• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب سے تقریبا سات برس قبل امریکی عدالت نے صارفین کو تمباکو کے اثرات بتانے میں غفلت برتنے پر ایک سگریٹ نوش کی بیوہ کوتیئس اعشاریہ چھ ارب ڈالرز ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیاتھا۔لیکن پاکستان میں تمباکو نوشی سے متعلق کیا قوانین رائج ہیں اور عوام ان سے کتنے باخبر ہیں ،یہ بات ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

سگریٹ ، پان، نسواریاگٹگا،یہ سب تمباکو نوشی کی شکلیںہیں، اور سب ہی صحت کے لیےانتہائی خطرناک ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کےمطابق پاکستان میں تمباکونوشوں کی تعداد اڑھائی کروڑس ےزایدہے۔لیکن تازہ تحقیق یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتاتی ہےاورکہتی ہے کہ ان میںسے ہر سال ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد تمباکونوشی سےمتعلق بیماریوں کےباعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔

یعنی یہ زہر روزانہ سیکڑوں افراد کو لقمہ اجل بناتاہے ۔ تمباکو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے ۔اس کے پتے pestisides ہیں ۔ اس میںپندرہ اقسام کےسرطان مخفی بتائے جاتے ہیں جن کی بہ راہ راست وجہ تمباکو ہے۔دنیا میں جو دس بڑی بیماریاں ہیںان میںسےچھ کی وجہ تمباکو نوشی بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کےانسداداور نان اسموکرز کے تحفظ کا قانون مجریہ2002سے رائج ہے ۔ 

جس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرناجرم ہے جس کی سزاقید کےساتھ جرمانہ بھی ہے۔حکام کےمطابق سگریٹ کے پیکٹس پر ہیلتھ وارننگز 1979 سے درج ہیں اور2010 سےتصویری وارننگ بھی شایع کی جارہی ہے۔ اگر سگریٹ کےکسی پیکٹ پرکسی طرح کی کوئی وارننگ موجود نہیںتویہ غیررجسٹرڈہےیاپھراسمگلڈ۔ تمباکو کی پیداوار، خرید و فروخت اور اس پر قابو پانے کے امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹارٹ( TORT) کے قوانین موجود تو ہیں، لیکن غیرواضح۔ تاہم صارفین کے تحفظ کے آرڈی نینس مجریہ2005کے بعد شہریوں میں یہ شعور اجاگر ہوا ہےکہ وہ کسی بھی کمپنی کےخلاف شکایت کی صورت میں عدالت سےرجوع کرسکتے ہیں۔ 

دوسری جانب وزارت صحت31مئی2014سے تمباکو نوشی کی تمام مصنوعات کی تشہیرو اشاعت پر پابندی کا اعلان کرچکی ہے ۔تاہم ہمیں ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ہوگاکیوں کہ تحقیق سے ثابت ہوچکا کہ تمباکو نوشی غربت ، بیماریاں ،اموات اور مسائل بڑھاتی ہے اوراپنے بہتر مستقبل کے لیے ہمارے بڑوں کو اسے ترک کرنا اور نئی نسل کو اس لعنت سے بچاناضروری ہے۔

کئی جہتوں میں کام کرنے کی ضرورت

اگرچہ عالمی ادارہ صحت، نےحال ہی میں پاکستان کو انسداد تمباکو نوشی کےضمن میں کام یاب اقدامات اٹھانے پر ایمرو ریجن میں نمبر وَن قرار دیا ہے۔ لیکن غربت ، بیماری اور معاشی مواقعے ضایع کرنے اور ملک کو سالانہ اربوں روپے کے علاج معالجے کے اخراجات اور پیداواریت کے نقصان سے بچانےکے لیے ماہرین کثیرالجہتی کوششوں پر زور دیتے ہیں۔ان کوششوں کا ایک اہم نکتہ تمباکو استعمال کرنے والے نئے صارفین پیدا ہونے سے روکنا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کے لیے ہمیں بچّوں پر کام کرنا بہت ضروری ہے ، کیوںکہ بچپن یا لڑکپن میں ہربچّے کی زندگی میں کم ازکم ایک ایسا موقع ضرور آتا ہے جب وہ اس لعنت کا شکار ہوسکتا ہے۔یہ اس کے لیے بہت اہم اور فیصلہ کُن مرحلہ ہوتا ہے۔ اسے اس مرحلے سے بچانے کے لیے تمباکو کی مصنوعات کے نرخ بہت زیادہ کردینے اور بچّوں کی گزرگاہوں سے تمباکو کی تمام مصنوعات اور ان کے اشتہارات ہٹادینے کی تجاویز بہت موثر مانی جاتی ہیں۔

ایسی ہی ایک کوشش کراچی کو تمباکو سے پاک کرنے کے ضمن میں بچّوں کے حقوق کےتحفّظ کےلیے کام کرنے والی تنظیم سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف رائٹس آف چائلڈ (SPARC)کررہی ہے۔وہ ورک شاپس،صحافیوں کو مسئلے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے اور دیگر ذرایع سے تمباکو نوشی کے باعث معاشرے کو پہنچنے والے نقصانات ، اثرات،بالخصوص اس کے بچّوں پرمرتّب ہونے والے مضر اثرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسی ضمن میں کچھ عرصہ قبل گوادر میں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کراچی کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاسے تعلق رکھنے والے چالیس کے قریب صحافیوں نے شرکت کی۔یاد رہے کہ حال ہی میں ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نوعمری میں بےچینی ، افسردگی اور تمباکو نوشی بعد کی زندگی میں آسٹیوپوروسس یا ہڈیوں کے بُھر بُھرے ہو جانے کا سبب بن سکتی ہے۔یہ نوعمر لڑکیوں میں تمباکو نوشی اور ذہنی دباؤکے طویل مدتی اثرات اور آسٹیو پوروسس اور ہڈّیوں کے ٹوٹنے کے ممکنہ پوسٹ مینو پاز برسوں میں مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے ضمن میں کیا جانے والا پہلا مطالعہ ہے۔

ہم دنیا بھر میں سرِ فہرست

اعداد وشمارکے مطابق پا کستان کا شمار دنیا کے ان پندرہ ممالک میں ہوتا ہے، جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔ اسپارک کےپروجیکٹ مینیجر، کاشف مرزاکے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم ’’نیٹ ورک فار کنزیومر پروٹیکشن‘‘ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زاید دکانیں اور پان کے کھوکھوں پر سگریٹ با آسانی دست یاب ہے۔ سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ 

یعنی تمباکو نوشی کی جانب قدم بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سال ہے۔ تمباکو نوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈی نینس، مجریہ 2002 کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افرادکے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اوراٹھارہ سال سے کم عمر کےافرادکو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔لیکن قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کوئی شکایت درج نہیں کی جاتی۔ پاکستان میں کام کی جگہ پر سگریٹ نوشی کرنے والے فرد کے ساتھ دیگر افراد بھی یک ساں طور پر متاثر ہوتے ہیں۔

کاشف مرزا کے بہ قول نوجوان اور خواتین تمباکو کی صنعت کے بنیادی ہدف ہیں، کیوں کہ گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے کے مطابق اس وقت13.3 فی صد لڑکے اور 6.6 فی صد لڑکیاں (جن کی عمریں 13 سے 15سال ہیں) تمباکو استعمال کرتی ہیں۔ملک میںتقریباً 160,000 افرادہر سال تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تقریباً 40,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی عادت سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ نشے کی ابتدا سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے۔

وہ انسدادِ تمباکو نوشی مہم کے بنیادی کردار کو اجاگرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے اسکولوں اور کالجوں میں صحت کے خطرات کم ہوں گے۔ہم سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ نوجوانوں میںتمباکو اور سگریٹ نوشی کی عادت کی حوصلہ شکنی کی جاسکے- صحت مند طرز زندگی کے لیے بچّوں کو سگریٹ فروخت کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ اچھی صحت کےلیے تمباکونوشی کی عادت چھوڑدیں ،نہیں تو کم ضرور کردیںاورصحت پر ہونے والے اپنے اور سرکاری اخراجات کو کم کریں۔

تمباکو یا مضرکیمیائی اجزا کی کان

ماہرین کے مطابق تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباًسات ہزار کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کےلیے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زاید ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوسرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھویں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے حملہ قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف اقسام کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا سرطان سرِ فہرست ہے۔ 

پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً نوّے فی صد افرادمو تمباکو نوش ہوتےہیں یا انہوں نے ماضی میں تمباکو نوشی کی ہوتی ہے۔آپ جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کےسرطان ہونے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ملک کے بعض اسپتالوں میں آنے والے چالیس فی صد مرد مریض تمباکو نوشی سے ہونے والےسرطان کی اقسام کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرا سب سے زیاد ہ پایا جانے والا کینسر منہ کا ہے۔ 

اس کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔اسی طرح تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، معدے، جگر، مثانے، لبلبے اور گردے کے سرطان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کی تمام اقسام،بہ شمول سگریٹ، پائپ، سگار، حُقّہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال،مثلا پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا،سب خطرناک ہوتی ہیں۔

ماہرین اس امر پر بہت افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں تمباکو کے نقصانات کے بارے میں زیادہ آگہی موجود نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم جارحانہ طور پر چلائی جائے جس میں حکومت، عوام،ذرایع ابلاغ ،تاجربرادری، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا بھرپور حصہ لیں۔ اسکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے بارے میںمضامین شامل کرنے چاہییں تاکہ بچّے بچپن ہی سے ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتے داروں اور محلّے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کردیں۔ 

اس طرح یہ بچے بڑے ہوکر معاشرے میں اہم صحت مندانہ تبدیلی لانے کا باعث بھی بن جائیں گے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں مصروف رکھنے کے لیے بہت سے نئے صحت مندانہ منصوبے شروع کرنا ہوں گے تاکہ یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر کام میں لائیں جس سے نہ صرف اُن کی صحت کا معیار بہتر ہوگا بلکہ یہ ملکی ترقی کا باعث بھی ہوگا۔ہمیں اپنے لوگوں کو مسلسل یہ باور کراتے رہنا چاہیے کہ اپنی زندگی تباہ ہونے سے بچائیں۔ یاد رکھیں کہ تمباکو نوشی کی ہر قسم نقصان دہ ہے۔

کچھ تلخ حقایق

ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 32 فی صد اور خواتین میں تمباکو کے استعمال کی شرح 5.7فی صد بتائی جاتی ہے۔ مگر نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔پاکستان میں سگریٹ کا استعمال معیشت اور صحت کے شعبے پر بوجھ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں اور بچّوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔ ملک میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے 90ء کی دہائی میں قانون سازی کا عمل شروع کیا گیاتھا۔ جس کے تحت ذرایع ابلاغ میں سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی عاید کی جانے لگی۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے سگریٹ کی فروخت اور تمباکو نوشی کو کم کرنے کے لیے اشتہارات پر مکمل اور جامع پابندی کے لیے رہنما اصول جاری کررکھے ہیں۔ پھر جب اس عمل سے بھی سگریٹ کے استعمال میں کمی نہیں ہوئی تواس کی فروخت پر ٹیکسوں میں اضافے کا عمل شروع کیا گیا۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی کے علاوہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے،لیکن تمباکو نوشی کے خلاف سرگرم افراد اور اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ ٹیکس دنیا بھر کے مقابلے میں آج بھی بہت کم ہےاور اس میں مسلسل اضافہ ہوتے رہنا چاہیے تاکہ یہ لوگوں کی پہنچ سے دور تر ہوتا چلاجائے اور ایک روز ملک کو اس لعنت سے نجات مل جائے۔

