• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ


مفتی خالد محمود

30؍جون 2021ء بمطابق ۱۹ ؍ذیقعدہ ۱۴۴۲ھ بروز بدھ عین دوپہر کے وقت جب نصف النہار کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، اس وقت علم و عمل کا ایک تاب ناک آفتاب غروب ہورہا تھا، یعنی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے رئیس و شیخ الحدیث ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اتحاد تنظیمات مدارس کے صدر، اقرأ روضۃ الاطفال کے صدر، حضرت علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی تمام نسبتوں کے امین ، سراپا شفقت و محبت ، مجسم علم و عمل، پیکر تواضع حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔

حضرت ڈاکٹر صاحبؒ علم کی آبرو تھے، ان کی زندگی لوگوں کے لیے مینارۂ نور تھی، ان کا وجود مدارس اور اہل مدارس کے لیے وقار کا باعث تھا، ان کے دم قدم سے اصلاح و ارشاد کی شمعیں روشن اور تربیت کی محفلیں آباد تھیں، شکستہ اور مجروح دل ان کے انفاس سے مرہم پاتے اور بے کس و درماندہ افراد ان کے سایۂ عاطفت میں پناہ لیتے ، وہ زندگی بھر شمع کی مانند خود پگھلتے رہے ،مگر دوسروں کو روشنی بخشتے رہے، خود جلتے رہے، مگر دوسروں کو جلا بخشتے رہے۔

حضرت ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بڑی جامعیت سے نوازا تھا۔آپ کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے ظاہری و باطنی کمالات کے اتنے متنوع پہلو رکھے تھے اور ہر پہلو اتنا کمال رکھتا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ان اوصاف میں کلیدی حیثیت کس کو حاصل ہے، لیکن شفقت و محبت اور شرافت و نجابت کو آپ کے اوصاف میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام حاصل ہے، ان سب اوصاف و کمالات کے باوجود تواضع اور عاجزی بھی آپ میں حد درجہ پائی جاتی تھی، خود نمائی اور خود ستائش سے کوسوں دور تھے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو محبوبیت سے بھی خوب نوازا تھا، اور دنیا آپ کی معترف تھی، اسی محبوبیت کی بناء پر آپ کی مقناطیسی شخصیت نے ایک عالم کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا اور ایک دنیا آپ کی دیوانی تھی جس کا عظیم الشان مظاہرہ آپ کے جنازے کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒکے لیے ایک مضمون میں لکھا تھا:’’ہمارے شیخ چلے گئے ، لیکن آہ ملت کا صبر و سکون بھی ساتھ لے گئے۔ آج کون اشکبار نہیں؟ کون دل فگار نہیں؟ مدرسہ میں کہرام ہے کہ اس کے محبوب بانی چپکے سے چلے گئے، دار الحدیث کے در و دیوار پکار رہے ہیں کہ شیخ بنوری ؒکے لحن میں قال قال رسول اللہ ﷺ کی جو سحر آفریں آواز تھی ، بند ہوگئی۔ ’’مجلس تحفظ ختم نبوت ‘‘اپنی یتیمی پر نوحہ کناں ہے کہ اس کے امیر و قافلہ سالار بچھڑ گئے۔ مدارس عربیہ کی تنظیم ’’وفاق المدارس‘‘ میں گھر گھر ماتم ہے کہ اس کے بانی و صدر رخصت ہوگئے، اسلامی نظریاتی کونسل پر سکوت مرگ طاری ہے کہ اس کی روح نکل گئی۔ اہل قلوب مضطرب ہیں کہ ’’جو بیچتے تھے دوائے دل …وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘‘

اہل نظر تصویر حیرت ہیں کہ متاع دین و دانش لٹ گئی، علما مبہوت ہیں کہ علم و فقاہت کی بساط الٹ گئی۔ دانشوروں کو غم ہے کہ فضیلت و سیادت کی مسند خالی ہوگئی۔ اہل حق سراسیمہ ہیں کہ ان کی ڈھال چھن گئی۔ یتیموں اور بے کسوں کو صدمہ ہے کہ ان کا مشفق و مربّی اٹھ گیا۔ عالم اسلام مغموم ہے کہ ملت ایک دیدہ ور رہنما سے محروم ہوگئی۔‘‘ (شخصیات و تاثرات، جلد ۱، ص ۱۵)

