• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مظہر حسین شیخ

کسی پوشیدہ بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ مثل بولتے ہیں یعنی ظاہراً تو کچھ نہ ہو لیکن باطن میں کوئی نہ کوئی عیب یا خرابی ضرور ہو۔ کہتے ہیں کہ کسی ملک کا سوداگر تجارت کی غرض سے دوسرے شہر گیا۔ جاتے وقت لوگوں نے اس کو آگاہ کر دیا تھا کہ جہاں جا رہے ہو وہاں کے لوگ انتہائی جھگڑالو اور عیار فطرت کے ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سوداگر نے اس شہر میں پہنچ کر ایک سرائے میں قیام کیا اور چند روز کے لئے ایک مددگار بھی رکھ لیا۔ اگلے دن ایک کانے آدمی نے سوداگر سے آ کر کہا کہ، ’’ غالباً آپ کے والد کا انتقال ہو گیا ہے شاید اسی وجہ سے آپ خود یہاں تشریف لائے ہیں‘‘؟ ’

’وہ بیچارے جب بھی یہاں تشریف لاتے تو اسی سرائے میں قیام کرتے تھے‘‘۔ سوداگر اس کانے شخص کی باتوں سے سمجھ گیا کہ یہ کوئی ٹھگ ہے اوراسے ٹھگنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس لئے وہ ہوشیار ہو گیا۔ سوداگر کو خاموش دیکھ کر کانے نے کہا۔’’ آپ کے والد آنکھوں کی تجارت کرتے تھے۔ ان کے پاس میں نے اپنی ایک آنکھ گروی رکھ کر کچھ روپے لئے تھے، اب آپ وہ روپے لے کر میری آنکھ واپس کر دیجئے‘‘۔ سوداگر یہ سن کر بہت گھبرایا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس بات کا کیا جواب دے، اس نے کانے کو اگلے روز آنے کا کہہ کر ٹال دیا۔ سوداگر ساری رات سوچتا رہا کہ کانے کو اس کی بات کا کیا جواب دے۔ 

اگلے روز جب وہ کانا شخص آیا تو سوداگر اس کی بات کا جواب دینے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔ اس نے کانے سے کہا کہ ’’میرے پاس والد مرحوم کی گروی رکھی ہوئی سیکڑوں آنکھیں ہیں‘‘۔ ’’ میں رات بھر تمہاری آنکھ تلاش کرتا رہا لیکن نہ مل سکی۔ اب صرف یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ تم دوسری آنکھ بھی مجھے دے دو تاکہ میں اس کے ساتھ ملا کر تمہاری آنکھ تلاش کرکے تمہیں دے سکوں‘‘۔’’ اس کے علاوہ مجھے یہ بھی خیال آیا کہ کہیں کسی دوسرے کی آنکھ تمہیں نہ دے دوں جو تمہارے لیے نہ صرف بے کار رہے بلکہ اس سے تمہیں نقصان بھی پہنچ جائے۔ 

کانے نے جب یہ سنا تو سمجھ گیا کہ یہاں دال گلنا مشکل ہے۔ وہ سوداگرسے جان چھڑا کر وہاں سے رفوچکر ہو گیا۔ سوداگر کے ساتھ اسی طرح کے کئی واقعات پیش آئے لیکن وہ اپنی ہوشیاری کی وجہ سے لوگوں کے شر سے محفوظ رہا۔ سوداگر جب اپنا کام ختم کرکے اس شہر سے واپس ہونے لگا تو اس نے اپنے ملازم کو تنخواہ دینا چاہی۔ ملازم نے کہا کہ’’ حضور، آپ نے ملازمت دیتے وقت کہا تھا کہ ’کچھ دیں گے‘، روپوں کا معاہدہ نہیں ہوا تھا اس لئے مجھے روپے نہیں بلکہ کچھ چاہئے‘‘۔ سوداگر ملازم کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا اور ایک ترکیب اس کے ذہن میں آ گئی۔ 

اس نے ملازم کو بازار بھیج کر ٹال دیا اور اس روز کی پکی ہوئی مسور کی دال ایک کوزے میں بھری۔ پھر تھوڑی سی کالی مرچیں ڈال کر کوزے کو الماری میں رکھ دیا۔ ملازم جب واپس آیا تو سوداگر نے اس سے کہا کہ ’’دیکھو تو الماری میں کیا رکھا ہے‘‘؟ اس نے جواب دیا’’حضور اس میں دال ہے‘‘۔ سوداگرنے پوچھا، ’’اور کیا ہے‘‘؟ ملازم بولا۔’’ دال میں کچھ کالا معلوم ہوتا ہے‘‘۔ سودا گر نے پھر پوچھا، ’’کالا، کیا کالا ہے‘‘؟ ملازم نے کہا، ’’کچھ ہے‘‘۔ سوداگر نے یہ جواب سن کر ملازم سے کہا ’’میں نے تم سے کچھ دینے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ یہی ’’کچھ‘‘ہے‘‘،’’ تم اس کو اٹھاؤ اور اپنے گھر کا راستہ لو‘‘۔ اسی وقت سے یہ مثل مشہور ہوگئی کہ’’ دال میں کچھ کالا ہے‘‘۔