• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجاہدین کا دستہ عراق جا رہا تھا۔ امیرالمومنین، سیّدنا فاروقِ اعظمؓ اُسے رخصت کرنے کے لیے پیدل چلتے ہوئے مدینے کے باہر تک تشریف لے گئے۔ ابھی جانبازوں کو دعائوں کے ساتھ روانہ فرما رہے تھے کہ اچانک ایک اونٹ پر نظر پڑی، تو دیکھا کہ ایک ضعیف خاتون اُس پر سوار ہیں۔ آپؓ جلدی سے اُن کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا’’ امّاں! آپ کون ہیں اور اِن مجاہدین کے ساتھ کہاں جارہی ہیں؟‘‘ بوڑھی خاتون نے چہرے سے چادر ہٹائی۔ جھریوں بَھرا نورانی چہرہ خلیفۂ وقت کی جانب کیا اور گویا ہوئیں’’عُمرؓ! کیا خلافت کی ذمّے داریوں نے تمہاری یادداشت کم زور کردی ہے؟‘‘ پھر جہاد کی فضیلت پر چند اشعار پڑھے۔ 

سیّدنا فاروقِ اعظمؓ کے سامنے عرب کی مشہور مرثیہ گو شاعرہ، حضرت خَنساءؓ تھیں۔ آپؓ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’ ’’امّاں خَنساءؓ! آپ اِس ضعیفی میں اِتنی دُور محاذ پر کیوں جارہی ہیں؟‘‘ اُنھوں نے جواب دیا’’ امیر المؤمنینؓ! مَیں اکیلی نہیں ہوں، میرے ساتھ میرے چار جوان بیٹے بھی ہیں۔ حضرت سعدؓ کی پکار پر لبّیک کہتے ہوئے اپنے بچّوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں جارہی ہوں۔‘‘ بوڑھی خَنساءؓ کے عزم و استقلال کے سامنے حضرت فاروقِ اعظمؓ کو کچھ کہنے کی ہمّت نہ ہوئی۔

جنگِ قادسیہ میں رستم کے ہاتھی

مسلم لشکر کے سپہ سالار، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اپنی سپاہ کے ساتھ آندھی طوفان کی طرح فارس کے شہروں کو فتح کرتے اور کسریٰ کی ناقابلِ تسخیر بادشاہت روندتے ہوئے قادسیہ جا پہنچے۔ حضرت سعدؓ کو جاسوسوں نے اطلاع دی کہ ایرانی فوج کا سپہ سالار رستم نئی حکمتِ عملی کے تحت ہاتھیوں کی ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ حملہ آور ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ہاتھی ایک سخت جان جانور ہے، جس کے جسم پر خنجر، نیزے یا تلوار کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔البتہ ، سونڈ اُس کے جسم کا وہ نرم و نازک حصّہ ہے، جس پر لگا زخم اُسے بدحواس کردیتا ہے۔ 

حضرت سعدؓ نے ایک قاصد کے ذریعے یہ اطلاع حضرت فاروقِ اعظمؓ کو بھیجی، جنھوں نے تازہ دَم لشکر قادسیہ بھیجنے کے لیے مدینے میں اعلان کروا دیا۔ لوگ جُوق درجُوق جہاد پر جانے کے لیے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ قادسیہ میں مسلمانوں کو رستم کی ایرانی فوج کے انتظار میں چھے ماہ لگے۔ بالآخر وہ لمحہ بھی آگیا، جب 14ہجری کی ایک صبح دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مدّ ِمقابل صف آرا تھیں۔ رستم کی فوج کی صفِ اوّل سامانِ حرب سے سجے ہاتھیوں پر مشتمل تھی، جو مُٹھی بَھر مجاہدین کو اپنے پیروں تلے روندنے کے لیے بے تاب تھے۔

