• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معروف دُھنوں کے خالق، میوزک ڈائریکٹر، گلوکار، نوید ناشاد کی باتیں

بات چیت : عالیہ کاشف عظیمی

عکّاسی: اسرائیل انصاری

’’تن جُھوم جُھوم، مَن جُھوم جُھوم‘‘،’’جا تجھے معاف کیا ‘‘ اور ’’میرے پاس تم ہو ‘‘ جیسے درجنوں سُپرہٹ گیتوں کے کمپوزر، نوید ناشاد کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ فنِ موسیقی اُن کی میراث ہے اور وہ اس وَرثے کی بخوبی حفاظت بھی کررہےہیں۔ نوید ناشاد صرف کمپوزر ہی نہیں، میوزک ڈائریکٹر اور گلوکار بھی ہیں۔ ڈراموں کے او ایس ٹیز کے علاوہ متعدّد فلمی گیتوںں کی بھی دُھنیں ترتیب دے چُکے ہیں۔

لاہور کے رہایشی ہیں اور اکثر کام کے سلسلے میں کراچی بھی آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دِنوں کراچی آئے، تو اپنے مصروف شیڈول کے باوجود جنگ، سنڈے میگزین کے معروف سلسلے ’’کہی اَن کہی‘‘ کے لیے بھی وقت نکالا، تو لیجیے، اُن سے ہونے والی بات چیت کا احوال آپ کی نذر ہے۔

س: خاندان، ابتدائی تعلیم و تربیت سے متعلق کچھ بتائیں؟

ج: میرے والد واجد علی ناشاد 1953ء میں بھارت کے شہر، بمبئی میں پیدا ہوئے،وہ برِّصغیر پاک و ہند کے معروف فلم موسیقار شوکت علی ناشاد کے فرزند تھے۔ یاد رہے، میرے دادا، شوکت دہلوی کا نام ”ناشاد“ ،نخشب ؔصاحب نے رکھا تھا۔60ء کی دہائی میں دادا اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان کے شہر، کراچی منتقل ہوگئے، مگر پھر کچھ عرصے بعد لاہور میں سکونت اختیار کرلی۔

میری جائے پیدایش بھی لاہور ہی ہے اور اسی شہر سے ابتدائی تعلیم سے لے کر گریجویشن تک کے مراحل طے کیے، جب کہ موسیقی کی تعلیم ابّو اور چچا سےحاصل کی۔جب مَیں نے فنِ موسیقی میں قدم رکھا تو ابّو نے مجھ پر کڑی نظر رکھی۔ چوں کہ میرا زیادہ وقت ابّو کے ساتھ گزرا ہے،تو مجھ میں جو بھی خُوبیاں ہیں، وہ ان ہی کی تربیت کا نتیجہ ہیں۔

س: کتنے بہن بھائی ہیں، آپ کانمبر کون سا ہے، آپس میں کیسی دوستی ہے؟

ج: ہم چار بھائیوں کی ایک بہن ہے۔ مجھ سے بڑے دو بھائی ہیں۔ تیسرے نمبر پر مَیں ہوں، میرے بعد بہن اور پھر سب سے چھوٹا بھائی ہے۔ایک بھائی وصی ناشاد اور بہن اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ بیرونِ مُلک مقیم ہیں۔ یوں تو ہم سب میں اچھی دوستی ہے، لیکن وصی اور بہن سے میری زیادہ بنتی ہے۔ اگر کبھی کسی معاملے میں کوئی مشورہ کرنا ہو تو ان ہی سے کرتا ہوں۔

موسیقی میرا اوڑھنا بچھونا ہے
راحت فتح علی خان کے ساتھ خوش گوار موڈ میں

س: بچپن کی کچھ باتیں، یادیں ذہن کی اسکرین پر محفوظ ہیں؟

ج: مَیں بچپن میں بہت زیادہ شرارتی تھا ،تو اکثر شرارتوں پر والدین سے، خاص طور پر ابّو سے مار بھی پڑجاتی تھی، مگر کبھی پڑھائی کے معاملے میں مار نہیں پڑی۔ مَیں لڑاکا بہت تھا اور کرکٹ کھیلنے کا شوقین بھی تھا، لیکن مَیں نے اپنا بچپن بہت سادہ گزارا اور اب بھی سادگی پسند کرتا ہوں۔

س: موسیقی کی تربیت کن کن اساتذہ سے حاصل کی؟

ج: مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے استاد میرے ابّو اور چچا تھےاور مجھے کسی اور سے موسیقی کی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

س: 2018ء میں والد کے انتقال کے بعد سخت حالات کا سامنا کیا،ہمارے ارد گرد بھی کئی ایسے افراد موجود ہیں، جونامساعد حالات سے دوچار ہیں، توان کے لیے اپنے تجربات شئیر کریں گے کہ آپ نے خود کوکیسے زندگی کے طرف لوٹنے کے لیے حوصلہ، دلاسا دیا؟

ج: مَیں والد کے ساتھ اُن کے سائے کی طرح رہتا تھا۔ اُن کے انتقال کے بعد لگتا تھا کہ اب دُنیا میں کچھ نہیں رہا، مگر پھر ابّو ہی کی خواہش کہ ’’اُن کا بیٹا، ان کا نام روشن کرے‘‘، پوری کرنے کے لیے ہمّت سے کام لیا اور نامساعد حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ 

یہ سچ ہے کہ مَیں نے زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے، زمانے کی گرم، سرد ہواؤں کا سامنا کیا، لیکن کبھی محنت سے جی نہیں چُرایا،کسی کے آگے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا، اپنے کام پر فوکس رکھا اور موسیقی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری کوششیں قبول فرمائیں اور اس مقام تک پہنچا دیا۔ مَیں ہر ایک سے یہی کہوں گا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ہمّت اور محنت کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔

موسیقی میرا اوڑھنا بچھونا ہے
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

س: پہلا او ایس ٹی کون سا تھا اور یہ موقع کیسے ملا،اب تک کتنے اویس ٹیز اور فلمی گیتوں کی دُھنیں تخلیق کرچُکے ہیں؟

ج: مَیں نے 13سال کی عُمر میں فلم’’بیٹا‘‘ کے لیے پہلا گانا گایا تھا، جب ابّو حیات تھے اور میں آٹھویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ مَیں دسویں جماعت میں دو پرچوں میں فیل بھی ہوا، مگر موسیقی سیکھنے کا عمل جاری رکھا۔ ابتدا میں ابّو کے ساتھ کام کیا، تو وہ مجھے500روپے ماہانہ دیتے تھے۔ بعد ازاں، ڈائریکٹر سیّد فیصل بخاری نے اپنے ڈرامے ’’کالی گھٹائیں‘‘ میں موقع دیا اور تب سے لے کر اب تک تقریباً 100 دُھنیں ترتیب دے چُکا ہوں، جن میں60,50 ڈراموں کے اوریجنل ساؤنڈ ٹریکس ہیں۔

باقی فلمی گیتوں، ویب سیریز اور اشتہارات کی دُھنیں وغیرہ ہیں۔ ویسے میرے فلمی گیتوں کی نسبت ڈراموں کےاو ایس ٹی خاصے مقبول ہوئے ہیں۔ ان ڈراموں میں سُن یارا، الف اللہ اور انسان، عشق تماشا، سلسلے، دے اجازت، سُنو چندا (سیزن ون، ٹو)، دو بول، میرے پاس تم ہو، خدا اور محبّت، مشک،تعبیر، ایک تھی رانیہ، ٹھیس اور آدھی گواہی جیسے مقبول ڈراموں کے او ایس ٹیز شامل ہیں۔

س: فیلڈ میں آنے کے بعد کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: میرا تعلق ایک نامی گرامی موسیقار گھرانے سے ہے، تو فیلڈ میں آنے کے بعد نہ صرف ذمّے داریاں بڑھ گئیں، بلکہ خاصی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ لوگ آپ کو آپ کی فیملی کی بنیاد پر پرکھتے ہیں اور یہ میری خوش قسمتی ہی ہے کہ میرا ایک کے بعد ایک گانا مقبول ہوتا چلا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فیلڈ میں میرے لیے الگ جگہ بنادی ہے، جس پر مَیں ربّ کا بے حد شُکر گزار ہوں۔

س: آپ کو ٹی وی ڈراموں کےٹائٹل سونگز کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے، تو کیا ایسی موسیقی کسی خاص کیفیت کے زیرِ اثر تخلیق پاتی ہے؟

ج: مَیں نے کبھی خود کو اس قابل نہیں سمجھا۔ مَیں اکثر یہی کہتا ہوں کہ مجھ پراللہ کا کرم ، میرا اپنا کوئی کمال نہیں۔ البتہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر گانے میں اپنا بیسٹ ہی پیش کروں۔ یہ اور بات ہے کہ مَیں کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ مجھے ہر بار لگتا ہے کہ میری تخلیق کردہ دُھن میں کوئی نہ کوئی کمی رہ گئی ہے، لہٰذا پھر اگلے پراجیکٹ پر مزید محنت کرتا ہوں۔ویسے جب تک گانا آن ایئر نہیں ہو جاتا، مَیں اس میںکچھ نہ کچھ تبدیلی کرتا ہی رہتا ہوں۔

س: موسیقی ترتیب دیتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے،ایک او ایس ٹی کی دُھن کتنے دِنوں میں تخلیق کرلیتے ہیں؟

ج: میری نظر میں گانے کے بول اور ڈرامے کی کہانی کا ہم آہنگ ہونا ازحد ضروری ہے۔ مَیں صرف کمپوزر ہی نہیں ، میوزک ڈائریکٹر بھی ہوں، توجب تک دُھن سے مطمئن نہیں ہوجاتا، اس پر کام کرتا رہتا ہوں۔ چاہے جتنا وقت لگ جائے۔ جن دِنوں ڈراما ’’میرے پاس تم ہو ‘‘کی دُھن تیار کرہا تھا،تو مَیں نے خود پردانش کا کردار اتنا طاری کرلیا تھا کہ کبھی کبھی لگتا تھا کہ مَیں نوید نہیں، دانش ہوں۔اورشاید اسی لیے وہ گانا اس قدرمقبول ہوا۔

س: والد واجد علی ناشاد نے آپ کی فنی تربیت کے لیے کوئی خاص طریقہ اپنایا تھا؟

ج: والدکو جب امّی کی زبانی پتا چلا کہ مَیں باقاعدہ طور پر موسیقی سیکھنا چاہتا ہوں، تو انہوں نے مجھے بلا کر کہا،’’بیٹا! اس فیلڈ میں صرف نصیب چلتا ہے، اب بھی وقت ہے، اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔‘‘مگرجب ابّو نے دیکھا کہ مجھے موسیقی سیکھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے، پھر انہوں نے اپنی شاگردی میں لےلیا۔ ابتدا میں بنیادی باتیں، راگ وغیرہ سکھائے اور ساتھ ہی انگریزی ،اُردو اخبارات تھما دئیے کہ انہیں نان اسٹاپ طرز یا لےمیں پڑھوں۔ اصل میں اس طرح مشکل سے مشکل لفظ کی بھی لے بن جاتی ہے اور ردھم پیدا ہوتا ہے۔

س: ان دِنوں کیا مصروفیات ہیں، کس نئے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟

ج: اس وقت کئی ڈراموں اور فلموں کے لیےکام کررہا ہوں۔ ان میں سے چند پراجیکٹ بیرونِ مُلک کے بھی ہیں، جو کووِڈ -19کی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں۔ تین چار فلمیں بھی ریلیز کی منتظر ہیں، جن کی موسیقی مَیں نے ترتیب دی۔جب کہ یو ٹیوب سونگز پر بھی کام جاری ہے۔

س: خو د کو پانچ سال بعد کہاں دیکھ رہے ہیں؟

ج: جس مقام تک اللہ لے جائے کہ مَیں منصوبہ بندی کاقائل نہیں۔

س: کیا پاکستانی موسیقی ترقی کا سفر طے کررہی ہے؟

ج: پاکستانی موسیقی تو اپنے آغاز ہی سے ترقّی کا سفر طے کر رہی ہے،اس پر تو زوال کبھی آیا ہی نہیں۔ اس وقت ایشیا میں بیسٹ صوفی میوزک پاکستان کا ہے اوراس فیلڈ میں عابدہ پروین، صنم ماروی، نصرت فتح علی خان وغیرہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ اسی طرح بیسٹ پاپ ایشین میوزک بھی ہمارے مُلک کا ہے۔ جب کہ پاکستانی ڈراموں کے اوریجنل ساؤنڈ ٹریکس سونگس کا معیار تو اتنا بُلند ہے کہ بھارتی ڈراموں کے گانوں سے موازنہ کیا ہی نہیں جاسکتا ۔

س: جدید تیکنیکس نے گانا گاناسہل کردیا ہے یا پھر اس کے نتیجے میں بے سُروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے؟

ج: یہ درست ہے کہ جدید تیکنیکس نے بہت کچھ سہل کردیا ہے، لیکن جدید آلات بھی دُھن اور آواز میں میں احساسات پیدا نہیں کرسکتے۔ تو جدید تیکنیکس کا سہارا لینے کے باوجود جو بے سُرا ہے، وہ بے سُرا ہی رہتا ہے۔

س: ہمارے مُلک میں موسیقی کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں؟

ج: مجھے تومستقبل اچھا ہی نظر آ رہا ہے۔ ہاں،مَیں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جو نئے تخلیق کار ہیں، جن پر اللہ کی کرم نوازی ہے، وہ مشکلات سے نہ گھبرائیں۔

س: آپ کو کون کون سے موسیقار پسند ہیں؟

ج: ہمارے یہاں سب ہی اچھا کام کر رہے ہیں۔ اگر کسی ایک کا نام لیا، تو باقی ناراض ہو جائیں گے۔ البتہ بھارتی موسیقاروں میں مجھے اے آر رحمان،شنکر ، احسان اور لوئے بھی بہت پسند ہیں۔

