• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صفیہ سلطانہ صدیقی

ربیعہ اور اس کی خالہ زاد بہن ہانیہ کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ہانیہ کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا، وہ سچے قصے اور مزے دار کہانیاں پڑھتی۔ اس کا معمول تھا کہ وہ روز صبح جاگنے کے بعد، ایک قرآنی آیت اور حدیث ضرور پڑھتی تھی۔ ایک روز ہانیہ نے ربیعہ کو بتا یا ’’میں نے آج پیاسے بادشاہ کی کہانی پڑھی ہے۔‘‘یہ کہتے ہوئے ہانیہ کی خوشی سے آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ربیعہ نے حیرت سے کہا ’’واہ بھئی؟ بادشاہ کیسے پیاسا رہ جائے گا۔ اس کے پاس تو دنیا جہاں کی چیزیں ہوتی ہیں یہ تو عجیب بات ہوگئی؟‘‘

پھر سنو ربیعہ! کسی ملک کا بادشاہ بہت مغرور تھا۔ اقتدار کے نشے میں اسے رعایا کی بالکل فکر نہیں تھی۔ ایک روز نہایت شان و شوکت سے ملازمین اور سپاہیوں کے لاؤ لشکر کو ساتھ لے کر شکار پر نکلا۔ جنگل میں اسے ایک ہرن نظر آیا ، اس نے اس کے پیچھے گھوڑا دوڑادیا۔ ہرن کا تعاقب کرتے ہوئے وہ بہت دور نکل آیا اور راستہ بھٹک کر اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ سارا دن وہ راستہ تلاش کرتا رہا لیکن نہ تو اسے اپنے محل کی طرف جانے کا راستہ ملا اور نہ اس کےلشکری۔ 

تیز دھوپ اور گرمی کی وجہ سے اسے پیاس لگنے لگی ۔ تھک ہار کر اس نے پانی تلاش کیا مگر اسے کہیں بھی پانی نہیں ملا۔ میلوں چلنے کے بعد اسے بہت دور ایک جھونپڑی نظر آئی ۔وہ سرپٹ گھوڑا دوڑا کرجھونپڑی تک پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ایک بزرگ بیٹھے عبادت میں مشغول تھے۔ کونے میں پانی کا گھڑا رکھا تھا بادشاہ خوشی سے بے قرار ہوگیا۔ اس نے بزرگ سے پوچھا، ’’پپ…پانی مل جائے گا ایک گلاس؟‘‘ ’ہاں مل جائے گا مگر ایک شرط پر‘‘ بزرگ نے جلال کے عالم میں کہا۔

’’مجھے ہر شرط منظور ہے پپ… پانی… دو! بادشاہ نے بے تابی سے کہا۔ اس سے مزید پیاس برداشت نہیں ہورہی تھی۔ ’’پہلے شرط سن لو۔پانی کے گلاس کے بدلے میں تمہاری پوری سلطنت لوں گا‘‘۔ بزرگ نے سختی سے کہا۔ ’’پوری سلطنت؟ ایک گلاس پانی کے بدلے‘‘؟ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا۔ بزرگ نے کرخت لہجے میں کہا، ’’ ہاں‘‘، ’’ منظور ہے تو ٹھیک ہے ورنہ یہاں سے چلے جائو اور مجھے عبادت کرنے دو‘‘۔پیاس کی شدت سے بادشاہ کو اپنا دم نکلتا محسوس ہورہا تھا، اس نے نڈھال ہوکر کہا کہ ’’ مجھے منظور ہے، اب مجھے پانی دے دیں‘‘۔ 

پانی پی کر بادشاہ کی جان میں جان آئی تو وہ بزرگ سے کہنے لگا ’’وعدے کے مطابق اب میں بادشاہ نہیں رہا، آپ میری جگہ بادشاہ ہوگئے ہیں‘‘۔آپ میرے ساتھ محل چلیں اوروہاں سے مجھے رخصتی کی اجازت دیں‘‘ ۔ بادشاہ کی بات سن کر بزرگ نے ہنستے ہوئے کہا’’ جس سلطنت کی قیمت ایک گلاس پانی ہو، ایسی حقیر بادشاہت لے کر میں کیا کروں گا‘‘؟ بادشاہ یہ سن کر شرمندہ ہوگیا۔ اسے اپنی اصلیت کا علم ہوگیا اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس کی سلطنت کی قیمت ایک گلاس پانی کے برابر بھی نہیں ہے۔ کہانی ختم کرکے ہانیہ نے ربیعہ سے کہا کہ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا اتنی بے وقعت اور اس کا مال واسباب حقیر ترین ہے ۔اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرو، اللہ کے نزدیک وہی بیش قیمت شے ہے۔