ماں کی نصیحت، غازی یا شہید

حضرت خَنساءؓ کے خیمے میں چاروں بیٹے میدانِ جنگ میں جانے کے لیے تیاریوں میں مصروف تھے کہ بوڑھی ماں کی پُرعزم آواز نے خیمے کا سکوت توڑا’’اے میرے سعادت مند، بہادر بچّو…! جیسا کہ تم جانتے ہو کہ ہم نے اللہ کی رضا اور خُوش نودی کے لیے اسلام قبول کیا، اُس کی راہ میں ہجرت کی، مَیں نے حق حلال کی کمائی سے تمہیں پالا، کبھی تمہارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کی عزّت پر آنچ آنے دی۔ تمہارا حسب نسب ہر عیب سے مبرّا اور ہر برائی سے پاک ہے۔ کل جب تمہارے ماموں قتل ہوئے تھے، تو مَیں نے عُمر بھر اُن کا سوگ منایا، لیکن آج مَیں تمہیں اپنے ہاتھوں سے سجا کر اللہ کی رضا کے لیے میدانِ جہاد میں بھیج رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’اے ایمان والو! (کفّار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ مُراد حاصل کرو۔‘‘(سورۂ آلِ عمران200) میرے بچّو…! جائو اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے آتشِ جنگ میں کود پڑو۔ یاد رکھو! مسلمان کے جذبۂ جہاد اور قوّتِ ایمانی کے سامنے دشمن کے سامانِ حرب اور افرادی قوّت کی کوئی حیثیت نہیں۔ 

کفّار کا کوئی بھی حملہ، کوئی بھی وار تمہاری راہ کی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ تم اپنے وطن سے سیکڑوں میل دُور اِس اجنبی سرزمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے آئے ہو۔ خبردار! جو دشمن سے مقابلے میں ذراسی بھی سُستی دِکھائی۔ اب تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں۔ غازی یا شہید۔ اور یہ دونوں راستے حوضِ کوثر سے ہوتے ہوئے جنّت الفردوس تک جاتے ہیں۔ جائو، اِن دونوں میں سے جو بھی راستہ اختیار کرو گے، اس راہ میں مجھے اپنا منتظر پائو گے۔‘‘ چاروں بیٹے ماں کی دعائوں کے سائے میں رجزیہ اشعار پڑھتے میدانِ جنگ کی جانب دوڑ پڑے۔ کچھ توقّف کے بعد حضرت خَنساءؓ نے بھی اپنی لاٹھی اُٹھائی اور مجاہدین کی صفوں میں داخل ہوگئیں۔

مُسکراتے ہوئے ٹکراتے ہیں طوفانوں سے

ایرانی فوج کے سالار ،رستم نے سب سے پہلے ہاتھیوں کے لشکر کو حملے کا اشارہ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بدمست ہاتھی مسلمانوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔یہ بے حد کڑا وقت تھا۔ شروع میں مجاہدین کو پسپا ہونا پڑا، لیکن پھر زیرک سپہ سالار، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے نئی حکمتِ عملی کے تحت نوجوانوں کے محفوظ لشکر کو اِس تاکید کے ساتھ آگے بڑھایا کہ وہ ہاتھیوں کے قریب جاکر صرف اُن کی سونڈوں پر حملہ کریں۔ اس لشکر میں حضرت خَنساءؓ کے چاروں صاحب زادے بھی تھے۔ 

ان چاروں نے ماں کے حکم کو ایک ساتھ دُہراتے ہوئے نعرہ بلند کیا’’غازی یا شہید‘‘ اور پھر قادسیہ کے آسمان پر روشن سورج نے دیکھا کہ سونڈ کٹے ہاتھی شدّتِ تکلیف سے بلبلاتے پیچھے پلٹے اور اپنی ہی فوج کو روند کر تباہی مچانے لگے۔ شام تک جنگ کا پانسا پلٹ چُکا تھا۔ قادسیہ کا میدان ایرانی فوجیوں کی لاشوں سے بھرا پڑا تھا، جب کہ 500مجاہدین بھی شہید ہوئے۔

بیٹوں کی شہادت پر ماں کا سجدۂ شُکر

شام کے سائے رات کی تاریکی میں تبدیل ہو رہے تھے۔ میدانِ جنگ پر خاموشی کا راج تھا۔ بوڑھی خَنساءؓ اپنے خیمے میں اکیلی بیٹھی گہری سوچوں میں گم تھیں۔ وہ میدانِ جنگ سے آنے والی کسی خبر کی منتظر تھیں۔ اچانک دروازے پر آہٹ ہوئی، سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاصؓ خیمے میں داخل ہوئے۔ حضرت خنساءؓ نے اُنہیں دیکھا، تو جلدی سے بولیں ’’سعدؓ! جنگ کا احوال بتائو؟‘‘ بولے ’’امّاں! مسلمانوں کو فتح ملی ہے۔‘‘ سعدؓ یہ کہہ کر خاموش ہوگئے۔ اُن کے پاس وہ الفاظ نہیں تھے، جن سے ایک ماں کو اُس کے چاروں بیٹوں کی شہادت کی خبر دے سکیں۔ 

