• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈہرکی ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار


سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کے قریب گزشتہ روز پیش آنے والے ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی۔

ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثہ اپ ٹریک کی دائیں پٹری کا ویلڈنگ جوائنٹ ٹوٹنے کے سبب پیش آیا۔

اپ ٹریک کی دائیں پٹری کا جوڑ ویلڈنگ سے جڑا ہوا تھا، جو ٹوٹا ہوا پایا گیا۔

پٹری کا جوڑ ٹوٹنے سے ملت ایکپریس کی 12 مسافر کوچز ڈاؤن ٹریک پر گر گئیں۔

ڈاؤن ٹریک پر کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ملت ایکسپریس کی کوچز سے ٹکرا گئی۔

حادثے کے نتیجے میں سر سید ایکسپریس کا انجن اور 4 کوچز پٹری سے اتر گئیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملت ایکسپریس کا انجن اور 6 مسافر کوچز ٹریک پر ہی رہیں، جبکہ سرسید ایکسپریس کی 12 مسافر کوچز ٹریک پر ہی رہیں۔

حادثے کی شکار ٹرینوں کے انجنوں کے بلیک باکس کا ڈیٹا نکالا جا رہا ہے، بلیک باکس سے حاصل ہونے والی معلومات کو وفاقی انسپکٹرز آف ریلویز کی تحقیقات میں شامل کیا جائے گا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرسید ایکسپریس راولپنڈی سے کراچی کے لیے جا رہی تھی، جبکہ ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ ضلع گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کے قریب گزشتہ روز پیش آنے والے ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 62 ہو چکی ہے، جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید