• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انیلہ افضال

ایک دہائی یا اس سے کچھ قبل پاکستانی اسکولوں میں سمارٹ ایجوکیشن سسٹم متعارف کروایا گیا۔ طلبہ اور والدین نے اس نئے طریقہ تدریس کا خیر مقدم کیا۔ کیونکہ سنی ہوئی چیز کی نسبت دیکھی ہوئی چیز زیادہ بہتر طور پر یاد رہ جاتی ہے۔ لیکن تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مستقبل قریب میں یہ سسٹم دنیا کی ضرورت بن جائے گا۔ مارچ 2020 ء نے گویا دنیا کا پہیہ جام کر دیا۔ جو جہاں تھا وہیں تھم گیا۔ زندگی نے اپنی رفتار اتنی دھیمی کر لی گویا رک سی گئی ہو۔ 

دنیا نے عالمگیر لاک ڈاؤن سنا، دیکھا اور جھیلا۔ اسکول ، مدارس،کالج اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئیں۔ ایک عجیب ہو کا سا عالم ساری دنیا پر چھایا ہوا تھا۔ تبھی کچھ اہل خرد نے جھرجھری سی لی۔ بیشترا سکولوں میں نیا تعلیمی سال شروع ہونے جا رہا تھاکہ ا سکول بند کر دئیے گئے ۔ اقوام ِ متحدہ کے مطابق اس کورونائی عہد نے 1.6 بلین بچوں کوا سکول سے باہر کر دیا۔ ماہرین تعلیم، معیشت دانوں اور دانشوروں نے سر جوڑ لیے۔ بچوں کا وقت ضائع ہو رہا تھا۔ مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، وکلاء سائنس دان، بزنس مین، رائٹرز مدبر یہ سب لوگ تو اپنے وقت سے پیچھے رہ جائیں گے۔

حصولِ تعلیم کے لئے تمام ممالک اپنی استعداد کے لحاظ سے اقدامات کر رہے تھے، پھر ہوا یوں کہ جہاں عالمی وباء نے دنیا میں مختلف شعبہ جات کی اشکال بدل دی، وہیں شعبہ ِ تعلیم کو نیا ڈھنگ بخشااور آن لائن کلاسز کا آئیڈیا سامنے آیا۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ آن لائن تعلیم کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ 

پہلا خط و کتابت اور فاصلاتی تعلیمی پروگرام 1800ء کے وسط میں لندن یونیورسٹی نے شروع کیے تھے۔. تعلیم کا یہ ماڈل پوسٹل سروس پر منحصر تھا۔ یہ تدریسی نظام 1873ء میں بوسٹن ، میساچوسٹس میں ، “سوسائٹی ٹو ہوم اسٹڈیز کی حوصلہ افزائی” کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔.اس کے بعد سے آن لائن تدریسی طرز عمل میں اضافہ ہوا ہے۔. تکنیکی ترقیوں نے فاصلاتی تعلیم کے نصاب کی رفتار اور اس تک رسائی کو بہتر بنانے میں بھی کافی مدد کی ۔

موجودہ دور آن لائن تدریس کا ترقی یافتہ دور ہے۔ وباء کے پیش نظر اقوام عالم نے تیزی سے اس طریقہ تدریس کو اپنایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتےترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر اقوام کو بھی اس طریقے کو اپنانا پڑا ۔ مارچ 2020ء میں کورونا کی شدت کو بھانپتے ہوئے پاکستان کے تمام ا سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کو بند کرنے کے احکامات کے ساتھ آن لائن تدریسی عمل شروع کیا گیا۔

غیر سر کاری بڑے اسکولوں نے خوش اسلوبی سے اس انداز کو اپنایا، کیونکہ وہاں کے بچوں کے لیے انٹر نیٹ، اسمارٹ فون، ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ نئی چیزیں نہیں تھیں۔ اسی لیے تکنیکی اعتبار سے یہ بچے آگے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں کے حالات کسی کی آنکھوں سے اوجھل نہیں، نہ تو ان بچوں کی انٹر نیٹ تک رسائی ہے اور نہ ہی یہ بچے مہنگے اسمارٹ فون افورڈ کر سکتے ہیں۔ 