فتح کی خبر سُن کر حضرت خنساءؓ نے اللہ کا شُکر ادا کیا۔ سپہ سالار کے چہرے پر تفّکر کے آثار دیکھے، تو گویا ہوئیں ’’سعدؓ! جو کہنا چاہتے ہو، کہہ ڈالو، مَیں سُننے کی منتظر ہوں۔‘‘ حضرت سعدؓ نے اُنہیں چاروں بیٹوں کی شہادت کی اطلاع دی، جسے اُنھوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ سُنا اور یک دَم سجدے میں گر گئیں۔ اللہ کا شُکر ادا کیا اور بولیں’’ اے اللہ! مَیں نے اپنے بچّوں کو اِسی دن کے لیے پالا تھا۔ تُو اُن کی قربانی قبول فرما اور جنّت میں مجھے بچّوں سے ملا دے۔‘‘ (اسد الغابہ442/5)

نام و نسب

حضرت خنساءؓ کا اصل نام تماضر تھا، لیکن بچپن ہی سے نہایت ذہین، زیرک، متحرّک، حاضر جواب اور خوش گفتار تھیں، چناں چہ خَنساء کے نام سے پکاری جانے لگیں، جس کے معنی ہرنی کے ہیں۔ اُن کا تعلق قبیلہ قیس کے خاندان، بنو سلیم سے تھا۔ 575ء میں نجد شہر میں پیدا ہوئیں۔ سلسلۂ نسب یوں ہے: حضرت خنساء بنتِ عمرو بن الشرید بن رباح بن ثعلبہ بن عصیہ بن خفاف بن امری القیس بن سلیم۔

نکاح و اولاد

حضرت خنساء ؓکا پہلا نکاح قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص، رواحد بن عبدالعزیز سے ہوا، جن سے دو بیٹے عبداللہ اور ابو شجرہ پیدا ہوئے۔ اُن کے انتقال کے بعد مروان بن ابو عامر کے عقد میں آئیں، جن سے زید اور معاویہ پیدا ہوئے۔ (اسد الغابہ 441/5)

ارثی العرب

حضرت خنساءؓ کو زمانۂ جاہلیت ہی میں عرب کی سب سے مقبول و مشہور شاعرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا تھا۔ عرب شعر و سخن کے بے حد دل دادہ تھے۔ شعر و شاعری سے شغف گویا اُن کی گُھٹی میں شامل تھا۔اُن کا دستور تھا کہ سال کے بارہ مہینے مختلف شہروں میں شعرو شاعری کی محافل منعقد کرتے، جن میں مرد اور خواتین شعراء حصّہ لیتے۔ ذیقعدہ کے مہینے میں جب حاجی مکّہ آنا شروع ہوتے، تو وہاں کے سب سے بڑے بازار، عکاز میں شعرائے عرب کی سب سے بڑی مجلس منعقد ہوتی۔ یہاں حضرت خنساءؓ کو یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ اُن کے خیمے پر ایک جھنڈا نصب ہوتا، جس پر لکھا ہوتا’’ارثی العرب‘‘ یعنی’’ عرب کی سب سے بڑی شاعرہ اور مرثیہ گو۔‘‘ (طبقات الشعراء، ص198)

بھائیوں کا قتل اور مرثیہ گوئی

مؤرخین لکھتے ہیں کہ حضرت خنساءؓ کا والد قبیلہ بنو سلیم کا سردار تھا، جو اُن کی کم عُمری ہی میں انتقال کرگیا تھا۔ حضرت خَنساءؓ کے دو بڑے بھائی تھے، معاویہ اور صخران۔ دونوں نے اپنی چھوٹی بہن کی بہت محبّت سے پرورش کی۔ خنساءؓ کو اشعار کہنے کا شوق بچپن ہی سے تھا، لیکن پھر پے در پے حادثات نے اُنہیں مرثیہ گو بنا دیا۔ 

