• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حرص اور ہوس انسان کو انسانیت سے گرا کر شیطانیت کے درجے تک پہنچا دیتی ہے اور جب انسان جنسی ہوس کا شکار ہوتا ہے، تو اس کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ جس پھول کو وہ اپنی ہوس کی آگ کو بجھانے کے لیے شیطانی عمل کرنے جارہا ہے، وہ معصوم سی کلی ہے، جس کو پامال کرنے سے اسے وقتی طور پر تو چند منٹ کی ہوس کی پیاس بجھے گی لیکن عمر بھر کی ندامت ذلت ،خواری اور جیل کی سلاخیں یا پھانسی کا تختہ اس کا مقدر ہوگا۔ 

اسی طرح کی ایک خون چکاں داستان باندھی کے قریب گاؤں عبدالخالق راجپر میں رقم ہوئی، جہاں چھ سالہ بچی سندھیا بھیل کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ۔اس سلسلے میں ایس ایس پی، امیر سعود مگسی نے جنگ کو بتایا کہ باندھی کےگاؤں عبدالخالق راجپر میں بھیل برادری کی شادی کی تقریب میں چھ سالہ بچی سندھیا اچانک غائب ہوگئی ،بعد ازاں تلاش کے بعد اس کی نعش قریبی گنے کے کھیت سے ملحقہ واٹر کورس سے ملی۔

ایس ایس پی کے مطابق ، واقعہ کی اطلاع پر انہوں نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا، خود جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ورثاء سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں ۲ملزم ساجن بھیل اور اس کے دوست نرمل کو گرفتار کیا گیا جبکہ ملزمان نے بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور راز کھلنے کے خوف سے اسے گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ادھر ملزم ساجن بھیل نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے رشتہ دار کی شادی میں آیا ہوا تھا، ایکو ساؤنڈ پر شادی کے شرکاء محو رقص تھے۔ 

اسی اثناء میں پانچ چھ سال کی لڑکی سندھو ناچتی ہوئی سامنے آئی مجھ پر شیطان کا غلبہ ہوگیا اور میں نے اپنے دوست نرمل کو اعتماد میں لیا اور شادی کے شرکاء جو ناچ گانے میں مشغول تھے، ہم نے ان کی بے خبری کا فائدہ اٹھایا اور بچی کو چیز دلانے کا لالچ دیا۔ اسے بہلا پھسلا کر گنے کے کھیت میں لے گئے اور دونوں نے بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا ۔ ملزمان کا کہنا تھا کہ اس دوران بچی بے ہوش ہوگئی اور ہمیں یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اگر بچی نے اپنے رشتہ داروں کو بتا دیا تو ان کی خیر نہیں اس لئے انہوں بچی کا گلہ گھونٹ کر مار دیا۔

ملزم ساجن کا کہنا تھا کہ سندھو کی عمر کچھ بھی نہیں تھی لیکن رقص کی محفل نے اس کے ذہن کو پراگندہ کر دیا اور پھر جلتی پر تیل کا کام اس کے دوست نرمل نے کیا جو خود بھی پہلے سے ہوس کا پجاری تھا اور اس ایک معصوم سی بچی دو بھیڑیوں کی ہوس کی نذر ہوگئی۔ تاہم ایس ایس پی امیر سعود مگسی کا کہنا تھا کہ پولیس نے تفتیش کے بعد ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی کے تواتر سے ہونے والے واقعات پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اس کی وجوہات کے سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں پھیلتی بے حیائی نے زنا کو عام کردیا ہے، فحش فلموں کے بعد اب ایک جانب انٹر نیٹ کے زریعہ دنیا بھر کی بےحیائی سمٹ کر آتش موبائل میں یکجا ہوگئی ہے جبکہ دوسری جانب قانون شہادت کے سقم کے باعث بھی ملزمان کو فائدہ مل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی برادری کے زنا کے ملزمان کے درمیان تصفیہ اب معمول کی بات بنتی جارہی ہے کیونکہ برادری کے افراد میں رشتہ داری بھی اثر انداز ہوتی ہے اور کمزور شہادتوں کے باعث اکثر ملزمان جو کہ پہلے ہی بیان میں عدالت کے سامنے جرم کا اقرار کرچکے ہوتے ہیں تاہم مضبوط گواہوں کے نہ ہونے یا کمزور گواہی کا فائدہ اٹھاکر باعزت بری یا معمولی سزا بھگت کر پھر نئے شکار کی تلاش میں دندناتے ہیں۔

سندھ میں پسند کی شادی کے بعد ہونے والی قتل وغارت گری کے واقعات نے سول سوسائٹی میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ اس سلسلے میں ممتاز قانون دان خادم حسین سومرو نے جنگ کو بتایا کہ نوجوان بچے اور بچیوں میں موبائل فون سے رابطے نے بے راہ روی کی نئی راہیں کھول دی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ جذبات میں ہونے والے عہد وپیمان جب معاشرے کی سردو گرم کے سامنے خش وخاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں تو نت نئی کہانیاں سامنے آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پسند کی شادی کرنے والا جوڑے یا تو ذات برادری کی انا کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور اکثر ہوتا تو یہ ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا دوچار ماہ بعد محبت کا بھوت اترتا ہے تو بات طلاق یا خلع تک پہنچتی ہے اس سلسلے میں قانون دان نعیم منگی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا پسند کی شادی سندھ کے معاشرے میں گالی بنتی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ صورت حال یہ ہے ماہانہ بنیاد پر ایک سو سے زائد خلع کے کیس کورٹوں میں رجسٹرڈ ہورہے ہیں اور ان سطور کے ضبط تحریر لانے کے وقت یہ خبر بھی آئی کہ دوڑ کی حدود میں رشتے کے تنازعے پر دو گروپوں میں مسلح تصادم فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی۔ پولیس کے مطابق پسند کی شادی کرنے پر مری برادری کے دوگروپوں کے درمیان تنازعہ جاری تھا تاہم آج ایک گروہ نے مخالفین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ 

زخمیوں میں غلام رضا اور سلطان مری شامل ہیں، زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، اس سلسلے میں رحم حسین مری کا کہنا تھا کہ پسند کی شادی کرنے پر مبینہ طور پر مخالفین نے میرے بھائیوں پر فائرنگ کی ہے تاہم سارے معاملہ میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ زیادتی کے واقعات ہوں یا پسند کی شادی قانون کے سقم کو دور کرنا وقت کی ضرورت ہے ورنہ اس طرح کے واقعات میڈیا کی زینت بنتے رہیں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید