• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومتی تخمینے کا گھریلو بجٹ سے کوئی تعلق نہیں، معاشی تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ حکومتی بجٹ کا ایک عام آدمی کے گھریلو بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے عام پاکستانی اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی قیمتوں میں کمی کی توقع کرتا ہے مگر اس کا بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

ہماری ٹیکس کی پالیسی غیرمنصفانہ ہے، ٹیکس کا موجودہ نظام ٹیکس دہندہ پر بوجھل ہے، ٹیکس اکٹھا کرنے والا ادارہ نااہل ہے۔ وہ جیوکے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ 

پروگرام میں معاشی تجزیہ کار خرم حسین،معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدر اور برسلز سے چوہدری پرویز اقبال شریک تھے۔خرم حسین نے کہا کہ معیشت میں پیدا ہونے والی رفتار ایک حقیقت ہے، موجودہ ٹیکس پلان کے ساتھ اتنے ریونیوز اکٹھے نہیں ہوسکتے، پی ٹی آئی حکومت میں ہر سال ڈیڑھ سال بعد نئی حکومت شروع ہوتی ہے۔ 

مہتاب حیدرنے کہا کہ حکومت بجٹ میں اعداد و شمار تو دیدیتی ہے مگر اس پر عملدرآمد اصل مسئلہ ہوتا ہے، وزیراعظم چار پانچ مہینے میں ٹیم بدل دیتے ہیں وہ کیسے اصلاحات کرسکیں گے۔

برسلز سے چوہدری پرویز اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بجٹ کا 16فیصد دفاعی بجٹ پر لگ رہا ہے، دنیا کے دیگر ممالک اپنے دفاعی بجٹ بڑھاتے جارہے ہیں، یہاں فوج پر تنقید زیادہ کی جاتی ہے ان کا کام نہیں دیکھا جاتا، پاک فوج جو کام کررہی ہے اس کا بجٹ کم ہونے کے بجائے بڑھنا چاہئے، پاکستان کا دفاعی بجٹ دنیا کے حساب سے بہت کم ہے۔

پاکستان کو ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے ہمیں دفاع پر زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ بجٹ سیاست اور معیشت کا مجموعہ ہوتا ہے، حکومتی بجٹ کا ایک عام آدمی کے گھریلو بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے عام پاکستانی سوچتا ہے آٹا، چینی، بجلی، گھی، ادویات کی قیمتیں کم ہوں گی یا نہیں مگر اس کا بجٹ میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے، تین سال میں آٹے ، چینی اور بجلی کی قیمتیں 100فیصد بڑھ گئی ہیں، تین کروڑ خاندان محدود آمدنی میں خوراک، بجلی کا بل اور بچوں کی فیسیں کیسے دیں گے۔ 

فرخ سلیم نے بتایا کہ فرنچ کمپنی کے سروے کے مطابق 94فیصد پاکستانیوں کو جی ڈی پی، 91فیصد لوگوں کو کرنٹ اکاؤنٹ ، 97فیصدلوگوں کو بجٹ خسارہ، 98فیصد لوگوں کو فی کس آمدنی کا نہیں پتا ہے، سروے کے مطابق 77فیصد پاکستانی کہہ رہے ہیں ہماری سمت ٹھیک نہیں ہے۔ 

فرخ سلیم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منشور میں بلاواسطہ ٹیکسز کم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، پچھلے گیارہ مہینے میں بلاواسطہ ٹیکسز 66فیصد پر پہنچ گئے ہیں، ہماری ٹیکس کی پالیسی غیرمنصفانہ ہے، بلاواسطہ ٹیکس میں آمدنی گھٹنے کے ساتھ ٹیکس بڑھتا جاتا ہے، ٹیکس اکٹھا کرنے والا ادارہ نااہل ہے، ٹیکس کا موجودہ نظام ٹیکس دہندہ پر بوجھل ہے، میں خود اپنا ٹیکس گوشوارہ نہیں بھرسکتا اس کیلئے ٹیکس ایکسپرٹ کو پیسے دیتا ہوں۔

 ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور انڈیا میں جو بجلی کی قیمتیں اور ٹیکسز ہیں وہ پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کو دیئے جائیں تو دنیا کا مقابلہ کرسکتا ہے، اس ریاست پر بوجھ خود حکومت ہے۔

پبلک سیکٹرا داروں کا سالانہ بوجھ 1800 ارب روپے بنتا ہے، ایک ہزار ارب روپے کا بجلی کے شعبہ میں نقصان ہوتا ہے، اس ملک میں ڈھائی ارب ڈالر کی گیس چوری ہوجاتی ہے، حکومت اس میں اصلاحات لے آئے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔معاشی تجزیہ کار خرم حسین نے کہا کہ معیشت میں پیدا ہونے والی رفتار ایک حقیقت ہے۔

جی ڈی پی گروتھ کتنی ہے یہ عام آدمی کیلئے فضول بحث ہے، بجٹ معیشت کی ترقی کو مزید بڑھانے کے خیال کے ساتھ بنایا گیا ہے، بجٹ میں اسکیموں کا اعلان نہیں اس کیلئے ذرائع اکٹھے کرنا مشکل ہوتا ہے۔

حکومت موجودہ ٹیکس پلان کے ساتھ اتنے ریونیوز اکٹھے نہیں کرسکے گی۔ خرم حسین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں ہر سال ڈیڑھ سال بعد نئی حکومت شروع ہوتی ہے، اس حکومت میں ہر نیا وزیرخزانہ آکر کہتا ہے پچھلا وزیربیڑہ غرق کرگیا مجھے ٹھیک کرنا پڑرہا ہے۔

شوکت ترین کہتے ہیں آئی ایم ایف نے زبردستی شرح سود بڑھوائی تھی، گورنر اسٹیٹ بینک نے کبھی نہیں بتایا کہ ہمیں اس کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ خرم حسین نے کہا کہ ہر حکومت دباؤ میں آنے کے بعد صنعت کاروں کو اس امید پر پیسے دینا شروع کرتی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں گے جس سے روزگار اور آمدنی بڑھے گی، پی ٹی آئی حکومت کے بجٹ کا مقصد بھی اپنے اوپر سے دباؤ ہٹانا ہے۔

معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدرنے کہا کہ حکومت بجٹ میں اعداد و شمار تو دیدیتی ہے مگر اس پر عملدرآمد اصل مسئلہ ہوتا ہے، پی ٹی آئی حکومت آئی تو گندم کی بمپر فصل ہونے کا دعویٰ کیا بعد میں پتا چلا وہ اندازے ٹھیک نہیں تھے، آج تین سال ہوگئے آٹے کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں ہیں، شوگر پر ریٹیل پرائس پر جی ایس ٹی دینا پڑے گا اس کا مطلب ہے چینی کی قیمت تین سے چار روپے فی کلو بڑھے گی۔

جی ڈی پی گروتھ میں بہتری آئی ہے لیکن مہنگائی بھی انتہا پر پہنچ گئی ہے،پاکستان جیسا زرعی ملک اجناس درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم چار پانچ مہینے میں ٹیم بدل دیتے ہیں وہ کیسے اصلاحات کرسکیں گے، عمران خان اپوزیشن میں کہتے تھے میرے پاس ٹیم ہے وہ کہاں گئی۔

اہم خبریں سے مزید