اُن کے یہ دونوں بھائی یکے بعد دیگرے قبائلی جھگڑوں میں موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے۔ چناں چہ اُنہوں نے بھائیوں کی موت کا دُکھ اشعار میں بیان کرنا شروع کردیا۔پھر شہرت کی اس بلندی پر پہنچیں کہ جہاں عرب کے تمام شعراء نے اُن کی فصاحت و بلاغت، الفاظ کے چناؤ، بیان کی قدرت اور ادائی کے سوز کے آگے سر تسلیمِ خم کرلیا۔یہاں تک کہا گیا کہ’’ناقدانِ سخن کا فیصلہ ہے کہ حضرت خنساءؓ کے برابر کوئی شاعرہ نہیں پیدا ہوئی۔‘‘

قبولِ اسلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ ہجرت فرما چُکے تھے اور اسلامی ریاست کی خُوش بُو پورے جزائرِ عرب کو معطّر کر رہی تھی۔ حضرت خنساءؓ تک یہ خوش بُو پہنچی، تو اُن کی عُمر تقریباً 50سال تھی۔ وہ اپنے قبیلے کے سرکردہ افراد کے ساتھ بارگاہِ نبویؐ میں حاضر ہوئیں اور اسلام قبول کرلیا۔ گو کہ آنحضرتﷺ کو اشعار سے کوئی رغبت نہ تھی، لیکن پھر بھی آپ ؐ کافی دیر تک اُن کے پُرسوز اشعار سُنتے رہے۔ (اسد الغابہ 442/5)

شعراء کی اقسام

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ ہم نے اپنے نبی کو شعر نہیں سِکھایا اور نہ ہی شعر اُن کے شایانِ شان ہیں۔‘‘ (سورۂ یاسین 69) یہ وہ زمانہ تھا کہ جب عرب معاشرے میں شعراء نہایت عزّت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی اشعار سے دل چسپی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ سورۂ شعراء میں فرماتے ہیں’’ اور شاعروں کی پیروی گم راہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سَر مارتے پِھرتے ہیں اور کہتے وہ ہیں، جو کرتے نہیں ہیں۔‘‘ 

جب یہ آیات نازل ہوئیں، تو حضرت حسّان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحدؓ نے آب دیدہ ہوتے ہوئے فرمایا’’ یارسول اللہﷺ! اب تو ہم جہنّمی ہوگئے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ اِس سے اگلی آیت پڑھو۔‘‘ مطلب یہ تھا کہ چوں کہ تمہارے اشعار بے ہودہ نہیں ہوتے، اِس لیے تمھیں اس سے استثنا ہے۔ آنحضرتؐ نے اچھے اور بُرے کلام کے اعتبار سے شعراء کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہ جو لغو اور فحش اشعار کہتے ہیں ،جن کا سُننا اور پڑھنا جائز نہیں۔ دوسرے وہ جن کا کلام پاکیزہ اور بامقصد ہوتا ہے، ایسا کلام سننا جائز ہے۔خود مختلف مواقع پر حضورؐ نے بھی صحابۂ کرامؓ کا ساتھ دیتے ہوئے اشعار ادا فرمائے۔ مثلاً مسجدِ نبویؐ کی تعمیر اور خندق کی کھدائی کے دَوران، لیکن آپؐ نے خود کبھی کوئی شعر نہیں کہا۔

وفات

حضرت خنساءؓ کا انتقال 645ء میں 70؍سال کی عُمر میں نجد میں ہوا۔ بیٹوں کی شہادت کے 10؍سال بعد تک حیات رہیں۔ حضرت عُمر فاروقؓ نے اُن کے بیٹوں کا 200؍درہم سالانہ وظیفہ مقرّر کیا، جو حضرت خنساءؓ کو عُمر بھر ملتا رہا۔ (الاستیعاب ص3351)علامہ ابو الفرج اصفہانی نے اپنی کتاب’’کتاب الاغانی‘‘ میں حضرت خنساءؓ کے حالاتِ زندگی تفصیل سے لکھے ہیں۔ حضرت خنساءؓ کے اشعار کا دیوان 1888ء میں بیروت میں چھاپا گیا، جس کا 1889ء میں فرینچ زبان میں ترجمہ بھی ہوا۔

سنڈے میگزین سے مزید