حضرت لدھیانویؒ نے یہ الفاظ اگر چہ حضرت بنوری ؒ کے لیے تحریر فرمائے ہیں، مگر جو شخصیت حضرت بنوری کی نسبتوں کی جامع ہے اور حضرت ہی کے تربیت یافتہ ہیں (حضرت ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رحمہ اللہ) بار بار یہ الفاظ پڑھتے ، ایک ایک حرف ان پر صادق آرہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ الفاظ ہمارے حضرت ڈاکٹر صاحب کے لیے ہی لکھے گئے ہیں اور ان کا ہی مرثبہ بڑھا جارہا ہے ۔ کیوں نہ ہو کہ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اپنے شیخ کے رنگ میں رنگے جاچکے تھے او رایک جان دو قالب کا مصداق بن چکے تھے، حضرت بنوری ؒ کی زندگی کا ایک ایک عکس حضرت ڈاکٹر صاحب ؒکی شخصیت میں جھلکتا تھا۔

خاندان ، پیدائش: …حضرت ڈاکٹر عبد الرزاق صاحب 1935ء میں ضلع ایبٹ آباد کے گائوں کوکل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم سکندر خان ولد زمان خان صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے، آپ باقاعدہ عالم تو نہیں تھے، لیکن علماء کی صحبت میں بیٹھتے اور ان سے دین کی باتیں سن سن کر معلومات اتنی مستحضر تھیں کہ بہت سے علماء آپ سے محتاط انداز سے گفتگو کرتے ، کیوں کہ غلط بات پر آپ ٹوک دیا کرتے تھے، آپ بڑے وجیہہ اور سمجھدار تھے ، گائوں کے لوگ آپ کے پاس اپنے معاملات لے کر آتے اور آپ کے فیصلوں سے مطمئن ہوکر جاتے نماز باجماعت کی پابندی ، تلاوت قرآن مجید ، ذکرِ الٰہی ، صلہ رحمی، اصلاح ذات البین ، رافت و شفقت اور ضعفاء کی خبر گیری ان کے خصوصی اوصاف تھے، مسجد کی خدمت و تعمیر سے بہت شغف تھا۔

تعلیم:…ڈاکٹر صاحب نے حسب معمول گائوں میں ہی قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی،اس کے بعد میٹرک تک اسکول کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، ہری پور کے مدرسہ دا ر العلوم چوہڑ شریف میں آپ نے دو سال تعلیم حاصل کی اور دو سال احمد المدارس سکندر پور میں پڑھا، اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے 1952ء میں کراچی تشریف لائے اور دار العلوم نانک واڑہ میں داخلہ لیا، اس وقت کراچی میں یہی ایک بڑا مدرسہ تھا، جہاں مفتی شفیع صاحبؒ کے علاوہ مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، مولانا بدیع الزماںؒ، مولانا سبحان محمودؒ اور دیگر بڑے اساتذہ کرام پڑھایا کرتے تھے، درجہ رابعہ سے سادسہ تک کی کتابیں آپ نے اسی دار العلوم نانک واڑہ میں پڑھیں۔ 1955ء میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں درجہ سابعہ میں داخلہ لیا جو اس وقت مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔1956ء میں آپ نے جامعہ علوم اسلامیہ (مدرسہ عربیہ اسلامیہ) سے سند فراغت حاصل کی۔

حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا عبد الحق نافعؒ،مولانا لطف اللہؒ، مولانا عبد الرشید نعمانیؒ، مولانا سبحان محمودؒ، مولانا مفتی ولی حسنؒ، مولانا بدیع الزماںؒ جیسے اکابر علماء آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔1962ء میں آپ اپنے شیخ حضرت بنوریؒ کے حکم پر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور چار سال وہاں تعلیم حاصل کی۔ اسی مدینہ منورہ کی تعلیم کے دوران آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

ایک مرتبہ مصر کی المجلس الاعلیٰ بشئون الاسلامیہکے رئیس پاکستان تشریف لائے ، مختلف مدارس کا دورہ کیا ، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن بھی تشریف لائے، مدرسہ کا معائنہ کیا ،مختلف شعبہ جات دیکھے ۔ معائنہ کے دوران ڈاکٹر صاحب متکلم کے فرائض انجام دے رہے تھے اور طلبا و اساتذہ کے اجتماع میں کلمات ترحیب اور خطبہ استقبالیہ بھی ڈاکٹر صاحب نے ہی پیش کیا۔ وہ جامعہ کی کارکردگی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے بھی بہت متأثر ہوئے اور اپنے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا کہ میں حکومت مصر اور اپنے ادارے کی طرف سے اس جامعہ کے لیے چار طلباء کو جامعہ ازہر میں پی ایچ ڈی میں داخلے کی منظوری دیتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان میں پہلا داخلہ استاد عبدالرزاق کا ہوگا اور یہ بھی کہا کہ ہم داخلہ دیتے ہیں، لیکن ہمارا طریقۂ کار یہ ہے کہ طالب علم اپنا ٹکٹ خود خریدتا ہے لیکن ہم خاص طور پر دو ٹکٹ بھیجیں گے ،ایک استاد عبدالرزاق کے لیے دوسرا حضرت بنوریؒ کے لیے یہ ان کے ساتھ خصوصی معاملہ ہے۔ اس طرح 1972میں حضرت بنوریؒ خود حضرت ڈاکٹر صاحب کو مصر لے کر گئے اور مشفق والد کی طرح آپ کا وہاں داخلہ کروا کر آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے چار سال وہاں تعلیم حاصل کی اور ’’عبداﷲ بن مسعودؓ امام الفقہ العراقی‘‘ کے عنوان سے مقالہ تحریر فرمایا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

