• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والدین کو بھی قتل کردوں تو کیا پکڑا جاؤں  گا؟ میں امریکی شہری ہوں کیس نہیں بنے گا، ملزم ظاہر جعفر کی دوستوں سے گفتگو

کراچی(نیوز ڈیسک)سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کے قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔قریبی ذرائع کے مطابق ملزم نے ساری واردات منصوبہ بندی کے تحت کی اور واردات سے چند روز قبل ملزم نے دوستوں سے مشاورت بھی کی۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے دوستوں سے پوچھا کہ کسی کو قتل کردوں تو کیا پکڑا جاؤں گا؟ ملزم نے دوستوں سے کہا کہ امریکی شہری ہوں مجھ پر کیس نہیں بنے گا۔ قریبی ذرائع کے مطابق ملزم نے دوستوں سے کہاکہ اپنے والدین کو قتل کردوں تو کیا مجھے پکڑا جائے گا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے نور مقدم کو اپنے گھر بلایا اور اس کا فون بھی آف کرادیا، والدین نے نور مقدم کا فون آف ملنے پر اس کے دوستوں سے رابطہ کیا تو دوست ملزم کے گھرگئے لیکن ملزم نے نور کی موجودگی سے انکار کیا جس پر دوستوں اور ملزم ظاہر جعفر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ قریبی ذرائع کے مطابق نورمقدم کو ملزم تشدد کا نشانہ بناتا رہا تو نور نے فرار کی کوشش بھی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے منصوبہ بندی کی تھی کہ واردات کے بعد امریکا فرار ہوجاؤں گا اور ظاہرجعفر 2016 میں برطانیہ سے لڑکی پر حملے کے الزام میں ڈی پورٹ ہوا تھا۔ خیال رہے کہ 20 مئی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے نور کے دوست اور ظاہر جعفر کو گرفتار کیا ہے جو کہ ریمانڈ پر ہے۔ ملزم ظاہر ذاکر جعفر کی عدالت پیشی پر میڈیا سے گفتگو میں کہہ چکا ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں، پاکستان کا نہیں اور جوبھی ہے میرے وکیل آپ کو بتائیں گے۔

اہم خبریں سے مزید