بچّوں کو متبادل گاہک بننے سے بچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، ملک عمران احمد،کنٹری ہیڈ،کمپین فار ٹوبیکو فری کِڈز

حال ہی میں وزیرِ اعظم پاکستان،عمران خان نے ایک نشری تقریر میںقوم کو یہ باور کرایا تھا کہ تمباکو کی صنعت ملک کو کثیر محاصل فراہم کرتی ہےجو ہماری معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔اسی تقریر میں ان کایہ بھی کہنا تھا کہ اسی صنعت کی جانب سےمحاصل کی چوری کی وجہ سے ملک کو قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزیرِ اعظم کو ایف بی آر،سمیت مختلف اداروں کی جانب سے دی گئی بریفنگ (جس کا بیش تر حصّہ خود اسی صنعت کی جانب سے فراہم کیا گیا)یا تو غلط ہے یا وہ نصف سچ ہے جس میں وہ کلیدی معلومات چھپائی گئیں جو وزیرِ اعظم کو یہ مسئلہ حقیقی پیرائے میں سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کوئی بھی پاکستانی یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا تمباکو واقعی ہماری معیشت کےلیے اہم ہے؟مجموعی طورپراس ہلاکت خیز مصنوع کےکیا فوایدہیں اور ہمیں اس کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے۔مناسب پالیسیز وضح کرنے اور قوم کی محفوظ اور بہتر مستقبل کی جانب راہ نمائی کرنے کے لیے ان سوالات کے جواب دینا کسی بھی حکومت کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان میں ہربرس اسّی ارب سگریٹ پھونک دیے جاتے ہیں جن سے حکومت کو ایک سو دس ارب روپے کے محاصل حاصل ہوتے ہیں جو عام طورسے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی شکل میں ہوتے ہیں ۔تمباکو ہماری فصلوں کی کُل مالیت میں صرف صفر اعشاریہ بیالیس فی صد کا حصّے دار ہےاور زرعی شعبے میں روزگار کے کُل مواقعے میں سے صرف صفراعشاریہ صفر تین فی صد مواقعے(آٹھ ہزار دوسو) فراہم کرتاہے۔

اسی طرح سگریٹ بنانے کی صنعت کا ہمارے مینو فیکچرنگ کے شعبے اور جی ڈی پی میں کوئی بڑا حصّہ نہیں ہے۔ہماری کُل صنعتی پیداوار میں اس کا حصّہ صرف ایک اعشاریہ ایک فی صد ہے۔ ان سب سے بڑھ کر سگریٹ بنانے کی صنعت کا صنعتی شعبے کی کُل ملازمتوں میں حصّہ نصف فی صد (صفر اعشاریہ تین فی صد)سے بھی کم ہے۔پھر یہ کہ یہ صنعت زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرکے زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بننے کے بجائے زرمبادلہ کی نکاسی کا ذریعہ بنتی ہےکہ اس کا زیادہ تر دارومدار درآمدات پر ہے۔

دوسری جانب تمباکو کے استعمال کی ملک اور متعلقہ خاندانوں کو بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ پاکستان میں تمباکو نوشی کی عادت ہر برس ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد کی جانیں لے لیتی ہے اور تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجےکی لاگت اور وقت سےپہلے ہونے والی اموات سے ہونے والے پیداواری نقصان کی صورت میں ملک کی معیشت پرہربرس چھ سو تینتالیس ارب روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔

علاوہ ازیں تمباکو اور غربت مل کر ایک شیطانی چکّر کو جنم دیتےہیں۔تمباکو کا استعمال غریب خاندانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ غریب افراد اپنی آمدن کا ایک بڑا حصّہ تمباکوپر خرچ کرتے ہیں۔یعنی وہ بنیادی انسانی ضروریات،مثلا خوراک،رہایش،تعلیم اور صحت کے بجائے یہ رقم تمباکوپر خرچ کرتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ان کے خاندان کی غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے،کیوں کہ ایک جانب یہ رقم ضایع ہوتی رہتی ہے اور دوسری جانب تمباکو استعمال کرنے والے بیماریوں کے زیادہ خطرات کی زد میں رہتے ہیں ، سرطان ، حملہ قلب،سانس کے امراض یا تمباکو نوشی سے متعلق دیگر امراض کی وجہ سے وقت سے پہلے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔اس کے نتیجے میں ان کے خاندان پرایک جانب توان کے علاج معالجےکےاخراجات کا اضافی بوجھ پڑجاتاہےاور دوسری جانب ان کے انتقال کی صورت میں وہ خاندان جسے ایک فرد کی آمدن کی اشد ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے یک سر محروم ہوجاتا ہے۔

تمباکو کی صنعت بچّوں کومسلسل ہدف بنارہی ہے تاکہ انہیں ان ہلاک شدگان کا متبادل گاہک بنایا جاسکے جو تمباکو استعمال کرنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہرروزپندرہ برس سےکم عمرکےبارہ سوبچّے سگریٹ نوش بن جاتے ہیں۔

ہمیں یہ یاد رکھناچاہیے کہ انسانوں کے لیے تمباکو کسی بھی وجہ سے کوئی ضروری شئے نہیں ہے ۔اس کی کوئی غذائی اہمیت ہے اور نہ ہی یہ اپنے استعمال کرنے والے کو کوئی صحت بخش فواید فراہم کرتا ہے۔یہ ان کے اضطراب ،دباو،غربت اور غذائیت کی کمی میں اضافہ کرکے،صرف اور صرف ان کے مسائل اور مشکلات بڑھاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ملک کی معیشت اور ماحول کو تباہ کرتا ہے۔

اس بھیانک پس منظر میں حکومت کا یہ دعوی کہ تمباکو کی صنعت سے اسے محاصل حاصل ہوتے ہیں،بدنامی کمانے کے علاوہ کچھ نہیں۔یہ دراصل ایک طرح کا خون بہا ہےجو ہر برس تمباکو نوشی سے ہلاک ہونے والے ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد ،ملک کو اس صنعت سے حاصل ہونےوالے محاصل سے کئی گنا زیادہ پہنچنے والے نقصان ، اس کی وجہ سے بڑھنے والی غربت اور ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے بدلے میں ملتا ہے۔

اگرہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان ہی ہماری ترقّی کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو وزیر ِاعظم کو ملک میں تمباکو نوشی کا رجحان کم کرنےکےلیے فوری اقدامات اٹھانے چاہییں۔اس ضمن میں بچّوں کو متبادل گاہک بننے سے بچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اگر یہ کام موثر انداز میں کرلیا جائے تو اگلے دس تاپندرہ برس میں ملک میں کوئی بھی تمباکو کا دھواں اڑانے والا نہیں ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو پرمحاصل لگانا یا بڑھانا تمباکو نوشی کے رجحان پر قابو پانے میں سب سے زیادہ موثرعمل ثابت ہواہے۔دیگر ترقّی پذیر ممالک کے برعکس پاکستان میں اب بھی دنیا بھر کے مقابلے میں تمباکو کی مصنوعات سب سےسستی ہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کا استعمال کم کرنے کے لیے حکومت کو ہر برس اس پر محاصل میں کم از کم تیس فی صد کا اضافہ کرنا چاہیے۔ایک اور مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ سگریٹ کے نرخ میں تیس فی صد کا اضافہ اس کے استعمال میں تینتیس فی صد تک کمی لاسکتا ہےجس کے نتیجے میں ایک برس میں اڑتالیس ارب روپے کی بچت ہوسکے گی۔

