• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

افغان مشیر سے ملاقات: نیا سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا

25جولائی2021ء کے انتخابات میں آزاد جموں کشمیر کے تین وزراء اعظم ،ایک صدر اور ایک اسپیکر کامیاب قرار پائے ہیں مگر پاکستان مسلم لیگ نون کی مرکزی نائب صدر مریم نواز جو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کامیاب انتخابی مہم ،جلسوں میں جارحا نہ طرز خطابت پر ووٹروں کے خوبصورت والہانہ رسپانس پر سمجھ رہی تھیں کہ پاکستان مسلم لیگ نون انتخابات جیت نہ سکی تو اسے بدترین شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ 

مگر کیا کریں؟ پی ٹی آئی کی 25 سے زائد نشستوں کے مقابلے میں نون لیگ صرف چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، پیپلز پارٹی کی کامیابی کا گراف بھی نون لیگ سے بہتر رہا ،آزادی کے کئی برس تک آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھاری اکثریت سے موجود رہنے والی آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان بھی اکیلے ہی کامیاب ہو سکے،سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ روایت ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں تو وہی پارٹی کامیاب ہوتی ہے جو وفاق میں برسر اقتدار ہو ، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی 12 نشستیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں پھیلی ہوئی ہیں ان پر بھی اکثر انہی سیاسی پارٹیوں کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں جو اقتدار میں ہوتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی اگرچہ آزاد جموں و کشمیر کا قانون ساز اسمبلی کے انتخابات بھی پاکستان مسلم لیگ نون سے بہتر پوزیشن میں ہے مگر اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ ہمارے امیدوار کامیاب ہو رہے تھے مگر نتیجہ اس کے برعکس سامنے آیا، ہم جائزہ لیں گے اور پھر فیصلہ میدان میں ہوگا۔ 

دوسری طرف تمام تر پابندیوں کے باوجود تین بار وزیر اعظم رہنے والے محمد نواز شریف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے گریز نہیں کرتے جو انہیں خود لندن بھیجنے والوں پر گراں گزرتی ہیں ،پی ڈی ایم کے قیام اور حکومت کے خلاف سیاسی قلابازیوں کے دوران نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ طرز تکلم اختیار کرکے اپنے کارکنوں کو تو خوش کر دیا مگر اسٹیبلشمنٹ اور ان کے سیاسی مخالفین انہیں اب ایک آنکھ دیکھنے کے لئے تیار نہیں ،ان کی خواہش ہے کہ نوازشریف کو لندن سے زبردستی واپس لاکر کرپشن کے الزام میں احتساب عدالت سے سنائی گئی قید کی سزا بھگتنے کے لیےکوٹ لکھپت جیل واپس بھیجا جائے۔ 

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد جن کی 1999ء تک نواز شریف سے قلبی سیاسی رفاقت موجود تھی نے اپنے ایک حالیہ خطاب کے دوران نواز شریف کی زندگی کی مکمل حفاظت کی ضمانت دیتے ہوئےانہیں ہر طرح کی سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ نواز شریف واپس آئیں جس طرح کی سکیورٹی پسند وہ فرمائیں گے انہیں حکومت کی طرف سے فراہم کر دی جائے گی ،مگر اپنے خطاب میں وزیر دا خلہ نے انہیں جیل سے باہر رکھنے کی پیشکش کرنے کی غلطی نہیں کی کیونکہ یہ ان کے بس میں نہیں، مخالفین کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس وقت تک وطن واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک وہ احتساب عدالت کی طرف سے سنائی گئی قید کی سزا معطل ہونے کی نوید نہیں سن لیتے۔

لندن میں قیام کے دوران نواز شریف سے افغان مشیر کی ملاقات ایک نئےسیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کر چکی ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مرکزی نائب صدر اپنے باپ کی افغان وفد سے ملاقات کو ہمسایہ ممالک سے پرامن تعلقات کی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہیں مگر حکومتی زعماء اسے ملک دشمنی قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جو پاکستان کے خلاف مغلظات بکتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہلکاروں سے بھی خفیہ ملاقات کا ایجنڈا رکھتا ہو نواز شریف ایسے لوگوں سے بھی ملاقات سے گریز نہیں کرتے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وزارت داخلہ یہ شیئر کرنا چاہیے کہ انہوں نے امر اللہ صالح اور حمد اللہ محب کے ساتھ کس ایشو پر گفتگو کی، ان دونوں کا افغان سرزمین سے کوئی تعلق نہیں ، یہ مخصوص مشن پر افغانستان آتے ہیں ،نواز شریف کو اپنی پارٹی کی" کچن کیبنٹ" کو اعتماد لیے بغیر ان سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی حکومت یہ بھی جاننا چاہتے ہے کہ یہ ملاقات کس ملک کی خواہش پر ہوئی اور اس میں حمد اللہ محب اور سعادت نادری نے نواز شریف سے باہمی دلچسپی کےکن امور پر تبادلہ خیال کیا؟

حکومتی ذعما ء کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغض رکھنے والے سابق وزیراعظم کو وطن دشمنی پر نہیں آنا چاہیے ایسی ملاقاتوں سے قبل پاکستانی سفارتخانے سے مشاورت کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔پاکستان دشمنوں سے ملاقاتوں سے تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ نواز شریف مودی کے ہاتھ مضبوط کرنے پر عمل پیرا ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کے دوران کشمیریوں کو آزاد وطن کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دے کر ان چند کشمیریوں کو خوش کردیا ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے ہی آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان "آزاد مملکت" کی حیثیت سے دیکھنے کے خواہاں ہیں ،شاید وہ کسی بڑی طاقت کے ایماء پر تہتر برس سے اس جدوجہد میں مصروف بھی ہیں، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سمیت قوم پرستی کے کئی دعویداروں کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنی قراردادوں میں صرف پاکستان یا بھارت سے الحاق کا حق دیا ہے ،استصواب رائے میں کشمیریوں کو مکمل آزاد رہنے کا آپشن بھی ہونا چاہیے آئے تاکہ کشمیری" آزاد اور خود مختار" قوم کی حثیت سے اپنے فیصلے خود کر سکیں۔ 

اپوزیشن جماعتیں بلاوجہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہے ہے ممکن ہے کہ 25 جولائی2021ء کے انتخابی نتائج میں پی ٹی آئی کی کی بڑی کامیابی ’’ خود مختار کشمیر ‘‘کے حامیوں کی ہی محنت کا نتیجہ ہو یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پہلے تو سندھ، بلوچستان اور کے پی کے لوگوں پر بھارتی ایجنٹوں کی حیثیت سے کام کرنے کا الزام ہے مگر آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پولنگ کے دوران پاکستان مسلم لیگ( ن) کے ایک امیدوار نے بھی یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر پولیس ہماری مخالفت کرتی ہے تو کیا ہم بھارت سے مدد مانگیں۔وزیر اعظم عمران کی جانب سے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امین گنڈا پور کے خلاف چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں کشمیر کی حکم عدولی "خود مختار" کشمیر کےفلسفے کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔

سیاسی فلاسفروں کا کہنا ہے کہ آزادی کے طویل جدوجہد اور خون کے نذرانے دینے کے عادی لوگوں کی عزت نفس مجروح کرنے سے گریز کرنا چاہیے ،افغانستان میں طویل خانہ جنگی دیسی کمیونسٹوں کی طرف سے مخالفین کی دل آزاری سے ہی شروع ہوئی تھی جو عالمی جنگ بن چکی ہے جب الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر کا داخلہ بند کر دیا تھا تو وزیر اعظم اس حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہے تھا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید