے ہوئے دُکھ ہوتا ہے کہ کچھ اچھے اقدامات کے باوجود قوم میں وہ شعور دیکھنے میں نہیں آیا، جو اِس عالمی وبا سے مقابلے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ بلاشبہ، اِس مرتبہ حکومت پہلے کی نسبت سنجیدہ نظر آئی اور این سی او سی کے پلیٹ فارم سے بھی صُورتِ حال مانیٹر کر کے ہدایات کی جا رہی ہیں۔ ہر روز خبر آتی ہے کہ حالات مزید خراب ہوئے، تو بڑے شہروں میں لاک ڈائون کرنا پڑے گا۔ 

فوج کو سِول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا گیا ہے، جو ایس او پیز کے نفاذ میں مدد کر رہی ہے۔خود وزیرِ اعظم، عمران خان اور اُن کے وزرا عوام کو اِس وبا کی تباہ کاریوں سے مسلسل خبردار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اِس سے قبل وہ سال بَھر یہی بتاتے رہے تھے کہ اُنھوں نے اِس وبا کے خلاف اسمارٹ لاک ڈائون کی وجہ سے بڑی کام یابی حاصل کی اور یہ کہ دنیا ہماری کام یابی کی مثالیں دے رہی ہے، بلکہ کچھ وزرا نے تو یہاں تک کہا کہ امریکا میں پاکستان کی اِس کام یابی کو کاپی کیا جارہا ہے۔ 

تاہم، آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اسمارٹ لاک ڈائون اور مائیکرو اسمارٹ لاک ڈائون آخر ہے کیا چیز؟ تاہم، حقیقت یہی ہے کہ کورونا کی تیسری لہر سے یہ سب مفروضے اور دعوے زمیں بوس ہوگئے۔ ہم ایک بار پھر اِس وبا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔اچھی خبر یہ ہے کہ اِس وبا کے توڑ کے لیے ویکسینز آچُکی ہیں۔

امریکا میں اب تک چار کروڑ سے زاید افراد کی ویکسی نیشن ہو چُکی ہے۔ اُن کے پاس فائیزر اور موڈرنا جیسی چار مؤثر ویکسینز موجود ہیں۔ وہاں پانچ لاکھ افراد اِس وبا کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں، جو اب تک دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے، لیکن اب وہ اس وبا پر قابو پاچُکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، امریکا اور برطانیہ میں کورونا کے علاج کی دوا آخری مراحل میں ہے۔اسی طرح امریکا میں اٹھارہ سال تک کے بچّوں کے لیے بھی ویکسین تیار ہےاور اس کے عام استعمال کی اجازت جلد متوقّع ہے۔جس کے بعد تعلیمی ادارے مکمل طور پر کھولنا ممکن ہوں گے۔یقیناً باقی دنیا بھی اِس طریقۂ کار کی پیروی کرے گی۔

ہمارے ہاں سال بھر کورونا کے حوالے سے سُست روی دیکھنے میں آئی۔اپوزیشن جماعتوں کے جلسے، جلوسوں کے ضمن میں کورونا کی باتیں ہوئیں اور پھر سب سو گئے۔ جیسے یہ وبا ہمارے مُلک کی حد تک ختم ہوچکی ہو، لیکن تیسری لہر نے خوابِ غفلت سے نہ صرف جگایا، بلکہ جھنجوڑ بھی دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسپتالوں پر شدید دبائو ہے اور انھیں آکسیجن کی قلّت کا سامنا ہے۔اگر احتیاط نہ کی گئی، تو وہ مزید دباؤ برداشت نہیں کر سکیں گے۔حکومت ماہِ رمضان میں خریداری کے حوالے سے حسبِ سابق روزگار کے نام پر مفاہمت پہ مجبور نظر آئی۔

بازاروں میں صبح سے شام تک خریداروں کا رش لگا رہا۔ حالاں کہ وزیرِ اعظم نے کہا بھی کہ عوام صبر اور احتیاط سے کام لیں کہ عید اگلے سال بھی آئے گی۔لیکن شاید عوام کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ اِس وبا سے بھی گھبرانا نہیں، لڑنا ہے اور اُن کے نزدیک لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کی کوئی ضرورت نہیں۔ وزرا کی التجا، درخواستوں اور دھمکیوں کا اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

وہ معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ معیشت بہتر بنانا بھی ضروری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا معیشت بہتر بھی ہوئی؟ اس کا جواب سب کے سامنے ہے، پھر بھی کسی کو تجسّس ہو، تو بازاروں کا چکر لگا لے۔ہمارے ہاں ماسک پہننے والوں کو احمق سمجھا جاتا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں ایس او پیز کی کوئی پابندی نہیں ہو رہی اور اُنھیں روکنے ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں۔ اِس سے اُن باتوں کو تقویت ملتی ہے، جن کے مطابق اداروں کو ہاتھ ہلکا رکھنے کا کہا گیا ہے۔بس اعلانات اور میڈیا بیانات کافی ہیں۔

عمل کرنا نہ کرنا، عوام کی مرضی۔ عالمی وبا کے دَوران ایسی آزادی تو شاید ہی دنیا میں کسی کو حاصل ہو۔ نیز، ہمارے ہاں ویکسی نیشن کا عمل بھی انتہائی سُست ہے۔ اب تک ایک فی صد سے بھی کم عوام کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان پہلے تین سُست رو ممالک میں شامل ہے۔ ماسک پہننے سے کورونا سے پچاس فی صد بچت ہوجاتی ہے،یہ کون سے ڈاکٹر یا حکیم کی ماہرانہ رائے ہے؟ افسوس ڈاکٹرز کو، جنہیں کورونا کے خلاف جنگ میں قیادت کرنی تھی کہ دنیا کے ہر مُلک میں ایسا ہی ہو رہا ہے،یہاں انھیں صرف کام کرنے کی مشین سمجھ لیا گیا ہے۔اگر کوئی حکومتی طریقۂ کار سے اختلاف کرے یا کوئی دوسری رائے دے، تو اُسے حکومتی ترجمانوں کے غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سائنس اور وہ بھی طبّی سائنس کے یہ نرالے انداز کہاں دیکھنے کو ملیں گے۔یہ بھی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ اس وبا کو غیر ضروری طور پر دین سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالاں کہ دنیا بھر کے علمائے کرام متفّقہ طور پر رائے دے چُکے ہیں کہ اس عالمی وبا کے سامنے کوئی قوم ہے نہ فرقہ، سرحد ہے اور نہ علاقہ۔ یہ رنگ، نسل، جنس اور مذہب کی تفریق کیے بغیر سب پر حملہ آور ہوتی ہے۔ ہم نے بھارت کی صُورت حال پر افسوس کا اظہار کیا اور کرنا بھی چاہیے، مگر کیا عبرت بھی پکڑی کہ وہاں ایک مذہبی میلے کے سبب کورونا کی وبا پھیلی، تو کیا ہم نے اپنے مذہبی اور سیاسی اجتماعات محدود کیے؟ 

ہمارے مُلک کے ڈاکٹرز اب کُھل کر کہہ رہے ہیں کہ بہت دیر ہوچکی ہے، ایسا نہ ہو کہ معاملات ہاتھ سے نکل جائیں، لہٰذا فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ چھے بجے تک کی شاپنگ، رکشا ٹیکسی کا پچاس فی صد استعمال، دفاتر کا دو بجے تک کُھلا رہنا، شاید ہی اس وبا کو روک سکے، کیوں کہ یہ وبا حکومت کے مقرّر کردہ اوقات کی پابند نہیں۔ہمارا ویکسین پروگرام بھی بہت سست ہے اور اس کے جلد تیز ہونے کے بھی آثار نہیں۔

اِس لیے اگر ایک طرف ویکسین لگانے کا کام تیز کیا جائے، تو ساتھ ہی لوگوں میں اس بات کا احساس پیدا کرنے کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ویکسین کے بغیر گزارہ ممکن نہیں، کیوں کہ ابھی تک بیش تر افراد اسے فضول مشق سمجھ رہے اور رجسٹریشن سے گریزاں ہیں۔ ان پر وزیرِ اعظم اور صدر کی مثال نے بھی کوئی اثر نہیں دِکھایا۔ ڈاکٹرز، پڑھے لکھے افراد اور اُن لوگوں کو آگے لانا چاہیے، جنھیں معاشرے میں معتبر سمجھا جاتا ہے اور لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ہر بات پر قومی نغمے بنتے ہیں، آخر وبا کے معاملے پر اس نوعیت کا کوئی کام کیوں سامنے نہیں آیا۔ہمیں عام افراد، خاص طور پر بزرگوں کو ویکسینیشن کی افادیت سے متعلق مطمئن کرنا ہوگا۔

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے کھیلنے کی بجائے اب ٹی وی پرائم ٹائم اسی کے لیے مختص کردیں۔ اِس ضمن میں نجی چینلز بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کرپشن اور نیب مقدمات کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھے جائیں۔ یہ قومی صحت کا معاملہ ہے، شاید ہمیں اندازہ نہیں کہ کورونا کے آفٹر شاکس کس قدر خطرناک ہیں۔یہ قومی سوچ کو مفلوج کردیتے ہیں۔جو مُلک اور قومیں اس وبا سے نکل رہے ہیں، وہ اِس پہلو پر خاص توجّہ دے رہے ہیں، وگرنہ ترقّی تو دُور کی بات، مُلک کو معمول کے مطابق چلانے کے لیے بھی صحت مند جسم اور ذہن نایاب ہوجائیں گے۔ 

حکومت سے درخواست ہی کرسکتے ہیں کہ حکم ران، جن میں وزیرِ اعظم سرِفہرست ہیں، اب کورونا کے معاملے پر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیں۔ امریکا، روس، چین کے صدور، برطانیہ اور بھارت کے وزرائے اعظم اور مسلم دنیا کے سربراہ خود اس معاملے میں قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں اور اپنے عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ حکومت کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے اور یہی ان کی اوّلین ترجیح ہے۔ صدر جو بائیڈن نے اپریل کے آخر میں امریکا کے مشترکہ ایوانوں سے خطاب کیا۔اُن کی تقریر کا لہجہ اور تقریب کے بعد اُن کا رویّہ بہت مختلف تھا۔یہ تقریر اُنہوں نے وائٹ ہاوس میں اپنے نوّے دن مکمل کرنے کے بعد کی۔

اگر وہ چاہتے تو اپنے پیش رو، صدر ٹرمپ پر شدید زبانی حملے کرسکتے تھے، کیوں کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ سے لے کر چین تک کے معاملے میں پالیسی یوٹرن لیے ہیں۔ایران سے نیوکلیر ڈیل پر مذاکرات اور ماحولیات کانفرنس میں دوبارہ شرکت اس کی واضح مثالیں ہیں، لیکن اُنہوں نے اپنے اس اہم خطاب میں صدر ٹرمپ کا ذکر تک نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی نہ کہا کہ کورونا سے جو پانچ لاکھ اموات ہوئیں، اُس کی ذمّے دار ماضی کی حکومت تھی۔اُنہوں نے صرف یہ بتایا کہ جو کام ٹرمپ کے دور میں ہوچُکا تھا، اسے کس قدر تیزی سے نوّے دنوں میں مکمل کیا گیا۔

عام امریکی شہریوں کے ریلیف کے لیے وہ کیسے آگے بڑھیں گے۔انھوں نے کسی کو خوف ناک اور دل آزار خطابات سے نہیں نوازا، حالاں کہ اُنہیں ایسا کرنے سے کون روک سکتا تھا؟ ایک ہاؤس میں اُن کی معمولی سی اکثریت ہے اور سینیٹ کی آدھی نشستیں ان کے پاس ہیں۔ اُن کی تقریر کسی کو نیچا دِکھانے کے لیے نہیں تھی۔کیپٹل ہل جیسے واقعے کا بھی ذکر نہ تھا۔غدّاروں کی کوئی فہرست بھی جاری نہیں کیہ گئی۔ اُنہوں نے قوم سے کہا کہ وہ متحد ہو کر کورونا اور اس کے بعد کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہے۔ہم پھر سے امریکا کو دنیا میں لیڈ رول میں لے آئے ہیں اور اسے قائم رکھنے میں سب کی مدد اور تعاون درکار ہے۔

صدر بائیڈن دھیمے مزاج کے سیاست دان ہیں، وہ بیانات کی بجائے پالیسی سازی کے ذریعے اپنے فیصلے سناتے ہیں۔ میڈیا کا استعمال بہت ہی کم کرتے ہیں۔ تقریر کے بعد دونوں ایوانوں کے ارکان کے پاس، جن میں اپوزیشن ارکان بھی شامل تھے، چل کر گئے اور تعاون کی درخواست کی تاکہ امریکی قوم کو مشکل وقت سے نکالا جاسکے۔ جب لوگ پوچھتے ہیں کہ امریکا سُپر پاور کیوں کر بنا اور وہ اس رول کو ایک سو سال سے بھی زاید عرصے سے کیسے قائم رکھے ہوئے ہے؟ تو اس کا جواب اس اندازِ حکم رانی میں مل سکتا ہے۔ وہاں کے عوام وقت کے تقاضوں کے مطابق حکم ران چُنتے ہیں اور پھر وہ حکم ران ڈلیور کر کے بھی دِکھاتے ہیں۔