یہ ہمارے لیے فیصلے کی گھڑی ہے کہ کیاہم اپنے لوگوں کو اسی طرح مرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،اپنی معیشت پر ہر برس چھ سو چالیس ارب روپےکا علاج معالجے کا بوجھ ڈالتے رہنا چاہتے ہیں، اپنے بچّوں کو اسی طرح یتیم اور بے آسرا ہوتے اور ان کا مستقبل تاریک ہوتے رہنے دیں گےاورکیا ملک کی پیداواری صلاحیت اسی طرح تباہ ہونے دیں گے؟آج ہمیںٹھنڈے دل سے سود وزیاں کا حساب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان پر تمباکو نوشی کابوجھ

پاکستان نےتین نومبر2014کوفریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (تمباکو پر کنڑول کے فریم ورک کنونشن) کی توثیق کی تھی۔

تمباکو کا استعمال

19.1فی صد بالغان( عمر +15 ) کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں )31.8فی صد مرد، 5.8فی صدعورتیں)۔

12.4 فی صد بالغان تمباکو نوشی کرتے ہیں۔

7.7 ٪ فی صد بغیر دھویں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔

◦ 3 ٪فی صدواٹرپائپ استعمال کرتے ہیں (حُقّہ یا شیشہ)۔

نوجوانوں میں (عمر 13–۔15)

10 ٪فی صدتمباکو کی مصنوعات استعمال کرتےہیں (13.3٪فی صد لڑکے۔ 6.6٪فی صدلڑکیاں)

7.2 فی صدتمباکونوشی کرتے ہیں اور5.3٪فی صد بغیر دھویں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔

نوجوانوں میں جس نے کبھی سگریٹ پی لیا ہو،اُن میںسے40٪فی صدکے قریب نے 10سال سے کم عمر میں پہلا سگریٹ پینے کی کوشش کی ہوتی ہے۔

عام لوگوں کو سگریٹ نوشی سے خطرات

عام لوگوں کے لیےسگریٹ کے دھویں سے بچنے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

72.5 ٪فی صدبالغان(16.8ملین لوگ) کو جو بند جگہوں میں کام کرتے ہیں تمباکو کے دھویںسے خطرات لاحق ہیں۔

86فی صدبالغان (49.2ملین افراد) ریسٹورانٹس میں سگریٹ کے دھویں کا سامنا کرتے ہیں اور76.2فی صدکو عوامی ٹرانسپورٹ میں سگریٹ کے دھویں سے خطرات لاحق ہیں۔

37.8 ٪فی صدنوجوان(عمر 13–تا15 برس)کو عوامی مقامات پر سگریٹ کے دھویں سے خطرات لاحق ہیںاور 21٪فی صدنوجوان اپنے گھروں میں غیر فعال سگریٹ نوشی کا سامنا کرتے ہیں۔

صحت پر اثرات

تمباکو کا استعمال مہلک ہے۔ تمباکو نوشی عادی افراد میں سے کم از کم نصف کو موت کےمنہ میں دھکیل دیتی ہے۔

پاکستان میں ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد ہر برس تمباکو سے متعلق امراض کے سبب انتقال کرجاتے ہیںجو کُل اموات کا نو فی صد ٪ہے۔

2010 میں،غیر متعدّی بیماریوں،جن میں سرطان ، عملِ تنفس کی شدیدبیماریاں، اور کارڈیوویسکولر بیماریاںشامل ہیں، سے ہونے والی اموات کی شرح میں تمباکو کا استعمال سرفہرست تھا۔

معاشرے پر بوجھ

تمباکو معاشرے پر بہت ذیادہ مالی بوجھ ڈال دیتا ہے۔

تمباکو سے پھیلنے والی بیماریوں سے صحت کی عوامی سہولتوںاور حکومت پر بہت بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ترقّی پذیر اور زیادہ گنجان آباد ممالک میں بہت زیادہ معاشی مواقعے ضایع ہوجاتے ہیں، کیوں کہ تمباکو سےمتعلق اموات عمر کے فائدہ مند سالوں میں ہوتی ہیں(عمر30–تا69برس)۔

پاکستان میں ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسط قومی آمدن کا3.7 ٪فی صددس سستے ترین سیگریٹ کی خریداری پرصرف کردیتا ہے۔