• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

وزیر اعلیٰ محمود خان کچھ وزراء کی کارکردگی سے نالاں

اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، معصوم بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی شہادتوں اور مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کئے جانے کے خلاف یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی شہر شہر ریلیاں نکالی گئیں اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کئے گئے مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی وتاجر تنظیموں کی طرف سے بھی ریلیاں نکالی گئیں پشاو رمیں سب سے بڑی ریلی جی ٹی روڈ پر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں نکالی گئی جس میں وسطی اضلاع اور پشاور سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ 

حکمران جماعت کے سینئر رہنما محمدعاطف خان سمیت خیبر پختونخوا کے 3 بے محکمہ وزیروں کو محکمے دے دیئے گئے جب کہ ایک مشیر اور 2 معاونین کے محکموں میں رد و بدل کیا گیا ہےکابینہ میں شامل نئے وزراء میں فضل شکور کو قانون و پارلیمانی امور، عاطف خان کو خوراک اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جبکہ شکیل احمد کو پبلک ہیلتھ اینڈ انجنیئرنگ کے محکمے دیئے گئےوزیراعلی کے مشیر خلیق الرحمان خٹک کو خوراک کی جگہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، معاون خصوصی تاج محمد ترند سے جیل خانہ جات کا محکمہ لیتے ہوئے انہیں انرجی اینڈ پاور جبکہ شفیع اللہ سے اینٹی کرپشن کا محکمہ واپس لیتے ہوئے انہیں جیل خانہ جات کا محکمہ حوالہ کردیا گیا ہے۔ 

دوسری جانب تادم تحریر ایک اور بے محکمہ صوبائی وزیر فیصل امین گنڈاپور کو کوئی محکمہ دینے کا تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا تحریک انصاف کے سرگرم فعال متحرک و سینئر رہنما محمد عاطف خان ایک بار پھر صوبائی کابینہ کاحصہ بننے کے بعد ایک متحرک وزیر کی حیثیت سے پاکستان تحریک انصاف کو منظم و مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے واضح رہے جنوری 2020 میںوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور سینیئر صوبائی وزیر عاطف خان کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے جس کے بعد 26جنوری 2020 کو خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر محمد عاطف خان ٗاور انکے دو انتہائی قابل اعتماد ساتھیوں شہرام ترکئی اور شکیل خان کو وزارتوں سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ 

محمد عاطف خان نے اپنے دور وزارت میں انتہائی فعال کردار ادا کیا خیبرپختونخوا میں سیاحت کو فروغ دیکر صوبے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پرگامزن کیا جاسکتا ہے اور اسی جذبے کے ساتھ خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات کو زیادہ سے زیادہ پرکشش بنانے غیر ملکی سیاحوں کی توجہ پاکستان کے سیاحتی مقامات کی طرف مبذول کروانے سیاحوں کو ہر قسم کی سہولتوں اور سیکورٹی کی فراہمی کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی گئی سیاحت کے شعبے کیلئے اربوں روپے کا خطیر بجٹ مختص کیاگیا اور یہی خیال کیاجارہا ہے کہ وہ انفارمیشن وسائنس ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ 

تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں دوبارہ سیاحت کھیل وثقافت ٗامور نوجوانان اور محکمہ آثار قدیمہ کا محکمہ دینا چاہیے تھا کیونکہ انکی کارکردگی سب پر عیاں ہیں اور انہوں نے جو اقدامات اٹھائے تھے وہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بناکر سیاحت کے شعبہ کو وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق آگے لے جاسکتے تھے تاہم وزیر اعلی محمود خان ٹیم کے کپتان ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کہ کس کھلاڑی کو کس جگہ پر کھلوانا ہے او ر ان سے کس طرح کام لینا ہے صوبے میں تحریک انصاف کے رہنمائوں ٗکارکنوں اور سنجیدہ طبقہ کی طرف سے محمد عاطف خان کی صوبائی حکومت میں واپسی کی پذیرائی کی جارہی ہے اور اسے بروقت ایک بہترین فیصلہ قرار دیا جارہا ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی محمود خا ن کو زیادہ محکمے اپنے پاس نہیں رکھنے چاہیں کیونکہ وہ صوبے میں ٹیم کے لیڈر ہیں اور لیڈر ٹیم کی قیادت کرتا ہے اور اپنے کھلاڑیوں سے کا م لیتا ہے دوسری طرف صوبائی حکومت میں چند وزراء ایسے بھی ہیں جو تحریک انصاف کی پچھلی حکومت میں بھی پرویز خٹک کی ٹیم میں شامل تھے اس وقت بھی ان وزراء کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر تھی انکی وزراتوں کو آٹھ سال ہونے کو ہے لیکن انکی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعلی محمود خان چند وزراء کی کارکردگی سے نالاں ہیں اور انکو انہوں نے خود وزراتوں سے استعفے دینے کا کہا تھا لیکن کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی ناقص کارکردگی والے وزراء کو نہیں ہٹایا جاسکا بعض وزراء ایسے ہیں اگر انکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انکی کارکردگی وزراتوں کے مزے لینے کے سوا کچھ نہیں کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں وزراء کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے تاہم اگر موجودہ صوبائی کابینہ پر نظر دوڑائی جائے تو حقیقی معنوں میں تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے وزراء کا چیک اینڈ بیلنس نظام کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید