• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میری پہلی ملاقات غالباً 1985کے اوائل میں اس وقت ہوئی جب انہوں نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز میں ’’کولڈ ٹیسٹ‘‘ کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا تاہم اس وقت کی حکومت بین الاقوامی دبائو کے پیش نظر پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان نہ کر سکی۔ یہ ڈاکٹر خان ہی تھے جنہوں نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان کرکے پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی جس کے بعد میں نے راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے پر ڈاکٹر خان کے اعزاز میں ایک پُروقار تقریب کا اہتمام کیا جس میں انہیں گولڈ میڈل دیا گیا۔ ڈاکٹر خان نے 10سال کے بعد پہلی بار کسی عوامی تقریب میں شرکت کی تھی۔ ان سے 36سال پہلے جو تعلق قائم ہوا وہ آج بھی قائم ہے۔ جب پرویز مشرف کے دور حکومت میں سینٹری فیوج سسٹم ایران اور لیبیا کو برآمد کرنے کا الزام لگا تو ڈاکٹر خان کو ’’قربانی کا بکرا‘‘ بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’ناکردہ‘‘ گناہوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو امریکی ’’ناراضی‘‘ کا شکار ہونے سے بچا لیا۔ پرویز مشرف نے ڈاکٹر خان سے دشمنی میں ان سے وہ تمام اعزازات چھین لئے جو انہیں پاکستان کو ایٹمی قو ت بنانے کے صلے میں دیے گئے تھے۔

28مئی 1998پاکستان کی عسکری تاریخ کا اہم دن ہے، جب وزیراعظم محمد نواز شریف نے نتائج کی پروا کئے بغیر امریکی صدر بل کلنٹن کی پانچ ٹیلی فون کالز اور 5ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور بھارت کے 5ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6دھماکے کر کے پاکستان کو ’’نیوکلیئر پاور‘‘ کلب کا رکن بنا دیا۔ 23برس قبل جب میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو اُس وقت اس معاملہ پر ان کی کابینہ منقسم تھی، کچھ وزراء نے انہیں ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں لگائی جانے والی پابندیوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی لیکن نواز شریف نے جراتمندانہ فیصلہ کیا۔ مشاہد حسین سید نواز شریف کے ہمراہ قازقستان کے دورے پر تھے، جب وہاں نواز شریف کو بھارت کے ایٹمی دھماکے کرنے کی اطلاع موصول ہوئی تو مشاہد حسین سید نے انہیں ’’کڑا کے‘‘ نکال دینے کا مشورہ دیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے 27مئی 1998کو ہی 28مئی 1998کو کئے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے پیش نظر حفاظتی اقدام کے طور پاک بھارت سرحد پر ایٹمی وار ہیڈ نصب کر دیے تھے اور بھارت کو پیغام بھجوا دیا تھاکہ ’’اگر ایٹمی دھماکوں کے وقت اسرائیل نے بھارت کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف ’’شرارت‘‘ کے لئے استعمال کیا تو پاکستان اسے ایٹمی جنگ تصور کرے گا، جس میں بھارت کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے‘‘۔ پاکستان نے 28مئی 1998کی سہ پہر3بج کر 42منٹ پر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کو جواب دے دیا۔ ساری دنیا جانتی ہے یورینیم کی95فیصد افزودگی کا سہرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 70کے عشرے میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا جو خواب دیکھا تھا اسے عملی شکل دینے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر ڈاکٹر خان 1976میں پاکستان آگئے اور چند برسوں کے دوران پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو اپنی زندگی میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنتا نہ دیکھ سکے اگرچہ ضیاء الحق کے دور میں پاکستان ایٹمی قوت بن گیا لیکن ایٹمی دھماکہ کرنے کا اعزاز نواز شریف کو حاصل ہوا کسی حکمران کو ’’دھماکہ‘‘ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پچھلے 16,17سال سے ڈاکٹر خان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے انہوں نے اپنی پوری جوانی پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنانے کیلئے وقف کر دی وہ اپنی زندگی کی 85بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے کہیں جا سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے کسی کو ملنے کی اجازت ہے اُنہوں نے اپنی اس غیرقانونی حراست کے خلاف مختلف اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے لیکن انہیں تاحال کہیں سے انصاف نہ ملا۔این ای ڈی یونیورسٹی کراچی ڈاکٹر خان کو ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی اعزازی ڈگری دینا چاہتی تھی لیکن نواز شریف حکومت نے انہیں ڈگری لینے کیلئے کراچی جانے سے روک دیا۔ نواز شریف کے دو ادوار میں ڈاکٹر خان ایٹمی پروگرام سے وابستہ رہے لیکن ان کی نواز شریف سے نہیں بنی تاہم ایٹمی پروگرام کے حوالے سے نواز شریف ڈاکٹر خان کی خدمات کے معترف ہیں۔ ڈاکٹر خان پرویز مشرف کے ستائے ہوئے ہیں، سخت جان سائنسدان ہیں جو 47سال قبل ہالینڈ میں عیش و عشرت کی زندگی ترک کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا مشن لے کر اسلام آباد آگئے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ ایٹم بم بنانے کا کریڈٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں شریک کچھ لوگوں نے ڈاکٹر خان کو ایٹمی دھماکے کی جگہ سے دور رکھنے کی کوشش کی ، دھماکے سے قبل چاغی جانے کیلئے انہیں ہوائی جہاز فراہم کرنے سے انکار کر دیا لیکن پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اصل ’’محافظوں‘‘ نے انہیں ایٹمی دھماکے کے وقت چاغی کے پہاڑ تک پہنچا دیا۔ڈاکٹر خان کی داستانِ حیات ’’دیو مالائی‘‘ شخصیت جیسی ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کیلئے اپنی ساری زندگی ایک ’’قیدی‘‘ کی طرح گزار دی۔ پاکستانی قوم نے ڈاکٹر خان کی قدر نہیں کی اسلام آباد ایکسپریس وے پر نصب چاغی پہاڑ کے ماڈل کو سڑک کی کشادگی کی آڑ میں ٹھکانے لگا دیا گیا۔ ڈاکٹر خان کی متاع حیات وہ میڈل ہیں جو ان کے ڈرائنگ روم میں سجے ہوئے ہیں یا وہ کتب جو ان کے کارناموں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ڈاکٹر خان کے دوست مارگلہ کی پہاڑیوں میں ڈیرے ڈالے بند رہیں جو ہر روز ڈاکٹر اے کیو خان کو بلا روک ٹوک قطار اندر سلام کرنے آجاتے ہیں ۔ ’’یومِ تکبیر‘‘ پربھی انہوں نےپہاڑوں سے باجماعت اتر کر ڈاکٹر خان کو سلامی پیش کی ڈاکٹر خان نے بھی روزانہ 207ہل سائیڈ روڈ اسلام آباد کے ’’قید خانہ ‘‘ میں ان کا سواگت کرتے ہیں۔

تازہ ترین