تدریس:…حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ ابھی دورۂ حدیث سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ حضرت بنوری قدس سرہ نے آپ کا جامعہ میں بحیثیت مدرس تقرر کردیا۔ اس وقت سے آخر دم تک جامعہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ درمیان میں مدینہ یونیورسٹی اور جامعہ ازہر میں تعلیم کے حصول کے لیے تشریف لے گئے ،وہ بھی اپنے شیخ اور استاد کے حکم پر۔ گویا اس دوران جامعہ سے چھٹی لے کر گئے اور وہاں سے فارغ ہوتے ہی دوبارہ جامعہ تشریف لے آئے اور جامعہ سے اور اپنے شیخ سے وفا نبھانے کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

حضرت بنوریؒ سے تعلق:…محدّث العصر حضرت بنوری ؒسے ڈاکٹر صاحبؒ کو انتہائی والہانہ تعلق تھا جو آپ کے دار العلوم نانک واڑہ میں دور طالب علمی سے شروع ہوا تھا اور آخر وقت تک رہا ،بلکہ ہر گزرنے والا لمحہ اس تعلق میں اضافہ ہی کرتا رہا۔ سفر و حضر میں حضرت کی خدمت کرنا اور ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہنا آپ کا معمول تھا۔ یہ تعلق کس طرح پیدا ہوا خود ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں پڑھیے:’’حضرت بنوری رحمۃ اللہ کے وفات سے تقریباً ۲۵، ۲۶ سال پہلے کی بات ہے ، میں ان دنوں دار العلوم نانک واڑہ کراچی میں زیر تعلیم تھا، دار العلوم میں ایک جلسہ ہوا، جس میں بہت سی بزرگ علمی شخصیات کا اجتماع ہوا، جن میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ، حضرت مولانا مفتی ولی حسنؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ جیسے حضرات تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک بزرگ تشریف لائے، خوبصورت اور نورانی چہرہ، نہایت با رعب اور پرکشش شخصیت، خوبصورت اور صاف ستھرا جبہ زیب تن، سر پر عمامہ اور کلاہ پہنے، سب حضرات نے اٹھ کر ان کا پرتپاک استقبال فرمایا، یہ تھے حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒاور یہ میرے لیے آپ کی زیارت کا پہلا موقع تھا، اور اسی زیارت سے آپ سے قلبی تعلق قائم ہوگیا، اس کے بعد محترم مولانا محمد طاسین صاحب کی قیام گاہ مجلس علمی میں کئی بار زیارت کا شرف حاصل ہوتا رہا، اور جب آپ نے محرم ۱۳۷۴ھ میں مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹائون کی بنیاد ڈالی تو انہی دنوں سعودی عرب کے سابق سفیر مرحوم شیخ عبد الحمید الخطیب نے جامع مسجد نیو ٹائون میں عشاء کے بعد ’’عربی کلاس‘‘ کا افتتاح کیا، اور میرے استاد محترم مرحوم ڈاکٹر امین مصری نے اس مرکز میں تدریس کا فرض میرے سپرد کیا، میں روزانہ دار العلوم نانک واڑہ سے اس مرکز میں عربی پڑھانے آتا اور یہاں سے فارغ ہوکر حضرت کی خدمت میں حاضری دیتا، نہایت شفقت فرماتے ، میں عرض کرتا کہ حضرت آپ درجہ تکمیل کے ساتھ دورہ حدیث اور موقوف علیہ کا درجہ بھی جاری فرمائیں، تاکہ ہم لوگ بھی داخلہ لے سکیں۔ (اس وقت تک حضرت کے مدرسے میں صرف درجہ تکمیل کا اجراء ہوا تھا)۔ تو فرماتے کہ اِن شاء اللہ! جلد ہی شروع کریں گے، چنانچہ یہ عربی مرکز تقریباً ایک سال تک اس قرب کا ذریعہ بنا رہا۔

پھر ایک سال بعد جب آ پ نے دورہ حدیث اور موقوف علیہ کے درجے کا افتتاح فرمایا اور یہ خادم بھی مدرسہ میں منتقل ہوگیا تو ہر وقت شیخ کو دیکھنے، سننے اور علمی استفادہ کا موقع مل گیا، نماز میں آپ کے ساتھ رہتا، عصر کے بعد اساتذہ کے ساتھ مجلس فرماتے تو میں آپ کی مجلس کو ترجیح دیتا، جب کہ میرے ساتھی ٹہلنے کے لیے باہر نکل جاتے یا کبھی کسی دوست کے ہاں تشریف لے جاتے تو خادم ساتھ ہوتا، جب آپ کے گھر والے ٹنڈو الٰہ یار سے منتقل ہوکر کراچی آگئے تو گھر کی ضروریات اورخریدداری کے لیے آپ ہفتے میں ایک بار بازار خود تشریف لے جاتے، خادم بھی ساتھ ہوتا، کبھی تنہا مجھے بھیج دیتے، اس قرب اور شفقت کا یہ اثر تھا کہ باہر سے آنے والے ناواقف حضرات اس خادم کو آپ کے گھر کا ایک فرد سمجھتے۔

تعلیم کے دوران ایک دن بھی آپ کے درس سے غیر حاضر نہیں رہا، درجہ تکمیل و تخصص کے امتحان سے پہلے ہی آپ نے مجھے مدرسہ میں مدرس مقرر کرنے کا فیصلہ فرمالیا۔آپ کے ساتھ اندرون ملک، حرمین شریفین، مصر اور مشرقی افریقہ کے بہت سے سفر کرنے اور خدمت کا شرف نصیب ہوا، یہ تمام اُمور میں نے خود ستائی کے لیے نہیں، بلکہ یہ واضح کرنے کے لیے ذکر کیے ہیں کہ حضرت سے میرا کتنا گہرا اور تادیر تعلق رہا ہے۔‘‘(بینات حضرت بنوریؒ نمبر :ص ۴۱۰- ۴۱۱)حضرت ڈاکٹر صاحب ؒکا معمول تھا کہ عصر کی نماز سے ایک گھنٹہ قبل حضرت بنوریؒ کے در دولت پر حاضرہوجاتے،خاص انداز سے دستک دیتے، حضرت سمجھ جاتے کہ عبدالرزاق آیا ہے ، دروازہ حضرت خود کھولتے ، ڈاکٹر صاحب حضرت کی کتابیں صاف کرتے، کاغذات درست کرتے اور دیگر امور خدمت انجام دیتے ، یہ روز انہ کا معمول تھا۔

جامعہ ازہر مصر میں تو حضرت بنوریؒ اپنے ساتھ خودلے کر گئے اور آپ کا داخلہ کرایا، حضرت ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ1961 میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب فرمائی تو تمام مناسکِ حج حضرت بنوری رحمہ اللہ کی رہنمائی میں اداکیے اور حضرت نے بھی ہر چیز تفصیل سے سمجھائی اور سنن و مستحبات کے ساتھ عام آداب تک کی پابندی کرائی کہ یہ پہلا حج ہے اس لیے کوئی چیز چھوٹنے نہ پائے ۔ مطلب یہ ہے کہ تعلق دو طرفہ تھا حضرت بنوریؒ بھی آپ سے بہت محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔حضرت بنوریؒ کے وصال کے بہت عرصہ بعد تک حضرت ڈاکٹر صاحب کی کیفیت یہ رہی، جہاں حضرت بنوریؒ رحمہ اللہ کا تذکرہ آیا، آپ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پاتے اور آپ پر گریہ طاری ہوجاتا، آج بھی تذکرہ چھڑ جائے تو حضرت بنوریؒ کے واقعات بڑے شوق اور والہانہ انداز سے بیان کرتےنظر آتے۔

جامعہ علوم اسلامیہ سے تعلق:… پہلے تذکرہ آچکا ہے کہ نیوٹاؤن کی مسجد میںعربی کلاس پڑھانے کے دوران ہی مدرسہ عربیہ اسلامیہ (جامعہ علوم اسلامیہ) سے تعلق پیدا ہوچکا تھا، آپ کی خواہش اور بار بار کی درخواست پر موقوف علیہ اور دورۂ حدیث کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1955 میں آپ نے جامعہ میں داخلہ لیا ،اس دن سے آخری لمحات تک اسی ادارے سے وابستہ ہیں۔ 

درمیان میں بہت سی جگہوں سے پیش کش بھی ہوئی، مگر آپ نے جامعہ کے علاوہ کسی وسرے ادارے کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ آپ کا جامعہ سے تعلق ہی تھا کہ ابھی آپ تعلیم سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ کا بحیثیت مدرس تقرر ہوچکا تھا، مصر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرکے آپ جب تشریف لائے تو آپ کو جامعہ کا ناظم تعلیم مقرر کیا گیا۔ (…جاری ہے…)