س: کس گلوکار کی آواز پسند ہے، کس کے ساتھ کام کرکے زیادہ مزہ آتا ہے؟

ج: راحت فتح علی خان، شفقت امانت، نبیل شوکت، علی ظفر، امیر علی، امانت علی اورحمیراچناکے ساتھ کام کرکے مزہ آیا۔ البتہ عابدہ پروین اور نصیبو لال کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ہے، دیکھیں کب پوری ہوتی ہے۔

س: پاکستانی موسیقاروں نے بھارت میں بھی اپنے ساز کا جادو جگایا، آپ بھی کسی پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟

ج: جی بالکل، مَیں چند ایک بھارتی پراجیکٹس پر بھی کام کررہا ہوں،مگر فی الحال پڑوسی مُلک کے حالات اور کووِڈ کی وجہ سے کام رُکا ہوا ہے۔

س: سُنا ہے، آپ اپنا چینل بنانے کے خواہش مند ہیں؟

ج: جی بالکل، مَیں اپنی میوزک کمپنی بنانے کا خواہش مند ہوں۔

س: لَو میرج کی یا ارینجڈ…اہلیہ، بچّوں سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج: 2019ء میں اہلِ خانہ کی مرضی سے شادی کی۔ اہلیہ نے ماسٹرز کیا ہوا ہے اور گھریلو خاتون ہیں۔ ہماری بہترین ذہنی ہم آہنگی ہے۔ ہماری ایک بیٹی وانیہ زہرا ہے،جس میں سب کی جان ہے۔

س: ستارہ کیا ہے، سال گرہ مناتے ہیں؟

ج: میں 25 ستمبر کو پیدا ہوا، اسٹار میزان ہے۔رہی بات سال گِرہ کی تو شادی کے بعد سے بیگم اہتمام سے مناتی ہیں۔اس سے پہلے کبھی نہیں منائی۔

س: شہرت ملی تو نجی زندگی میں بھی کوئی تبدیلی آئی؟

ج: میں پہلے بھی نوید تھا، اب بھی نوید ہی ہوں۔ دراصل ہمارے خاندان میں شہرت گھر کی باندی تصوّر کی جاتی ہے، تو شہرت نے مجھے عاجز ہی رکھا۔

س: کسی سیاسی شخصیت سے متاثر ہیں،اگر ہیں،تو کیوں؟

ج: مَیں کسی سیاسی شخصیت سے متاثر نہیں ،کیوںکہ وہ اپنا کام کررہے ہیں اورمَیں اپنا کام کر رہا ہوں۔

س: کوئی ایسا لمحہ، جب کسی نے آگے بڑھ کر آپ کی مدد کی ہو؟

ج: سیّد فیصل بخاری، سہیل افتخارخان اور احسن طالش میرے محسن ہیں، جب کہ دانش نواز سمیت کئی اور بھی ڈائریکٹرز میرے بہت اچھے دوست ہیں۔

س: کس بات پر غصّہ آتا ہے؟

ج: مجھے زیادہ ترخود پر ہی غصّہ آتا ہے، کیوں کہ جب مَیںکوئی کام کرنا چاہ رہا ہوں اور کسی بھی وجہ سے نہ ہو پائے، تو دوسروں کا بھی غصّہ خود پر اُتار لیتا ہوں۔ جیسےکبھی موبائل توڑ دیا، تو کبھی ایل ای ڈی۔ اب تک اپنے 4 ،5 موبائلز،2،3ایل ای ڈیز اور دو گاڑیوں کے شیشے توڑ چُکا ہوں۔

س: کوئی ادھوری خواہش، دِل میں خلش تو نہیں ہے؟

ج: میرے والد صاحب میری کام یابی نہیں دیکھ سکے۔ آج پیسوں کی فراوانی ہے، عزّت ہے، شہرت بھی ہے، مگر باپ کی طرح کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کہاں جا رہے ہو، کب آئو گے، کس سے ملو گے۔ میرے ابّو میرے دوست تھے ۔مجھے ان کے چھوٹے، بڑے کام کر کے خوشی ملتی تھی ۔مَیں انہیں کپڑے استری کرکے دیتا ، بوٹ پالش کرتا۔ پوری طرح کوشش کرتا کہ اُن کا ہر طرح سے خیال رکھوں۔

س: اپنے مُلک سے متعلق کیا کہنا چاہیں گے؟

ج: پاکستان زندہ باد۔

س: آپ کی کوئی انفرادیت،اپنی شخصیت کو کس طرح بیان کریں گے؟

ج: مَیں بہت سادہ دِل اورصاف گو ہوں۔

سنڈے میگزین سے مزید