• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ
بیچاری اس لئےکہ سب کا زور بیچاری اس ویکسین پرہی چلتا ہےاوراس کیلئے کسی مخصوص معاشرے کاہونا ضروری نہیں۔ ہاں اگر اس معاشرے میں مذہب کا تڑکا زیادہ لگا ہو تو کام زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ ویکسی نیشن کا موضوع آج ایک بار پھر زبان زد عام ہے ۔یہ بحث نئی ہے نہ پہلی دفعہ ہورہی ہے۔ پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں ایک مخصوص ذہنیت اس ویکسی نینش کے خلاف ہے ۔ یہ ذہنیت مذہبی بھی ہوسکتی ہے اور سیاسی بھی ۔ کہیں سیاست کا استعمال تو کہیں مذہب کا ۔ دوسری جنگ عظیم کےبعد روس اور امریکہ کےدرمیان سرد جنگ عروج پر تھی۔ اس دوران ڈاکٹرز کی ایک ٹیم نے پولیو کےخلاف ایک موثر ویکسین تیارکرلی۔ اس ٹیم میں ایک امریکی اور دو روسی ڈاکٹرز شامل تھے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم میں روسی ڈاکٹرز کی موجودگی نے امریکہ میں پولیوویکسین کومتنازع بنا دیا تو روس میں امریکی ڈاکٹر کے باعث ویکسین متنازع ہوگئی ۔ امریکہ میں نفرت سے بھری اس تحریک کی سربراہی کررہے تھے سینیٹر جوزف ماکارتی اور اس تحریک کو نام دیا گیا ماکارتی ازم ،سینیٹر ماکارتی نےبڑی کامیابی سے امریکی حب الوطنی کو کمیونزم سےنفرت سے جوڑ دیا ۔ جیولیس روزن برگ اور ایتھل روزن برگ کی افسوس ناک سزائے موت بھی اس تحریک کانتیجہ تھیں ۔ بیچاری ویکسین بھی اس کی زد میں آ گئی ۔ پولیو ویکسین روسی سازش قرار دے دی گئی ۔امریکی اخبارات میں پولیو ویکسی نیشن کےخلاف اشتہارات چھاپے گئےاور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ پولیو ویکسین ایک سازش ہے ۔اس سازش کے پیچھے روسی نژاد ڈاکٹرز کا تعین بھی کیا جاتا ۔ ثابت کرنےکی کوشش کی جاتی رہی کہ روسی ڈاکٹر پولیو کے قطروں کے ذریعے امریکیوں کی نسل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ پھر وہی ہوا جو نفرت پر مبنی انتہا پسند تحریکوں کے ساتھ ہوتا ہے ،شروع میں تو یہ نظریات بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں مگر وقت کےساتھ زیادہ دیر ٹھہر نہیں پاتے ۔کائنات کی سچائی بھی یہی ہے کہ منفی سوچ سے مثبت نتائج نہیں نکل سکتے ۔ کورونا وائرس کو امریکی اور یہودی سازش قرار دینے والے شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وائرس تو پہلی بار رپورٹ ہی چین میں ہوا جو پاکستان کا ہر دل العزیز دوست ملک ہے، پھر ویکسین کو امریکی اور یہودی سازش قراردیا گیا مگر سازش کہنے والے پھر بھول گئے کہ امریکہ اور اسرائیل پکڑ پکڑ کر اپنے شہریوں کو یہ ویکسین لگا رہے ہیں۔ اگر اس سازشی تھیوری کو سچ تسلیم کر بھی لیں تو اپنے پیارے دوست چین کی ویکسین لگوا کر امریکی اور یہودی سازش کوناکام بنادیں۔ دی اکانومنسٹ انٹیلیجنس نے حال ہی میں پاکستان کے ہیلتھ سیکٹر پر رپورٹ جاری کی ہے ۔ اس رپورٹ میں حیران کن اعداد وشمار ہیں۔ رپورٹ میں پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت اور درست تشخص پر سنجیدہ سوالات اٹھائےگئے ہیں ۔ یہ تو بات ہے ایک خوش قسمت شخص کی جو ہسپتال پہنچ گیا۔ سب سے بڑے شہر کراچی کی بات کر لیتے ہیں۔ یہاں ہسپتالوں کا حال یہ ہے کہ آپ جیب میں کروڑوں روپے رکھ کر ہسپتال کے دروازے پر اپنے پیاروں کو لےکر کھڑے رہتےہیں مگر جگہ کی کمی کے باعث ہسپتال مریض کو داخل نہیں کرتے ۔ اگر داخل کرلیا تو اے اکانومنسٹ کی رپورٹ کو خود ہی پڑھ لیں ۔ آپ کے آس پاس ایسے کئی گھرانے مل جائیں گے جنہوں نے اپنے پیاروں کے علاج پر ایک ایک کروڑ روپے بل دیا مگر واپسی میت کے ساتھ ہی ہوئی۔ اسرائیل میں سب سے زیادہ اموات اس شہر میں ہوئیں جہاں مذہب پر سخت نظریات رکھنے والے یہودی آباد تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کورونا ورونا کچھ نہیں۔ امریکامیں اس پادری کو بھی یاد رکھیے جو اس وائرس کو سازش اور جھوٹ قرار دیتا تھا اور بند چرچ میں تین سو افراد کی سروس کر ڈالی ۔ ذرا پڑھ لیجیے وہاں کیا حال ہوا اور بھارت تو آپ کے سامنے ہیں ۔ کمبھ کے میلے نے بھارت کو دنیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں صحت ایک لگژری سےکم نہیں۔ برائےمہربانی اس کا خیال رکھیے ۔ فیض نےنظم ” ہم جو تاریک راہوں پر مارے گئے “ ماکارتی ازم جیسے نفرت انگزیز نظریے کی بھینٹ چڑھنے والے امریکی جوڑے کیلئے کہی تھی ۔ پاکستان میں غلط علاج اور علاج کی سہولت نہ ملنے والے بھی ان ہی تاریک راہوں میں مرنے والے افراد ہیں ۔ تبدیلی یا چینج کو کسی معاشرے میں آسانی سے قبول نہیں کیاجاتا اور جس معاشرے میں انتہا پسند سوچ پہلے سےموجود ہو وہاں دروازے پر ہی بڑا بڑا لکھا ہوتاہے " آؤٹ آف بانڈ " یعنی برائےمہربانی دور رہیے ۔ یہاں اس طرح کی کسی چیز کی کوئی گنجائش نہیں مگر کیا تبدیلی کو کوئی روک سکا ہے ؟ شائد نہیں ۔ دریا کی طرح تبدیلی بھی اپناراستہ خود ہی بنالیتی ہے۔  
یورپ سے سے مزید