اسی لیےسرکاری اور نجی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی تکنیکی طور پر شعوری وسعت میں بہت فرق ہے۔ کالجوں کا ذکر کریں تو سرکاری سطح پر تو دعوؤں کے سوا کچھ نہ ہوا۔ البتہ نجی کالجوں نے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ رہی بات یونیورسٹی کی تو یونیورسٹیوں میں زیادہ تر سمیسٹر سسٹم ہوتا ہے، اس اعتبار سے وہاں زیادہ پیچیدگیاں دیکھنے میں آئیں۔ 

آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے لئے اساتذہ کی تربیت ہی نہیں کی گئی، پھر طلبہ اس نظام کے عادی نہیںتھے۔ پاکستان کے بہت سےاضلاع ایسےبھی ہیں، جہاں انٹرنیٹ تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں طبقاتی نظام بھی آن لائن ِ تعلیم کےحصول میں آڑے آرہا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے تدریسی عمل مکمل طور پربہتر ثابت نہیں ہوا ہے، ۔وائس چانسلرز کمیٹی کے سربراہ محمد علی شاہ کے مطابق، آن لائن کلاسز اور امتحانات میں مسائل ضرور آ رہے ہیں، لیکن کوشش ہے کہ اس عمل سے طلبا متاثر نہ ہوں۔

حکومت کو پسماندہ علاقوں کے طلباء کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی پالیسی ترتیب دینا ہو گی۔ اساتذہ کو بھی مؤثر انداز میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور اپنی ضروریات کے مطابق ماحول کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ان کی باقاعدہ تربیت کی جانی چاہیے، اگرچہ کہ گزشتہ سوا سال سے وہ اپنی مدد آپ کے تحت کافی کچھ سیکھ بھی گئے ہیں، مگر مشکلات پھر بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ 

کچھ طلباء ایسے بھی ہیں جو اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تک رسائی نہیں رکھتے یا پھر جنہیں سوفٹ ویئر یا ہارڈ ویئر اپ گریڈیشن درکار ہے، پھر ہارڈ ویئر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی دستیابی (وہ بھی لاک ڈاؤن کے دوران) مشکل ہوتی ہے، اگر یونیورسٹی کی جانب سے مستحق طلبہ کو الاؤنس اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے تو اس مسئلے کو باآسانی حل کیا جاسکتا ہے۔

آن لائن تدریسی عمل نہ صرف موجودہ دور کی ضرورت ہے بلکہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ طلباء کے پاس ریکارڈڈلیکچرز ہوتے ہیں جن کو بار بارسنا جاسکتا ہے،تاہم انٹرنیٹ کی رسائی اور ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کی بنا پر کچھ طلبا سیکھنے کی اس جدوجہد میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ فرق مختلف ممالک میں آمدنی کی لحاظ سے بٹے ہوئے طبقات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آن لائن تعلیم نے عالمی سطح پر تعلیم کے انداز کو تبدیل کردیا ہے۔ اساتذہ چیٹ گروپس ، ویڈیو میٹنگز ، اور دستاویزات کی شئیرنگ کے ذریعے اپنے طلباء تک زیادہ موثر انداز میں فائدہ پہنچا رہے ہیں، خاص طور پر کوویڈ 19 جیسے وبائی امراض کے دوران۔ طلبا کو اپنے اساتذہ سے بات چیت کرنا بھی آسان لگتا ہے۔

ریاست کو اپنے مستقبل کے لیے طریقہ تدریس کو واضع کرنا ہوگا کہ طلباکو روایتی کلاس روم میں واپس لانا بہتر ہے یا آن لائن سسٹم میں ممکنہ بہتری لاکر اسے مستقل بنیادوں پر رائج کیا جانا چاہئے۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